تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
کامیڈی کنگ جیری لوئیس

کامیڈی کنگ جیری لوئیس

امریکی تھیٹر، فلم، ٹی وی اور اسٹیج شوز پر اپنی کامیڈی کے اَنمٹ نقوش چھوڑنے والے شہرۂ آفاق اداکار، گلوکار، اسکرپٹ رائٹر اور فلمساز جیری لوئیس کے نام سے تقریباً ساری دنیا واقف ہے۔ وہ امریکی ریاست نیوجرسی کے ایک چھوٹے سے شہر نیو آرک میں 16؍مارچ 1928ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والدین روسی یہودی تھے۔ وہ اپنے زمانے کے، قدیم طرز کے تھیٹر سے وابستہ تھے۔ والد مختلف روپ دھار کر کامیڈی کرتے تھے جبکہ والدہ ڈراموں کے لئے پس پردہ موسیقی دیتی تھیں۔ انہی کے ساتھ جیری لوئیس نے پانچ سال کی عمر سے ہی اسٹیج پر کام شروع کردیا تھا۔ گیارہ سال کی عمر تک وہ اپنے پاس پڑوس میں خوب مشہور ہوچکے تھے۔ وہ اپنے ہر پڑوسی اور شناسا کی نقل اتار لیتے تھے۔ اسکول میں دسویں گریڈ تک پہنچ کر انہوں نے تعلیم کو خیرباد کہہ دیا۔ پندرہ سال کی عمر تک اسٹیج پر ان کا ایک ایکٹ کافی مقبول ہوچکا تھا جسے انہوں نے ’’ریکارڈ ایکٹ‘‘ کا نام دیا تھا۔ اس میں پس پردہ گراموفون پر کوئی ریکارڈ بج رہا ہوتا تھا اور جیری لوئیس اس پر اس طرح ہونٹ ہلاتے تھے اور اداکاری کرتے تھے جیسے اسٹیج پر وہ گانا وہی پیش کررہے ہوں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران شاید انہیں فوج میں جانا پڑ جاتا لیکن طبی معائنہ کرنے والوں کو ان کے دل میں کسی نقص کا شبہ ہوا اور انہوں نے جیری لوئیس کو فوج میں بھرتی کے لیے ناموزوں قرار دے دیا۔ یوں انہیں اسٹیج پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع مل گیا۔ جلد ہی گلوکار اور کامیڈین ڈین مارٹن کے ساتھ ان کی جوڑی بن گئی۔ 1946ء میں انہوں نے جوڑی کے طور پر اسٹیج پر کامیڈی شروع کی اور ملک گیر شہرت حاصل کرلی۔ کلبوں کے علاوہ ریڈیو سے بھی ان کا شو پیش کیا جانے لگا۔ 1948ء میں این بی سی ٹیلی وژن سے ان کا لائیو شو شروع ہوگیا۔ ’’کامیڈی آور‘‘ کے نام سے شروع ہونے والا یہ شو بعد میں نام کی تبدیلی کے ساتھ دوسرے چینلز پر بھی چلا۔ 1951ء میں انہوں نے پیرامائونٹ تھیٹر کے لیے اسٹیج شو پیش کرنا شروع کیا جو رفتہ رفتہ مقبولیت کے اعتبار سے فرینک سناترا، ایلوس پریسلے اور بعد ازاں بیٹلز کے شوز کا مقابلہ کرنے لگا۔ اس دوران ’’پیرامائونٹ پکچرز‘‘ کے تحت یہ جوڑی فلموں میں بھی کام شروع کرچکی تھی۔ 1949ء میں ان کی پہلی فلم ’’مائی فرینڈ ارما‘‘ (My Friend Irma)ریلیز ہوچکی تھی۔ 1950ء میں اس کا سیکوئیل بھی بنا۔ اس کی بنیاد ان کے ریڈیو شو پر تھی۔ اس کے بعد 1956ء تک کے عرصے میں ان دونوں ساتھیوں نے خود مل کر چودہ فلمیں پروڈیوس کیں اور ان میں مرکزی کردار بھی کئے۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں: That's My Boy. Jumping Jacks. The Stooge. You Are Never Too Young. یہ فلمیں انہوں نے پیرامائونٹ پکچرز کے لئے ہی پروڈیوس کیں جو ان کے لیے بے حد منافع بخش ثابت ہوئیں۔ اس دوران اداکاروں کی اس کامیاب جوڑی کے درمیان خلیج پیدا ہونے لگی اور آخرکار رفاقت کے پورے دس سال بعد یہ جوڑی ٹوٹ گئی۔ 24؍جولائی 1956ء کو ایک کلب میں دونوں نے اپنا آخری مشترکہ شو پیش کیا۔ تاہم الگ الگ راستوں پر چل نکلنے کے بعد بھی دونوں اپنی اپنی جگہ بے حد کامیاب رہے اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف یا اپنی علیحدگی کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ جیری لوئیس نے گانا بھی شروع کردیا۔ پہلا گانا تو انہوں نے خود رقم خرچ کرکے ریکارڈ کرایا اور ریلیز کیا۔ اس کے بعد دیگر کمپنیوں نے ان کے کئی ریکارڈ ریلیز کئے۔ Rock-A-Bye Your Babyان کا بے حد مشہور گانا ہے۔ وہ اسٹیج پر لائیو بھی گاتے تھے۔ نہایت کامیاب فلم اسٹار بن جانے کے بعد بھی انہوں نے کلبوں میں گلوکاری اور کامیڈی کی پرفارمنس کا سلسلہ جاری رکھا۔ ٹی وی پر ان کا مشہور شو What's My Lineاور دیگر شوز بھی چلتے رہے۔ اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب اور دیگر بڑی تقاریب میں بھی انہیں خاص طور پر مدعو کیا جاتا رہا۔ ان کی فلمیں کراچی میں زیادہ تر پیلس سینما اور ریکس سینما میں ریلیز ہوتی تھیں۔ ریکس سینما کی جگہ اب ایک شاپنگ مال بن گیا ہے اور پیلس سینما کی جگہ ایک ریسٹورنٹ بن گیا ہے۔ جیری لوئیس کی فلمیں پاکستان میں بھی بے حد پسند کی جاتی تھیں اور باکس آفس پر بے پناہ رش لیتی تھیں۔ اس زمانے میں جیری لوئیس کی فلمیں پیلس سینما کے سنڈے مارننگ شوز میں بھی دکھائی جاتی تھیں اور لوگ بڑے شوق سے انہیں دیکھتے تھے۔ کامیڈی میں ان کا مقابلہ ایڈی مرفی، رابن ولیمز اور جم کیری بھی نہیں کرسکتے تھے۔ جیری لوئیس کی شخصیت پر متعدد کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ وہ اپنی پروڈکشن کمپنی ’’جیری لوئیس پروڈکشنز‘‘ اور پیرا مائونٹ پکچرز کے درمیان معاہدے کے تحت فلمیں بناتے تھے جس کے تحت ابتداء میں پیرامائونٹ نے 1959ء میں چودہ فلموں کے لیے انہیں دس ملین ڈالر کی ادائیگی کی تھی اور منافع میں ان کا حصہ 60فیصد مقرر کیا تھا۔  اس زمانے کے لحاظ سے جیری لوئیس اس نوعیت کا سب سے مہنگا سودا کرنے والے اداکار اور پروڈیوسر تھے۔ پیرامائونٹ جیسا بڑا فلمساز ادارہ ان سے اتنا متاثر تھا کہ ان کے ہیڈ آف پروڈکشن بارنی بلابن نے ایک مرتبہ کہا تھا ’’اگر جیری لوئیس پیرا مائونٹ اسٹوڈیوز کو آگ بھی لگانا چاہے تو اسے ماچس کی ڈبیا میں خود تھمائوں گا۔‘‘ جیری لوئیس کی مزید چند مشہور فلموں کے نام یہ ہیں۔ Visit To Small Planet. The Bell Boy. The Ladies Man. The Errand Boy. It's Only Money. Its A Mad Mad Mad World. Who's Minding The Store. The Disorderly Orderly. The Big Mouth. Cinderfella. Nutty Professor. 1969ء میں نیشنل سینما کارپوریشن نے ان کے سامنے ’’جیری لوئیس سینما‘‘ کے نام سے ملک بھر میں فرنچائز کے طور پر چھوٹے سینما ہائوسز قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ جیری لوئیس اس کے لیے آمادہ ہوگئے۔ اس طرح کے 158سینما کھولے گئے۔ دس سال تک یہ چین قائم رہی پھر کاروباری طور پر ناکام ہوگئی۔ جیری لوئیس نے فلاحی کاموں میں بھی حصہ لیا۔ عضلاتی بیماریوں کے علاج کے لئے انہوں نے خطیر رقم خرچ کرکے باقاعدہ ایک ادارہ قائم کیا۔ 1956ء سے 2011ء تک وہ خود اس کے چیئرمین رہے۔ اس ادارے کے تحت وہ ہر سال ایک ٹیلی تھون کا اہتمام بھی کرتے رہے۔ انہوں نے امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور ان کے بھائی رابرٹ ایف کینیڈی کی انتخابی مہم میں بھی سرگرمی سے حصہ لیا۔ جان ایف کینیڈی ہی کے مشورے پر وہ خود عملی طور پر سیاست سے دور رہے لیکن اپنے سیاسی نظریات کا اظہار کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ صدر اوباما پر انہوں نے اس لئے خوب تنقید کی کہ وہ داعش کے قیام اور پھیلائو کو روکنے کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکے۔ ٹرمپ کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ بزنس مین سے زیادہ ایک کامیاب ’’شو مین‘‘ ہیں، شاید اس لیے وہ ایک اچھے صدر ثابت ہوں۔ جیری لوئیس نے 3؍اکتوبر 1944ء کو ایک سابق گلوکارہ پیٹی پامر سے شادی کی تھی۔ 1980ء میں ان کے درمیان طلاق ہوگئی۔ پیٹی پامر سے جیری لوئیس کے چھ بیٹے تھے جن میں سے ایک منشیات کے اوور ڈوز کی وجہ سے ہلاک ہوگیا۔ 13؍فروری 1983ء کو جیری لوئیس نے سینڈرا پٹنگ نامی ایک خاتون سے شادی کی جنہوں نے ان کے ساتھ ایک فلم Hardly Workingمیں کام بھی کیا تھا۔ ان سے جیری لوئیس کی کوئی اولاد نہیں ہوئی لیکن اس خاتون نے 1992ء میں پیدا ہونے والی ایک بچی کو گود لے لیا تھا جس کا نام ڈینیئل سارا لوئیس رکھا گیا تھا۔ جیری لوئیس کو زندگی میں بہت سی بیماریاں لاحق ہیں۔ ان کی کمر میں تکلیف جوانی سے ہی تھی جو ایک شو میں کامیڈی کے دوران گر جانے کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔ پھر انہیں دل کا عارضہ بھی لاحق ہوگیا۔ انہیں تین ہارٹ اٹیک ہوئے لیکن وہ ان کے لیے جان لیوا ثابت نہیں ہوئے۔ دوران خون کی ایک خرابی کی وجہ سے وہ مٹاپے کا شکار بھی ہوگئے۔ آخری عمر میں نمونیہ بگڑ جانے اور اس کے ساتھ دل کی خرابیاں شامل ہونے کی وجہ سے 20؍اگست 2017ء کو وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔