تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019

پلوامہ حملہ اور ایک تلخ حقیقت

مقبوضہ کشمیر میں اونتی پورہ پلوامہ میں فوجی کانوائے پر خوفناک فدائی حملے نے بھارت کو نہ صرف ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ دنیا بھر کی حکومتوں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ ایک بار پھر جنوبی ایشیا کی طرف مرکوز کردی ہے۔ حملے میں سینٹرل ریزرو پولیس کے 49اہلکار مارے گئے اور اتنی ہی تعداد شدید زخمیوں کی بتائی جاتی ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری جیش محمد نامی عسکری تنظیم نے قبول کی، مگر حقیقت میں حملہ آور ایک مقامی بائیس سالہ نوجوان عادل احمد ڈار تھا۔ حملے کے فوراً بعد عادل احمد ڈار کا پہلے سے ریکارڈ کیا گیا پیغام جاری ہوا، جس میں یہ نوجوان نہایت جذباتی انداز میں ہتھیاروں کے درمیان کھڑے ہوکر بھارت کو للکار رہا تھا۔ اس کا چہرہ خوف اور خدشات سے عاری تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ وہ بہت مطمئن اورمسرور ہے۔ جیش محمد کا سربراہ کون ہے اور یہ تنظیم کیا ہے؟ اس سے قطع نظر، جان قربان کرنے والا نوجوان ایک مقامی کشمیری تھا جس پر درانداز کی اصطلاح بھی لاگو نہیں ہوسکتی۔ وہ اپنے گھر سے تھوڑی ہی مسافت پر ایک میزائل بن کر خود بھی اُڑ گیا اور اپنے ساتھ درجنوں فوجیوں کو بھی ہوائوں میں تحلیل کر گیا۔ وادی میں ہونے والے اس حملے کے بعد انتہا پسند ہندوئوں نے سرمائی دارالحکومت جموں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع کی۔ مسلمانوں کی املاک، کاروبار اور گھروں کو نذر آتش کیا گیا اور جابجا ان پر حملے کئے گئے۔ ہزاروں مسلمانوں نے مساجد میں پناہ لی جہاں رضاکار تنظیموں نے ان کی دیکھ بھال کا فریضہ انجام دیا۔ بھارت بھر میں کشمیر کے کاروباری طبقے اور طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہوٹلوں اور تعلیمی ہاسٹلز سے کشمیریوں کو بے دخل کرنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑا۔ یہاں تک کہ کشمیر کی سیاست میں ماضی حال اور مستقبل کے سیاسی حریفوں محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو ایک مشترکہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کرنا پڑا کہ بھارت بھر میں کشمیریوں کے خلاف معاندانہ کارروائیوں کا سلسلہ روکنے کی کوشش کریں۔ نریندر مودی نے کہا دہشت گرد یہ نہ بھولیں کہ انہوں نے مانیکرانیکا کی سرزمین پر حملہ کیا ہے۔ مانیکرانیکا کی اصطلاح مودی نے بہت سوچ سمجھ کر استعمال کی ہوگی۔ مانیکرانیکا ہندوستان کی جنگ آزادی کی اہم کردار لکشمی بائی ہیں جو جھانسی کی رانی کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ ریاست جھانسی کی رانی نے اپنے خاوند مہاراج گنگا کی موت کے بعد جہاں راجہ کے بھتیجے کی سازشوں کا مقابلہ کیا، وہیں انگریزوں کو بھی اقتدار پر قبضے سے دور رکھ کر خود تاج وتخت سنبھال لیا اور اس کے بعد رانی نے پہ در پہ کئی جنگوں میں انگریزوں کا مقابلہ کیا۔ ایک جنگ میں وہ زخمی ہو کرجنگل کی طرف نکل گئیں اور ایک بن باسی کو یہ وصیت کی کہ اس کی چتا کو گمنامی میں آگ لگائی جائے تاکہ انگریز اس کے مردہ وجود کو بھی نہ پاسکیں۔ یوں جھانسی کی رانی ہندوستان میں غیروں اور اپنوں کی سازشوں کے مقابل بہادری کا ایک استعارہ بن گئی، مگر لکشمی بائی انگریز کے خلاف جرأت اور بہادری کی واحد مثال نہیں تھی بلکہ اس طرح کی مزاحمت سلطان فتح علی المعروف ٹیپو سلطان اور خود مغلیہ سلطنت کے سربراہ بہادرشاہ ظفر نے بھی کی تھی۔ اول الذکر تو مزاحمت کرتے کرتے جان سے گزرگئے اور آخر الذکر کا مقدر رنگون کا عقوبت خانہ قرار پایا۔ نریندر مودی نے اگر بھارت کو جھانسی کی رانی کا ورثہ قرار دیا تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ پھر جھانسی کا تخت کہاں ہے؟ مطلب یہ ہوا کہ بھارت، کشمیر کو نہ پاکستان اور نہ کشمیریوں کے حوالے کرے گا۔ عادل احمد ڈار کا اگر جھانسی سے تعلق نہیں تو بھی وہ سلطان شہاب الدین کی سرزمین سے تعلق رکھتا ہے، جس نے اپنے وطن کی سرحدوں کو جرأت اور بہادری سے کشمیر کے پہاڑوں سے برصغیر کی وسعتوں تک دراز کیا تھا۔ اس کے بعد آج تک ایسے ہی کردار جابجا ملتے ہیں۔ ہر تہذیب کی ایک کہانی ہوتی ہے اور اس میں عروج وزوال پر مبنی کردار ہوتے ہیں۔ خود ایک بائیس سالہ لڑکا عادل احمد ڈار اپنے وجود کو میزائل بنا کر اور اس کے چیتھڑے اُڑا کر اپنی ذہنیت اور تہذیب کا تعارف کراتا ہے۔ پاکستان، بھارت اور کشمیر کے مسئلے کو تاریخ کی گہرائیوں اور علامتی اور فلسفیانہ دنیائوں میں لے جانے کا مطلب اسے مزید اُلجھانا ہے۔ اس کو اُلجھنے سے بچانے کے لئے اس کی 1947ء کے بعد کی تاریخ کو سامنے رکھنا ضروری ہے اور اسی تاریخ کے تناظر میں اس قضیے کو حل کیا جا سکتا ہے جب ہم کشمیر کے جنوبی ایشیا کے فلش پوائنٹ ہونے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے۔ یہ صرف پاکستان کی ناک اور انا کا سوال نہیں بلکہ کشمیریوں کی عزت، انا اور آزادی کا معاملہ بھی ہے۔ پاکستان اپنے طور پر بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے کئی تجربات کرچکا اور بھارت، کشمیریوں کے ساتھ دوطرفہ اصول کی بنیاد پر معاملات طے کرنے کی کوششیں کرچکا، مگر نتیجہ صفر کے سوا کچھ برآمد نہ ہوا۔ عادل احمد ڈار کی چھاتی پر کسی بھی تنظیم کا اسٹیکر ہو، مگر اس کا کشمیری ہونا، مقامی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کشمیر میں اگر اضطراب ہے تو کوئی وجہِ اضطراب بھی ہوگی۔ کوئی وجہ تو ہے کہ کئی پی ایچ ڈی اسکالر بندوق اُٹھا کر جان لڑا اور گنوا بیٹھے۔ پی ایچ ڈی اسکالر کسی کچے ذہن اور جذباتی روح کا نام نہیں، ایک محقق کا نام ہوتا ہے جس نے ٹھنڈے دل وماغ سے تحقیق کرکے ڈگری حاصل کی ہوتی ہے۔ ’’بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی‘‘ کے مصداق جھانسی کی رانی کی کہانی چھیڑے بغیر بھارت بس اس بات پر غور کرے تو سری نگر سے دہلی اور لاہور تک مائوں کے بین ہوں نہ گھر ماتم کدے بنیں۔ کسی کی آنکھوں سے خواب چھنیں نہ کوئی آنکھ بے نور ہو۔ جھانسی کی رانی، ٹیپو سلطان، سلطان شہاب الدین اور سلطان زین العابدین کی باتوں کو چھوڑ کر نہرو، جناح، ہری سنگھ، شیخ عبداللہ اور چوہدری غلام عباس کے دور میں رہ کر ہی اُلجھی ہوئی ڈور کا سرا تلاش کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات خود بھارت کے ذی ہوش لوگ بھی کر رہے ہیں۔ اونتی پور حملے کے بعد بھارتی اخبار’’ہندوستان ٹائمز‘‘ بھی اپنے اداریے Kashmir; The Centre must choose options carefully میں لکھتا ہے کہ ’’دہشت گردوں کا پیچھا ضرور کرنا چاہئے، مگر یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہئے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ ایسے میں صبر کرنا حد درجہ مشکل ہے، جب آپ کے فوجی اتنی بڑی تعداد میں مارے گئے ہوں مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دہشت گردی کے نہاں خانۂ دل میں سیاست ہی موجزن ہوتی ہے۔ بھارت ردعمل ظاہر کرے مگر یہ منحوس حقیقت یاد رکھے کہ یہ مقامی لوگ ہیں جو اپنے جسموں کو میزائل بنانے پر آمادہ ہوتے ہیں۔‘‘ وادی کشمیر کے عوام کے جذبات واحساسات ایک تلخ زمینی حقیقت ہیں اوربھارت اس حقیقت کا سامنا کرے تو جنوبی ایشیا کو لاحق اکہتر برس پرانا روگ چٹکی بجاتے ہی دور ہوسکتا ہے۔