تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
چینی صدر کی بزرگوں کے لئے عقیدت

چینی صدر کی بزرگوں کے لئے عقیدت

چینی صدر شی جن پنگ کی خاندانی زندگی کے بارے میں لوگ بہت دلچسپی لیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں چینی صدر کی سرکاری طور پر جاری کی گئی چند تصاویر ایسی ہیں جو سعادت مندی کے جذبات سے بھرپور ہیں۔ ان تصاویر میں صدر مملکت اپنے والدین کے ساتھ ان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چہل قدمی کر رہےتھے۔ خاندان کے حوالے سے چین کا روایتی تصور ہے کہ سب سے پہلے اپنے والدین سے محبت کرنا ہے، اس کے بعد تمام بزرگوں اور عوام سے محبت کرنا ہے۔ آج چینی معاشرے کو بزرگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کا مسئلہ درپیش ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2050ء تک چین میں معمر افراد کی تعداد 48 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی جو چین کی کل آبادی کے34.9 فیصد ہوگی۔ چین کے سب سے بڑے شہر شنگھائی کو سب سے پہلے معمر افرادکی زیادہ تعداد کا مسئلہ درپیش آیا۔ شہر کے ہونگ کھو علاقے میں بزرگوں کا تناسب 40 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ پچھلے سال نومبر میں صدر شی نے ہونگ کھو کی ایک گلی میں جاکر مقامی اولڈ ہوم میں بزرگوں کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بزرگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس مسئلے کو اچھی طرح حل کرنا عوام اور خاص کر بزرگوں کی خوشحالی سے قریبی تعلق رکھتا ہے۔ چینی حکومت بزرگوں کی دیکھ بھال، ان کی صحت کی ضمانت سمیت دیگر متعلقہ امور پر غور کر رہی ہے۔ صدر شی بزرگوں کی دیکھ بھال سے متعلق حکومت کی پالیسیوں کو صحیح معنوں میں عمل میں لانے پر بہت زور دیتے ہیں۔ حال ہی میں شنگھائی شہر کے ہونگ کھو علاقے میں بزرگوں کی دیکھ بھال سے متعلق تین سالہ منصوبہ مرتب کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق 2021ء تک ہونگ کھو علاقے میں کل ساٹھ اولڈ ہومز اور اپنے گھر میں رہنے والے بزرگوں کے لیے ایک سو کینٹین قائم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی دیکھ بھال کرنے والے 500 پیشہ ور ملازمین رکھے جائیں گے۔ گزشتہ دنوں چین کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں لالٹین فیسٹیول منایا گیا۔ خوبصورت برقی و منفرد انداز کے نت نئے لالٹینوں سے میلے سجائے گئے۔ چینی روایات کے مطابق لالٹین فیسٹیول کے سلسلے میں منعقدہ تقاریب میں رقص و موسیقی کی پرفارمنس بھی پیش کی جاتی ہیں۔ دنیا بھر سے سیاح لالٹین فیسٹیول کو دیکھنے کے لیے ہر سال چین کے مختلف شہروں کا رخ کرتے ہیں۔  گوانگ دونگ، ہانگ کانگ اور مکاو گریٹر بے ایریا کے منصوبے کے حوالے سے تشہیری اجلاس گزشتہ دنوں ہانگ کانگ میں منعقد ہوا۔ جس میں گریٹر بے ایریا کی تعمیر کے رہنما دفتر اور چین کی ترقی اور اصلاحات کی قومی کمیٹی کے متعلقہ اہلکاروں نے منصوبے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی۔ ہانگ کانگ میں گریٹر بے ایریا کے منصوبے کے حوالے سے تشہیری اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اجلاس میں ہانگ کانگ کی خصوصی انتظامی علاقہ کی چیف ایگزیکٹو محترمہ کیری لام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہانگ کانگ ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کی بنیادی پالیسی کے تحت اپنے ترجیحی وسائل کے سہارے گریٹر بے ایریا کی تعمیر میں ’’رابطہ کار‘‘ کے رول سے تبدیل ہوکر ’’شراکت دار‘‘ بن جائے گا۔ مستقبل میں ہانگ کانگ حکومت کے اہم کاموں میں بین الاقوامی سائنس اور ٹیکنالوجی کے جدت کاری مرکز کی تعمیر، گریٹر بے ایریا میں واقع شہروں کے درمیان کنیکٹوٹی کی مضبوطی، نوجوانوں کی جدید اور کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی وغیرہ شامل ہیں۔ گریٹر بے ایریا کی تعمیر کے رہنما دفتر کے نائب سربراہ لین نین شو نے اس موقع پر کہا کہ گریٹر بے ایریا کی تعمیر چار اصولوں کی روشنی میں کی جائے گی جن میں ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کی پالیسی پر عمل درآمد، آئین اور بنیادی قانون پر سختی سے عمل درآمد، مارکیٹ کے کردار کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لانا، عوام کے مفاد سے متعلق ترقیاتی نظریات کے اصل مقصد کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا اور عوام کو گریٹر بے ایریا کی تعمیر کے فوائد اور ثمرات پہنچانا شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں مادری زبان کے عالمی دن کے موقع پر چین کی وزارت تعلیم اور چین میں قائم یونیسکو کے نمائندہ دفاتر سمیت دیگر اداروں نے بیجنگ میں مشترکہ طور پر زبانوں کے تنوع کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لیے ایوئے لو اعلان جاری کیا ۔ یہ یونیسکو کی جانب سے پیش کردہ زبانوں کے تنوع کے تحفظ کے لیے پیش کردہ پہلی مستقل دستاویز ہے۔ چین کی وزارت تعلیم کے سینئر اہل کار تھیئن لی شِن کا کہنا ہے کہ یہ اعلان بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں سات ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن چھیانوے فیصد زبانوں کو استعمال کرنے والوں کی تعداد دنیا کی تمام آبادی میں صرف چار فیصد بنتی ہے۔ یونیسکو کی جانب سے 1999ء میں 21؍فروری کو مادری زبان کا عالمی دن قرار دیا گیا جس کا مقصد زبانوں اور ثقافتوں کے تنوع کا تحفظ کرنا ہے۔