تازہ شمارہ
Title Image
عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر

عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر

ایک طویل عرصے بعد یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان کے تمام طبقات، سیاسی وعسکری قیادت کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں مختلف شعبہ ہائے زندگی اور مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی پیج پر ہیں۔ اس بات پر مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ’’دشمن سے حساب لینا ہے، صرفِ نظر نہیں کرنا، سزا دینی ہے، معاف نہیں کرنا۔‘‘ وزیراعظم ہاؤس، جی ایچ کیو سے لے کر پارلیمان کے ایوانوں تک مکمل اتفاق رائے دیکھنے میں آیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں، جہاں شاید ہی کسی بات پر اتفاق رائے دیکھنے میں آتا ہے وہاں سب اس بات پر ہم خیال اور ہم آواز تھے کہ بھارت کو اس کی جارحیت کا سبق ضرور ملنا چاہئے۔ پلوامہ حملے کے بعد جب بھارت کی جانب سے الزامات لگانے کا سلسلہ شروع ہوا تو وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے انڈیا کو پلوامہ میں نیم فوجی اہلکاروں پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا اور اب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور باجوہ نے غیر مبہم الفاظ میں کہا کہ انڈیا اب ہماری طرف سے سرپرائز کے لئے تیار رہے۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر انڈیا اس واقعے میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کرتا ہے تو پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ ’میں انڈیا کی حکومت کو پیشکش کر رہا ہوں۔ آپ تحقیقات کروانا چاہتے ہیں کہ کوئی پاکستانی اس میں ملوث تھا تو ہم تیار ہیں۔‘ لیکن تحقیقات کے نتیجے میں جو حقائق سامنے آتے، بھارتی قیادت یقیناً اس کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی، کیونکہ خود بھارت میں سے بھی آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ پلواما کا ڈرامہ انتخابات میں کامیابی کے لئے رچایا گیا تھا۔ پھر یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ بھارت میں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو وہاں پاکستان دشمنی کو سب سے بڑا اور مؤثر سلوگن بنایا جاتا ہے، الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور اس مرتبہ نریندرمودی تمام حدیں پار کرچکے ہیں، جبکہ پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت نے انتخابات میں کامیابی کے لئے بھارت دشمنی کا سلوگن استعمال نہیں کیا۔ اپنے پالیسی بیان میں وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان پر حملہ کریں گے تو پاکستان جوابی حملہ کرنے کا سوچے گا نہیں، جوابی حملہ کرے گا۔ پاکستان کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انڈیا میں الیکشن کا سال ہے اور اس موقع پر ایسی باتیں کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ انڈین حکومت اس معاملے پر دانشمندانہ رویہ اپنائے گی اور حالات کو نہیں بگاڑے گی۔ پاکستان جب بھی انڈیا سے مذاکرات کی بات کرتا ہے تو انڈیا دہشت گردی کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ انڈیا کو پیشکش کر رہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے معاملے پر بھی بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن بھارتی قیادت کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ پاکستان کی کسی بھی پیشکش کو قبول کرنے کا انہیں سراسرخسارہ ہی ہوگا اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔