تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
زندگی ایک سمجھوتا

زندگی ایک سمجھوتا

سرور بھائی، حبیب کے تایازاد تھے۔ ان کے والدین کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب وہ ابھی سات برس کے تھے۔ دادا، دادی نے ان کی پرورش کی اور ان کی وفات کے بعد یہ مستقل حبیب کے والدین کے پاس آگئے۔ میرے شوہر اور سرور بھائی میں سگے بھائیوں جیسا پیار تھا۔ حبیب ان کی بے حد عزت کرتے تھے، ہر طرح سے خیال رکھتے۔ جب میری شادی ہوئی، پہلے روز حبیب نے سمجھا دیا تھا کہ تمہیں سرور کا بہت خیال رکھنا ہے، ہمیشہ ان کا احترام کرنا کیونکہ یہ بہت حساس ہیں۔ بچپن میں اپنے والدین سے محروم ہوکر یتیمی کا صدمہ جھیلا ہے، تبھی ہم سب گھر والے ان کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ میرے شوہر بینک میں کام کرتے تھے، معقول تنخواہ تھی۔ ہر نوجوان کی طرح انہیں بھی خوب سے خوب تر کی تلاش تھی۔ حبیب کے ایک دیرینہ دوست اجمل دبئی میں عرصے سے کاروبار کرتے تھے۔ انہوں نے میرے شوہر سے کہا کہ میرے پاس دبئی آجائو، ویزے کا بندوبست میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں، رہائش اور جاب سب کچھ میرے ذمے! دراصل اجمل کا کاروبار کئی ممالک میں پھیل چکا تھا۔ اب انہیں مخلص ساتھیوں کی ضرورت تھی۔ جانتے تھے کہ حبیب ایک محنتی اور دیانتدار دوست ہے، تبھی اصرار کرتے تھے۔ حبیب نے اجمل کی پیشکش قبول کرنے کی ہامی بھر لی۔ شرط یہ رکھی کہ میری بیوی اور کزن سرور کا ویزا بھیجو گے تبھی آئوں گا۔ ویزوں کا بندوبست ہوگیا اور ہم دبئی روانہ ہوگئے۔ اجمل نے ہماری رہائش کا بھی عمدہ بندوبست کردیا تھا۔ کچھ عرصہ دبئی میں کام کرنے کے بعد اجمل بھائی نے ہم لوگوں کو لندن جانے کا کہا۔ نئی دنیا اور نئے لوگوں کو دیکھنے کا شوق، زندگی کو وسیع انداز میں اپنانے کی آرزو، ہم خوش ہوگئے کہ اس طرح نیا ملک دیکھنے کا موقع ملے گا۔ لندن میں اجمل کا دفتر تھا۔ جاتے ہی حبیب دفتری کاموں میں مصروف ہوگئے اور سرور ہفتے بھر شہر کی سیر سے محظوظ ہوتے رہے، اس کے بعد وہ بھی کاروباری امور میں حبیب کا ہاتھ بٹانے لگے۔ میں یہاں البتہ کافی بور ہوتی کیونکہ یہ تو دن بھر کے کام سے تھک کر رات کو آرام کی نیند سوجاتے لیکن مجھے سردی کی وجہ سے نیند بھی نہ آتی۔ اتنی سخت سردی کی میں کب عادی تھی۔ ہمیں یہاں آئے بمشکل ایک ماہ ہوا تھا کہ سرور بھائی کے رویئے میں ایک خوشگوار تبدیلی دیکھی۔ وہ کافی خوش نظر آتے تھے۔ یہ عقدہ جلد کھل گیا۔ انہیں آفس میں ملازم ایک گوری پسند آگئی۔ اس سے محبت کر بیٹھے اور شادی کے خواہشمند ہوئے۔ ہمارے لئے یہ بہت عجیب بات تھی کیونکہ اپنے شہر میں سبھی نے بہت چاہا وہ شادی کرلیں مگر وہ راضی نہ ہوئے۔ میں نے بہتیرے رشتے دکھائے، وہ پسند نہ آئے۔ کہتے تھے جب بھی شادی کروں گا، اپنی پسند اور مرضی سے کروں گا۔ اب جو گوری پسند آئی، وہ اپنے خاوند سے طلاق لے چکی تھی، عمر میں بھی ان سے بڑی تھی۔ ہم دونوں میاں، بیوی یوں پریشان تھے کہ یہاں اکثر ہم وطنوں کی ایسی شادیاں کامیاب نہیں ہوئی تھیں، بالآخر علیحدگی پر بات ختم ہوجاتی تھیں۔ کچھ دن سوچتے رہنے کے بعد سرور بھائی نے ہم سے مشورہ لیا۔ حبیب نے رائے دی کہ بھائی جان! ہم لوگوں کا رہن سہن، طور طریقے اور مزاج یہاں کے لوگوں سے قطعی مختلف ہے۔ بہتر ہوگا کہ گوری سے شادی سے باز آجائیں۔ اپنے وطن کی کسی تعلیم یافتہ اور اچھے خاندان کی لڑکی کو دلہن بنا کر یہاں لے آئو کیونکہ ایک بار ہی گھر بسانا ہوتا ہے۔ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ بار بار تجربے کئے جائیں، درمیان میں اولاد کے مسائل آجائیں تو اور مشکل ہوجاتی ہے۔ سرور بھائی کی سمجھ میں بات آگئی۔ سنجیدگی سے سوچا تو آنے والے مسائل کے خدشات کا بخوبی ادراک ہوگیا۔ تین سال بعد ہمیں واپس دبئی جانے کا موقع ملا تو چند دنوں کیلئے پاکستان آگئے۔ پندرہ روز وطن رہ کر دبئی آگئے کیونکہ اجمل بھائی کی طرف سے اتنی ہی چھٹی ملی تھی، تاہم سرور بھائی لاہور میں ہی ٹھہر گئے۔ چند دنوں بعد ان کی طرف سے خوشخبری ملی کہ ایک لڑکی پسند آگئی ہے اور وہ شادی کرنے والے ہیں۔ انہوں نے تفصیل بھی لکھی کہ نجمہ ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے، اچھے خاندان سے ہے، امیر والدین کی اکلوتی بیٹی ہے، خوبصورت بھی ہے۔ ایک دوست کی کزن ہے، کزن کی شادی میں نجمہ کو دیکھا تو وہ پسند آگئی۔ لڑکی نے بھی سرور بھائی کو پسند کرلیا اور یوں بات بن گئی۔ خط پڑھ کر ہم میاں، بیوی کو خوشی ہوئی کہ چلو کسی طور یہ بیل منڈھے چڑھی۔ لڑکی اپنے وطن کی ہے اور یہی بات زیادہ خوشی کی ہے، ورنہ بدیسی لوگوں میں پھنس کر نجانے سرور بھائی کے مستقبل کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا۔ کیا پتا لینے کے دینے پڑ جاتے۔ شادی کے بعد سرور بھائی، نجمہ کو لے کر دبئی آگئے۔ اجمل نے انہیں مبارکباد دی اور علیحدہ رہائش کا انتظام بھی کرا دیا لیکن سرور بھائی کی آرزو تھی کہ بیوی کے ہمراہ انگلینڈ جا بسیں۔ انہوں نے اجمل بھائی سے اصرار کیا کہ دوبارہ انگلینڈ والے آفس میں بھجوا دیں۔ انہوں نے یہ بات مان لی۔ اپنے دو کارندے وہاں سے واپس بلالئے اور سرور بھائی مع بیوی لندن آپہنچے۔ لندن پہنچ کر ہمارے شوہر کے کزن اور ان کی بیگم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ کہتے تھے اگر اجمل نے دوبارہ دبئی بلایا تو ہم نہیں جائیں گے۔ وہ اب یہیں کے ہوکر رہنا چاہتے تھے۔ ان کو انگریزوں کی یہ نگری بہت پسند آئی۔ خاص طور پر نجمہ بھابی کو کیونکہ وہ مزاجاً آزادی پسند تھیں اور یہاں نسوانی آزادی نے انہیں خوشی سے ہمکنار کردیا تھا۔ جب پہلی بار میں نے نجمہ بھابی کو دیکھا تو ششدر رہ گئی  تھی۔ سوچا کہ ہمارے وطن میں بھی ایسی خواتین کی کمی نہیں ہے جو مشرقی ہوتے ہوئے مغربی رنگ میں رنگ جاتی ہیں۔ نجمہ بھابی کا فیشن اور بالوں کی تراش خراش کسی انگریز فیشن ایبل خاتون سے کم نہ تھا۔ وہ کافی چلتی پرزہ لگیں، تاہم بھابی کے رشتے سے مجھ پر ان کا احترام لازم تھا۔ کچھ دنوں بعد سرور بھائی نے اجمل کی فرم سے نوکری کو خیرباد کہہ دیا۔ ہم سے خاصی دوری پر ایک اور جگہ رہائش اختیار کرلی۔ نجمہ بھابی کے پاس پیسے کی کمی نہ تھی۔ وہ اکلوتی ہونے کے ناتے والدین کی جائداد اور سرمائے کی مالک تھیں۔ جب جتنا چاہتیں، روپیہ منگوا لیتی تھیں۔ سرور بھائی بھی اپنے طور پر جاب کرتے تھے، غرض ان کا گھر خوشیوں کا گہوارہ تھا۔ وقت گزرتا رہا اور یہ میاں، بیوی یکے بعد دیگرے تین بچیوں کے والدین بن گئے۔ بچیوں کی ذمہ داریاں تھیں جو دونوں اٹھا رہے تھے۔ جب کبھی وقت ملتا، چھٹی کے دنوں میں ہم ان سے ملنے چلے جاتے تھے۔ ان کا گھر لندن کے مضافات میں ایک پہاڑی مقام پر تھا۔ یہ ایک بہت خوبصورت جگہ تھی۔ میں نے جلد ہی محسوس کرلیا کہ ان کی خوشیوں بھری زندگی میں کوئی دراڑ آگئی ہے۔ سرور بھائی کچھ بجھے بجھے لگتے تھے۔ گفتگو کا انداز مایوس کن اور مردہ لہجہ جیسے وہ مصیبتوں میں گھر چکے ہوں۔ ایک روز حبیب کے اصرار پر بتایا۔ بھائی! کیا بتائوں، سکون لٹ گیا ہے۔ نجمہ رفتہ رفتہ اپنا آپ کھوتی جارہی ہے۔ وہ یہاں کی رنگینیوں میں بچیوں سے بھی غفلت برتنے لگی ہے۔ اس قدر آزادی کی دلدادہ کہ آپے سے باہر ہوچکی ہے، جبکہ میں بیوی کی اتنی زیادہ آزاد روش کو برداشت نہیں کرسکتا۔ سوچتا ہوں وقت کے ساتھ ساتھ بچیاں بڑی ہورہی ہیں، وہ ماں کے نقش قدم پر چلیں گی۔ یہ میں کیسے برداشت کر پائوں گا۔ دن، رات یہی فکر گھلائے دے رہی ہے۔ میری روک ٹوک پر نجمہ جزبز ہوجاتی ہے۔ آئے روز ہمارا جھگڑا رہنے لگا ہے۔ ذہنی سکون جاتا رہا ہے۔ میں اب واپس وطن لوٹ جانا چاہتا ہوں مگر وہ یہ بات سننے کو تیار نہیں، وہ آگ بگولا ہوجاتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میری بچیاں لندن میں پیدا ہوئی ہیں، یہاں پلی بڑھی ہیں، اب ان کا اس دقیانوسی ماحول میں خوش رہنا ممکن نہیں ہے اور میں کہتا ہوں کہ میرا ان کی بہت زیادہ آزادی کو مستقبل میں برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔  یہ مسئلہ تمہارے اکیلے کا نہیں ہے۔ یہاں پر رہنے والے اور بھی بہت سے ہم وطنوں کا ہے۔ ہاں! مگر اب میں کیا کروں؟ سرور بھائی نے پریشان ہوکر پوچھا۔ اس گھڑی کو کوستا ہوں جب نجمہ کو بیاہ کر یہاں لایا تھا۔ جانتا نہ تھا کہ یہ مشرقی لڑکی بیوی بن جانے کے بعد مجھ سے بے وفائی کرے گی۔ بے وفائی سے کیا مطلب ہے سرور بھائی…؟ میں نے چونک کر سوال کیا تو کہنے لگے۔ بس بھابی! کیا بتائوں، اس معاملے کو چھپا ہی رہنے دیجئے۔ کچھ عرصے بعد ہم لوگ دوبارہ ان کے گھر گئے اس بار تو گھر کا سارا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ بیچاری بچیوں کی بھی عجیب حالت تھی۔ ہم نے بہت سمجھایا۔ اس خاتون پر کوئی اثر نہ ہوا۔ دراصل معاملہ یہ تھا کہ یہاں نجمہ کی اپنے ایک بہت امیر کبیر کزن سے ملاقات ہوگئی جو پہلے سے انگلینڈ میں مقیم تھا۔ اس نے ایک گوری سے شادی کی تھی مگر وہ طلاق لے کر جا چکی تھی۔ رشتے داری کے ناتے شوہر نے بیوی کے کزن کا احترام کیا۔ گھر کھانے پر مدعو کیا اور یوں موصوف اکثر ان کے گھر آنے جانے لگے۔ نجمہ کو ان سے انسیت ہوگئی اور یہ انسیت محبت میں تبدیل ہوگئی تو پھر گھر کا گھروا ہوگیا اور نجمہ اپنے کزن کے ساتھ شادی کی خواہش میں سرور بھائی سے طلاق لینے پر مصر ہوگئی۔ اسے اپنی بچیوں کی بھی پروا نہ رہی تھی۔ صورتحال کو کچھ عرصے تک شوہر سے پوشیدہ رکھا لیکن جب کزن کے ساتھ بہت زیادہ گھومنا شروع کردیا تو شوہر نے روکا تب نجمہ نے صاف کہہ دیا کہ وہ طلاق لینا چاہتی ہے۔ بے شک بچیوں کو سرور اپنی تحویل میں لے لے، اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جب کوئی انسان اپنی خواہشات کا اس قدر غلام ہوجائے کہ کسی کے سمجھانے سے نہ سمجھے تو وہ اولاد کو بھی پس پشت ڈال کر اپنے خوابوں کی جنت کو پانے کے درپے ہوجاتا ہے۔ نجمہ نے بھی اپنی خواہشات پر بچیوں کی محبت کو قربان کر ڈالا اور سرور بھائی سے طلاق لے کر اپنے کزن سے شادی کرلی۔ سرور بھائی انتہائی غمزدہ اور کسی ہارے ہوئے جواری کی مانند تینوں بیٹیوں کو لے کر واپس وطن آگئے۔ بچیاں انہوں نے میری ساس کے حوالے کردیں کیونکہ ان کے اپنے والدین تو بقیدحیات تھے نہیں۔ ہمارے ساس، سسر اب بہت ضعیف تھے، وہ بچیوں کی دیکھ بھال اور پرورش سے قاصر تھے اور ہم روزگار کی خاطر گھر سے دور تھے۔ ادھر بچیاں ایک پل کو بھی والدہ کے بغیر رہنے پر تیار نہ تھیں۔ وہ روتی تھیں اور بہت پریشان کرتی تھیں۔ سرور روزگار کی خاطر دبئی چلے گئے تو ان کے تایا اور تائی انہیں خط پر خط لکھنے لگے کہ اب ہم ان روتی دھوتی بچیوں کا کیا کریں، ہم ان کو نہیں سنبھال سکتے۔ تم آکر لے جائو یا خود آکر یہاں رہو۔ سرور اس صورتحال میں کوئی کام دل جمعی سے نہیں کرسکتے تھے۔ وہ وطن گئے اور بچیوں کو نانا اور نانی کے حوالے کرنا چاہا، مگر انہوں نے بھی پرورش سے انکار کردیا۔ ماں نے تو محبوب کزن سے شادی کرکے اپنی دانست میں جنت پا لی تھی لیکن بچیوں کی آہ عرش تک گئی۔ کچھ ماہ بعد ہی نجمہ کی نئے شوہر سے لڑائی رہنے لگی کیونکہ وہ مے نوش اور عیاشی کا رسیا تھا۔ اس کے مراسم کئی عورتوں سے تھے جس کا پتا نجمہ کو چل گیا۔ وہ شوہر سے جھگڑنے لگی۔ یوں کچھ عرصے کے باہم جھگڑوں کے بعد دونوں میں بالآخر طلاق ہوگئی۔  اب نجمہ کو ہوش آیا کہ اس نے جذبات کی رو میں بہہ کر کتنی بڑی غلطی کی کہ اپنے شریف النفس شوہر اور اولاد کو چھوڑ کر ایک غلط شخص سے ازدواجی بندھن باندھا جو کچے دھاگے جیسا نکلا۔ وہ دلگرفتہ ہوکر وطن لوٹ کر آگئی۔ اب وہ کہیں کی نہ رہی تھی۔ ادھر بچیوں سے جدا ہوئی تو ادھر گھربار سے گئی۔ اس کے والدین بھی ناراض تھے۔ اس کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ وہ گھر کی رہی نہ گھاٹ کی! دھوبی کے کتے جیسی ہوکر رہ گئی۔ اب تنہائی کے دکھ نے اس کے کلیجے میں سوئے مارنے شروع کردیئے۔ ممتا کا درد جاگا تو اس کی ٹیسوں نے دن کا چین، رات کی نیندیں حرام کردیں۔ وہ زیادہ دن اس درد کو برداشت نہ کرسکی اور حبیب کے والدین کے قدموں میں آگری۔ بچیوں نے عرصے بعد ماں کو دیکھا، روتی ہوئی اس سے لپٹ گئیں۔ آہ و زاری کرنے لگیں۔ مما…! اب ہمیں چھوڑ کر نہ جانا۔ بچیوں کی فریاد سنی تو وہ زخمی ناگن کی طرح تڑپنے لگی۔ ان ننھی منی کونپلوں کو ماں کے وجود سے نازک بیلوں کی مانند لپٹتے دیکھ کر میری ساس اور سسر بھی رو دیئے۔ انہیں بچیوں کی آہ و بکا نے کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔ وہ خدا ترس تھے۔ انہوں نے حبیب کو خط لکھا کہ سرور کے ساتھ کسی صورت یہاں آئو، تم لوگوں کی ہمیں اشد ضرورت ہے۔ خط ملتے ہی حبیب اور میں سرور بھائی کو لے کر گھر آئے۔ بچیاں باپ سے درخواست کرنے لگیں کہ پپا…! مما کو یہاں رہنے دیں، ہم آپ دونوں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ وہ ہاتھ جوڑے باپ سے التجا کر رہی تھیں۔ ان کی آنکھیں اشکوں سے لبریز تھیں۔ یہ التجا باپ کے دل پر اثر کر گئی۔ اولاد کی خوشی کی خاطر سرور نے گھٹنے ٹیک دیئے اور تایا، تائی کے حکم کا مان رکھتے ہوئے دوبارہ نجمہ سے نکاح پر راضی ہوگئے۔ نکاح کے بعد نجمہ نے بچیوں کے ساتھ ہمارے گھر رہنا قبول کرلیا اور ہم دبئی واپس آگئے، کیونکہ اب دبئی والے دفتر میں حبیب نے ڈیوٹی دینی تھی۔ یہ ہمارے لئے اچھا فیصلہ تھا کہ یہاں سے وہ اپنے بوڑھے والدین سے ملنے کیلئے آسانی سے آجا سکتے تھے۔ اس بار جب ہم دبئی سے لاہور گئے تو گھر کو سلیقے سے جما ہوا پایا۔ وہی گھر تھا جہاں ویرانی برستی تھی، اب تین خوبصورت بچیوں کی چہکاروں سے گونج رہا تھا۔ نجمہ یکسر بدل چکی تھی۔ یہ وہ الٹرا ماڈرن نجمہ نہ تھی جس نے سرور بھائی کا کبھی ناک میں دم کررکھا تھا۔ آج وہ تابعدار، سلیقہ شعار اور فرض شناس بیوی کا روپ دھار چکی تھی۔ وہ اپنی بچیوں اور گھر کے ساتھ ساتھ میری ساس اور سسر کا بھی کسی بیٹی کی طرح خیال رکھتی تھی۔ وہ ایک گھریلو عورت کی طرح گھر داری میں مصروف تھی اور اس کی بیٹیاں شہر کے اعلیٰ تعلیمی ادارے میں پڑھ رہی تھیں۔ اس کے چہرے پر بے شک اچھی بیویوں والی متانت اور مائوں کے چہروں والا تقدس موجود تھا لیکن سرور بھائی کا چہرہ ابھی تک حقیقی خوشی سے محروم تھا کیونکہ نجمہ کی بے وفائی کا دکھ ان کے چہرے پر کسی سرد خاموشی کی صورت میں جم کر رہ گیا تھا۔ محبت کی خاطر نہیں، اس بار انہوں نے اپنی بیٹیوں کی خاطر زندگی کا سب سے بڑا سمجھوتا کیا تھا۔ (ایم۔اے۔ آر … لاہور)