تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
دبئی

دبئی

متحدہ عرب امارات میں سی فوڈ کی جتنی کھپت ہے، شاید ہی دُنیا کے کسی خطے میں ہو۔ یہاں کے رہنے والے سال کے بارہ مہینے جھینگے اور مچھلی کی ذائقہ دار ڈشوں سے محظوظ ہوتے ہیں۔ یو اے ای میں رہنے والی غیرملکی تارکین وطن نے بھی سی فوڈ کی ذائقہ دار ترکیبیں یہاں رہتے ہوئے متعارف کروائی ہیں۔ خصوصاً سری لنکن، بنگلہ دیشی اور ساؤتھ انڈین لوگ مچھلی اور جھینگے کو انتہائی لذیذ مصالحے لگا کر پکاتے ہیں۔ ان کھانوں کو مقامی عرب باشندوں میں بھی اب بہت رغبت کے ساتھ کھایا جارہا ہے۔ پھر مختلف ریسٹورنٹس سی فوڈ کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے باعث انواع و اقسام کی ڈشیں تیار کرکے اپنے صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ اگرچہ سی فوڈ دبئی میں دستیاب مہنگی غذاؤں میں سے ایک ہے لیکن یہاں قوتِ خرید زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوش ذائقہ افراد کی بھی کمی نہیں ہے۔ لیکن یہاں کے مچھیروں کو سردی کے موسم کا انتظار اس لیے رہتا ہے کیوں کہ یہ موسم گہرے سمندر میں فشنگ کے لیے چیلنجنگ سہی، مگر بہت سودمند ثابت ہوتا ہے۔ ڈیپ سی فشنگ کے دوران اس سیزن میں اکثر دیوہیکل لہریں، مچھیروں کی کشتیوں کو بھی بہا کر لے جاسکتی ہیں۔ دھند کے باعث، مچھیروں کو چند میٹر کے فاصلے پر بھی اس موسم میں کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔ بھارتی ریاست گجرات سے آئے ہوئے ایک مچھیرے منیش نے مقامی اخبار نویسوں کو بتایا کہ یو اے ای کی مارکیٹ ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے وہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر گہرے پانیوں کی طرف نکلتے ہیں اور دبئی سمیت متحدہ عرب امارات کے مختلف ریسٹورنٹس اور گھروں میں جو، مزے دار سی فوڈ کھایا جارہا ہے، اس کی فراہمی کے لیے ہمیں اکثر سات سات میٹر کی اونچی لہروں سے بھی نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ منیش کے مطابق، دبئی سے گہرے سمندروں میں جانے کے لیے ایک مچھیرے کو 20گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ یہ بحیرہ عرب کا وہ حصہ ہوتا ہے، جہاں ہمیں بہترین شکار دستیاب ہوتا ہے۔ ان مچھیروں کو ہفتے میں پانچ دن سمندر میں رہ کر شکار کرنا ہوتا ہے اور اگر قدرت کو منظور نہ ہو تو اکثر یہ محنت بے کار جاتی ہے اور ہم بغیر شکار کے ہی لوٹ آتے ہیں۔ یو اے ای کے مچھیرے، زبان اور نسل کی قید سے بالاتر ہیں اور سمندری سفر کے دوران یہ سب ایک فیملی کی طرح رہتے ہیں۔ ان میں سے ہی اکثر کشتیوں پر باورچی کا کام بھی کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں اگلے ماہ ہونے والے ورلڈ اسپیشل اولمپک گیمز کی تیاریوں کا تسلسل جاری ہے۔ اسی سلسلے میں سوئمنگ کے ایک مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں عام افراد کے علاوہ آٹزم کے شکار اسکول کے ایسے درجنوں بچوں نے بھی حصہ لیا، جو ذہنی طور پر بہت سی باتیں باآسانی سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ ایونٹ سوئمنگ کے صحت بخش کھیل کو پروموٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کو بھی اکٹھا کرتا ہے، جو خود کو معاشرے میں کسی بھی اعتبار سے محروم تصور کرتے ہوں۔ آٹزم کا شکار بچے عوام کے ساتھ گھل مل گئے اور انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوئمنگ کے اس مقابلے میں اپنی اپنی کیٹیگریز کے حوالے سے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔