تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
پلاسٹک سے ایندھن کی تیاری

پلاسٹک سے ایندھن کی تیاری

دنیا میں ماحولیاتی آلودگی کا سب سے بڑا دشمن پلاسٹک کو قرار دیا جاتا ہے جو ایک بار بن جائے تو پھر دنیا کے لیے مصیبت ہی بنتا ہے۔ تاہم ماہرین اس پلاسٹک کے کچرے سے چھٹکارہ پانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں اور اس میں کامیابیاں بھی مل رہی ہیں۔ خبر آئی ہے کہ سائنسدانوں نے پلاسٹک کو کئی مراحل سے گزار کر ایندھن میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ امریکا میں پورڈوا یونیورسٹی کے ماہرین نے پالیمر کی ایک ایسی قسم کو ایندھنی ہائیڈروکاربنز میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس سے دنیا کا 25 فیصد پلاسٹک ایندھن میں بدلا جاسکتا ہے کیونکہ فی الحال پولی پروپائیلن کو ہی ڈیزل کی ایک قسم کے ایندھن میں بدلنے کا تجربہ کیا گیا ہے۔ یہ اہم کام کیمیکل انجینئر لِنڈا وینگ نے انجام دیا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ ان کی ایجاد سے پلاسٹک ری سائیکل (بازیافت) کرنے والے کارخانوں کے منافع میں اضافہ ہوگا اور دنیا میں موجود پلاسٹک کا پہاڑ بھی کم سے کم ہوسکے گا۔ پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے لیے اسے ایک ساتھ بھینچا اور گرم کیا جاتا ہے۔ 500 درجے سینٹی گریڈ اور 23 میگا پاسکل پریشر پر اسے چند گھنٹوں رکھا جائے تو پلاسٹک اپنی شکل بدل لیتا ہے۔ اس عمل کو ہائیڈروتھرمل لیکوفیکیشن کہا جاتا ہے اور پلاسٹک کی 90 فیصد مقدار ایندھنی درجے کی ایک شے نیفتھا میں بدل گئی جس میں ہائیڈروکاربنز کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ عمل کچھ مہنگا ہے لیکن یاد رہے کہ ماحول دوست عمل اور پلاسٹک ٹھکانے لگانے کی یہ کوئی زیادہ قیمت نہیں ہے۔ لِنڈا وینگ کے مطابق اگلے مراحل میں اس سے نیفتھا اور صاف ایندھن بنانے کی کوشش کی جائے گی تاہم حتمی منزل ابھی بہت دور ہے۔ پلاسٹک اس وقت ماحول کے لیے خوفناک عذاب بن چکی ہے۔ اول یہ کبھی ختم نہیں ہوتی اور دھیرے دھیرے ٹوٹ کر مزید باریک ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی ہے اور ان کی مقدار اب ہماری غذا میں بھی شامل ہوتی جارہی ہے۔