تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
بدترین سائبر سیکورٹی کی فہرست ہم کس نمبر پر؟

بدترین سائبر سیکورٹی کی فہرست ہم کس نمبر پر؟

ایک نئی تحقیق کے مطابق پاکستان انٹرنیٹ صارفین کے لیے دنیا کے سب سے غیر محفوظ ممالک میں سے ایک ہے اور یہاں استعمال کیے جانے والے 25 فیصد موبائل فونز پر مال ویئر یا وائرس کے حملے ہو چکے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی پر تحقیق کرنے والے ادارے ’’کومپیری ٹیک‘‘ کی تازہ درجہ بندی کے مطابق الجیریا اس معاملے میں دنیا کا سب سے غیر محفوظ ملک ہے، جبکہ جاپان اس لحاظ سے سب سے محفوظ ملک تصور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سائبر حملوں سے غیر محفوظ ممالک کی فہرست میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے۔ تحقیق میں دنیا کے صرف 60 ممالک کو شامل کیا ہے کیونکہ ان کے اعدادوشمار مکمل اور بہ آسانی دستیاب ہیں۔  پاکستان میں ’انفرادی طور پر سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے بنیادی آگاہی تک نہیں پائی جاتی۔ اس لیے یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ ہمارا شمار ان ممالک کے ساتھ ہوا جن کا سائبر سیکیورٹی نظام بدترین ہے۔ تاہم پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی ایسوسی ایشن کے صدد عمار جعفری نے ’کومپیری ٹیک‘ کی دی گئی درجہ بندی کی ساکھ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’پوری دنیا کے صرف 60 ممالک کا انتخاب کرنا اس درجہ بندی میں تعصب پائے جانے کا امکان ظاہر کرتا ہے اور اس کے علاوہ رپورٹ میں دیئے گئے مختلف اعداد و شمار قابل اعتبار ذرائع سے حاصل نہیں کیے گئے۔ عمار جعفری کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سب کے باوجود یہ بھی کہنا درست ہوگا کہ پاکستان کو سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ابھی بہت کام کرنا ہوگا اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر 2014 ء میں سینیٹ میں پیش کردہ قانونی مسودہ منظور ہوجاتا جس میں نیشنل سائبر سیکیورٹی کونسل کے قیام کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس میں سائبر سیکیورٹی کے شعبے سے متعلق تمام شراکت داروں کی آرا شامل تھی۔‘  تحقیق میں ممالک کی درجہ بندی جن بنیادوں پر کی گئی ان میں مالی نوعیت کے سائبر حملے، ملک میں وائرس اور میل وئیر کا شکار موبائل فون اور کمپیوٹرز کی شرح، سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور قانون سازی شامل ہیں۔ رپورٹ میں سائبر سیکیورٹی کے ادارے کیسپرسکی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 25 فیصد صارفین کے موبائل فون مال وئیر اور وائرس کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ذاتی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان میں کوئی جامع قانون موجود نہیں اور 2016 ء میں منظور ہونے والا سائبر کرائم قانون بھی اس مسئلے کا کوئی حل نہیں دیتا۔ رپورٹ بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ پاکستان نے سائبر سیکیورٹی سے متعلق تسلی بخش قانون سازی نہیں کی اور نہ ہی اس بارے میں کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں مالی نوعیت کے سائبر حملوں کا خطرہ بھی موجود ہے۔ اور تو اور پاکستان کی سائبر حملوں سے بچنے کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تنظیم انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین ہر سال گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس شائع کرتی ہے جس میں دنیا کے تمام ممالک کی سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے ادارے ’’بائٹس فار آل‘‘ کے شہزاد احمد نے بتایا کہ ’ماضی میں پاکستان اور انڈیا سائبر جنگ میں ملوث رہے ہیں، جس سے متعدد بار ہمارے ڈیجیٹل اثاثے غیر محفوظ ہوئے۔ مگر اس کے باوجود موجودہ اور گذشتہ تمام حکومتوں نے معلومات کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے اور آج ہماری تمام سرکاری ویب سائٹس محفوظ نہیں، جو کہ بہت خطرناک بات ہے۔‘ شہزاد احمد نے بتایا کہ ان کے ادارے نے معلومات کے حصول کے لیے بیشتر سرکاری اداروں کو درخواستیں بھیجیں، جس پر انہیں کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوئے۔ ’’ہمیں نہیں معلوم ہو سکا کہ حکومت شہریوں کی ذاتی معلومات کا تحفظ اگر کرتی ہے تو کیسے، بالخصوص صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور سرکاری افسران سمیت دیگر لوگ ان سائبر حملوں سے محفوظ نہیں اور اس حوالے سے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے۔‘‘ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم کے ڈائریکٹر جنرل کیپٹن (ریٹائرڈ) شعیب کا کہنا تھا کہ ’’یہ درجہ بندی ہماری کارکردگی کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ درجہ بندی قانون سازی سے متعلق ہے اور اس میں ہم یقیناً اب تک بہت پیچھے ہیں کیونکہ سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی قانون منظور نہیں ہوا۔ اگرچہ ہم جنوبی ایشیا میں بہت سے ممالک سے آگے ہیں، تاہم قانون سازی اب بھی بہت سست رفتاری سے ہو رہی ہے۔ ملک میں اگست 2018 ء میں سائبر کرائم کے حوالے سے ایک باقاعدہ ادارا بنایا گیا ہے مگر اس میں اب تک بھرتیاں شروع نہیں ہوئیں۔‘‘