تازہ شمارہ
Title Image
کیا پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے متحبل ہوسکتے ہیں؟

کیا پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے متحبل ہوسکتے ہیں؟

پاکستان کے خدشات درست ثابت ہوئے اور منگل 26فروری کو علی الصباح بھارت کے جنگی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالاکوٹ کے مقام پر ایک ویرانے میں اپنا پے لوڈ (جہاز پر موجود گولہ بارود) گرا کر راہ فرار اختیار کی۔ پاکستان پلوامہ میں پیش آنے والے ڈرامے کے بعد سے مسلسل اس خدشے کا اظہار کررہا تھا کہ بھارت اپنے اس ڈرامے کی آڑ میں کسی بزدلانہ کارروائی کا کوئی اور ڈراما بھی کرسکتا ہے اور اس خدشے کی بنیاد پر پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی مسلسل مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کرکے انہیں اپنے خدشات سے آگاہ کررہے تھے۔ انہوں نے اس دوران چین، جاپان، سعودی عرب، عرب امارات، پولینڈ، جرمنی سمیت متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ کو مسلسل صورتحال سے آگاہ رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے وفاقی دارالحکومت میں متعین غیر ملکی سفیروں اور ہائی کمشنرز کو وزارت خارجہ مدعو کرکے انہیں پاکستان کے خدشات، زمینی حقائق اور بھارتی عزائم سے آگاہ کرنے کے لئے بریفنگ دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فضائی اور بحری فوج کی کمان سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فورسز کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے رکھا تھا لیکن بھارتی طیارے اندھیرے میں کارروائی کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔  اس کارروائی کا مجموعی دورانیہ محض تین منٹ تھا۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس فیصلے کا اعلان واضح لفظوں میں کیا ہے کہ پاکستان اس بزدلانہ کارروائی کا حساب ضرور چکائے گا لیکن بھارت کو جواب دینے کے لیے مقام اور وقت کا تعین وہ اپنی حکمت عملی کے تحت کرے گا۔ ملک کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں بلکہ اس انداز سے دیا جائے جس سے مودی سرکار کو ایسا سبق ملے کہ اسے واقعتاً ’’چھٹی کا دودھ یاد آجائے‘‘کیونکہ پوری قوم بھی یہی چاہتی ہے اور ایک مرتبہ پھر 1965ء کی تاریخ کو تازہ کرنے کے لئے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’دہلی تیرے قلعے پر ہوگا نشاں ہمارا‘‘ کے نعرے اور ’’جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی‘‘ کے جنگی نغمے ایک مرتبہ پھر سننے کو مل رہے ہیں۔ لیکن قرائن اور حقائق اس امر کی غمازی کررہے ہیں کہ شاید بات اس حد تک نہ جائے اور اس کی سب سے بڑی وجہ دونوں ملکوں کا ایٹمی طاقت ہونا ہے۔ ظاہر ہے جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن اسے ختم کرنا حالات کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ صرف دوسروں کو تباہ کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی بقا کے لیے بھی آخری فیصلے کرلیے جاتے ہیں، اگر اب دونوں ملکوں کے درمیان روایتی جنگ کا آغاز ہوکر بات آگے بڑھ جاتی ہے تو کیا کوئی ملک بھی ایٹم بم استعمال کرنے کا متحمل ہوسکتا ہے اور کیا عالمی طاقتیں اس بات کی اجازت دیں گی؟ ہر گز نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوا تو نہ صرف بھارت کی ایک ارب سے زائد اور پاکستان کی 22 کروڑ سے زائد انسانی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہوگا۔ اس جنگ کے تابکاری اثرات سے پورا برصغیر بری طرح تباہی کا شکار ہوگا اور بعض مغربی ممالک بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ اس لیے بعض غیر جذباتی اور زمینی حقائق کا ادراک رکھنے والوں کا یہ کہنا درست دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان اس بزدلانہ اور مکروہ حرکت کا جواب تو ضرور دے گا لیکن دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کسی صورت نہیں ہوسکتی اور یہ خیال، انداز اور خواہش صرف ایک نہیں، بلکہ دونوں ملکوں کی ہے۔ نریندر مودی انتخابات میں اپنی شکست سے بچنے کے لئے، جس کے آثار انہیں نظر آرہے ہیں، ہر وہ کام کرنے کے لیے آمادہ ہیں جس کی قیمت ان کا ملک اور عوام ادا کرے گا لیکن اب خود ہندوستان میں یہ حقیقت زور پکڑتی جاری ہے کہ پلوامہ ڈرامے سے لے کر پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا اصل مقصد کیا ہے۔