تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
سعودی ولی عہد کے دورے کے پاکستانی معیشت پر دور رس اثرات ہوں گے، اقتصادی ماہرین

سعودی ولی عہد کے دورے کے پاکستانی معیشت پر دور رس اثرات ہوں گے، اقتصادی ماہرین

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دو روزہ کامیاب دورے کے بعد پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافے کی امید ہو چلی ہے کہ سعودی عرب کے دورہ پاکستان میں مجموعی طور پر بیس ارب ڈالرز سے زائد کے معاہدے کئے گئے ہیں جن میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے ایک کوآرڈیشن کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جو فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ سعودی عرب کے ولی عہد نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں سعودی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور 2030ء تک پاکستان تیسری بڑی معیشت کے طور پر سامنے آئے گا۔سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو ٹیکسز میں ریلیف دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد کے دورے میں ایک اور بڑا اقدام سعودی عرب جانے والے تاجروں کو ویزا فیس میں رعایت دی گئی ہے جس میں وزٹ ویزا فیس اور بزنس ویزا فیس میں زبردست کمی کی گئی ہے اور ان کو سابقہ شرحوں پر واپس لایا گیا ہے۔ اس سے یقیناً تجارتی و صنعتی شعبے کو ریلیف ملے گا۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا ہے جس سے مستقبل قریب میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ سعودی عرب کے دورہ پاکستان میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو نئی ملازمتیں دینے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے جس پر آنے والے دنوں میں بڑی پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد کے دورے کی اہمیت اس وجہ سے زیادہ ہے کہ ان دنوں پاکستان کی معیشت اَن گنت مسائل سے دوچار ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے جس کو سہارا دینے کے لیے پاکستان نے کئی دوست ممالک سے مدد مانگی ہے۔ سعودی عرب نے اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کو تین ارب ڈالر دیئے ہیں جبکہ ادھار پر تیل دینے کی بھی یقین دہانی کرائی جس سے پاکستان کو تیل کے بل کی مد میں تین ارب ڈالر تک کی بچت ہوسکتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی حجم اگرچہ اب بھی بھارت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے تاہم اگر اس قسم کی پیش رفت ہوتی رہی تو عین ممکن ہے کہ آنے والے سالوں میں ہم تجارت میں بھی بھارت سے آگے نکل سکتے ہیں۔ سعودیوں کا بھارت پر جس طرح اعتماد ہے اور سعودی عرب کی تین سو سے زائد کمپنیاں اس وقت بھارت کے اشتراک سے کام کررہی ہیں، ایسا ہی سلسلہ پاکستان کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ پاکستان اگر اپنا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو خطے میں ہونے والی تبدیلی کے اثرات پاکستان کو سعودی عرب کے قریب لاسکتے ہیں جس سے ایک طرف تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوسکتے ہیں، دوسری طرف دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو بھی کئی گنا بڑھایا جاسکتا ہے جس کا فائدہ یقیناً پاکستانی معیشت کو ہوگا۔ اقتصادی ماہرین بھی سعودی عرب کے ولی عہد کے دورے کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کے اثرات دوررس ہوں گے۔ یہ دورہ شاید فوری طور پر بہت کم معاشی فوائد پاکستان کو دے مگر آنے والے سالوں میں اس دورے کے اثرات زیادہ نظر آئیں گے۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد کا دورہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب کچھ عرصے پہلے ہی اسلامی فوجی اتحاد کی قیادت سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے سنبھالی ہے لہٰذا ایسے میں سعودی ولی عہد کا دورہ اہمیت کا حامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک جب مغرب کے کچھ ممالک سعودی ولی عہد کی شخصیت پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں، ایسے میں پاکستان میں ان کا بھرپور استقبال اور اکیس توپوں کی سلامی سے ان ممالک کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ سعودی عرب ہمارے لیے ہر لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان، سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی حد تک بھی جاسکتا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اتنی بڑی سرمایہ کاری کے اعلان کے بعد آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی تیزی سے پیش رفت ہوگی اور پاکستان کو آئی ایم ایف کا پروگرام جلد حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اب امید ہوچلی ہے کہ پاکستانی معیشت جو اس وقت بحرانی صورت حال سے گزر رہی ہے، آنے والے دنوں میں اس میں بہتری آئے گی اور اپنے اہم مسائل جس میں خسارے میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانا شامل ہے، اس کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ تجارتی و صنعتی حلقے بھی سعودی عرب کے ولی عہد کے دورے کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات مزید بڑھ سکیں گے۔ فیڈریشن چیمبر آف کامرس کے سابق سینئر نائب صدر خالد تواب نے اخبار جہاں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی محاذ پر یہ کامیاب دورہ ہے جس کے اثرات دوررس ہوں گے۔ ان کے نزدیک جو معاہدے ہوئے ہیں، اس کے اثرات آنے میں وقت لگے گا مگر مجموعی طور پر اس دورے سے جو امیدیں کی جارہی تھیں، وہ پوری ہوئی ہیں۔ فیڈریشن چیمبر کے صدر کے نزدیک دورہ اچھا رہا اور اس سے غیرملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھے گا جس سے آنے والے دنوں میں کئی غیرملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں گے۔ کراچی چیمبر کے سابق صدر عبداللہ ذکی نے اخبار جہاں کے استفسار پر بتایا کہ معاہدے تو بیس ارب ڈالر کے ہوئے ہیں مگر ہر ماہ جس طرح اس میں اضافہ ہوگا، اس سے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس سرمایہ کاری کی مالیت چالیس ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے جو یقیناً پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے۔ بہرکیف مجموعی طور پر سعودی عرب کے ولی عہد کا یہ دورہ ملک کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا کیونکہ کسی بھی سعودی عرب کے ولی عہد کے دورے میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کبھی اس سے پہلے نہیں ہوا۔ اس دورے سے جو امیدیں وابستہ کی جارہی تھیں، وہ پوری ہوئی ہیں۔