تازہ شمارہ
Title Image
بھارت کی بزدلانہ در اندازی

بھارت کی بزدلانہ در اندازی

پاکستان کا دندان شکن جواب ریزہ ریزہ کردے گا بھارتی خواب

انڈین انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پلوامہ واقعہ (14فروری2019) سے تقریباً ایک ہفتہ قبل بھارتی حکومت کو پیشگی اطلاع دے دی تھی کہ بھارتی فوجیوں پر کوئی خود کش حملہ ہوسکتا ہے لیکن مودی سرکار نے اس کو جان بوجھ کر ہونے دیا تاکہ بی جے پی کو ایک سنہری موقع مل سکے۔ اسے وہ پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کیلئے عالمی ذرائع ابلاغ میں اچھال سکے اور اسے پاکستان کیخلاف جارحیت کے ارتکاب کا جواز مل جائے۔ اس طرح بی جے پی کو مئی 2019 کے لوک سبھا اور ریاستی انتخابات میں فائدہ پہنچ جائے۔ انڈیا کی پانچ ریاستوں کے انتخابات میں بی جے پی بری طرح پٹی ہے۔ وہ اپنی تیزی سے گرتی ساکھ کو سنبھالا دینا چاہتی ہے۔  اس حکمت عملی کی سب سے بڑی کمزوری یہ سامنے آئی ہے کہ مبینہ طور پر مودی سرکار نے اس کی خود منصوبہ بندی نہیں کی بلکہ اس نے پلوامہ واقعہ سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ بی جے پی نے پلوامہ و اقعہ روکنے کی بجائے اپنے سیاسی و انتخابی فائدے کیلئے جموں روڈ پر یہ خودکش حملہ ہونے دیا۔  کشمیر کی جدوجہد آزادی ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ دوسری طرف پاکستان سفارتی محاذپر امریکہ، چین، روس، یورپ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملائشیا، ترکی کی ہمدردیاں سمیٹنے لگا ہے اور پاکستان کی کاوش سے ہی امریکہ طالبان قطر مذاکرات کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ انڈیا نے افغانستان میں بیٹھ کرپاکستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا جو منصوبہ بنایا ہوا تھا اس کا زوال شروع ہوگیا اور افغانستان میں پاکستان کیخلاف قدم جمانے کیلئے بھارت نے جو گیارہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے وہ بھی اب ڈوبتی نظر آرہی ہے کیونکہ امریکہ کا ماسٹر پلان آج کل یہ ہےکہ افغانستان سے وہ باعزت نکل جائے جس کیلئے پاکستان اس کی بھرپورمدد کررہا ہے۔ پاکستان کی بھرپور مدد سے ہی افغانستان سے امریکہ کی فوجوں کا محفوظ انخلا ممکن ہونے جارہا ہے۔ ان حالات میں انڈیا نے پاکستان پر حملہ کرنے کا جواز پیدا کرنے کیلئے بھارتی بارڈر فورس کے قافلے پر خودکش حملہ ہونے دیا ۔ بھارت نے عجلت میں26 فروری کو علی الصباح تقریباً تین بجے اپنے 8جنگی طیاروں کو لائن آف کنٹرول کو کراس کر کے بم گرانے کا حکم دیا۔ حملہ آور طیارے سری نگر/جموں فضائی اڈوں سے اڑے جو لائن آف کنٹرول سے تین سے پانچ منٹ کی پرواز کے فاصلے پر ہیں۔ یہ حملہ آور طیارے چکوٹھی وادی سے مظفرآباد سیکٹر میں داخل ہوئے۔ چونکہ پاکستان فضائیہ پہلے ہی ایک ہفتے سے ہائی الرٹ پر تھی لہٰذا پاکستان فارورڈ آپرٹینگ بیس (Forward Operating Base) سے دو جے ایف 17۔تھنڈر طیارے جن کو فخر پاکستان کا لقب بھی حاصل ہے، نے تین منٹ کے اندر ٹیک آف کرکے حملہ آور طیاروں کو جا لیا۔ پاکستان کے جے ایف۔ 17تھنڈر جنگی طیارے راڈار اور بی وی آر (Beyond Visual Range) میزائل سے لیس تھے جو انسانی آنکھ کو دکھائی دینے کے فاصلے سے بھی کافی دور دشمن کے جہاز مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انڈین حملہ آور طیاروں کو جونہی پاکستانی طیاروں کے آنے کی بھنک پڑی تو انہوں نے فوراً خود کو تباہی سے بچانے کیلئے اپنا پے لوڈ (Pay Load) اپنے ٹارگٹ پر پہنچنے سے پہلے ہی بحفاظت واپس نکلنے کیلئے گرا دیا جس کی وجہ سے بالاکوٹ (کے پی کے) سے سات کلومیٹر پہلے ہی انہوں نے بھاگنے میں عافیت سمجھی۔ پے لوڈ جب جنگی طیارہ گرا دیتا ہے تو وہ زیادہ تیز رفتاری سے واپس جاسکتا ہے۔ حملہ آور طیاروں کیلئے ایک بڑا رسک یہ تھا کہ ان میں سے اگر ایک بھی طیارہ بالاکوٹ (پاکستان) میں گرا لیا جاتا اور اس کے ٹکڑے پاکستان کے اندر گرتے تو بھارت دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا کیونکہ ساری دنیا کو ثبوت مل جاتا۔ اس طرح پاکستان کسی بھی شکل میں انڈیا کے جارحانہ حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ کر لیتا۔  26 فروری 2019 کو انڈین ایئر فورس نے لائن آف کنٹرول عبور کرکے وادی چکوٹھی کے راستے پر جو حملہ کیا اس کے بارے میں پاک فضائیہ کے ریٹائرڈ سینئر عہدیدار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے گفتگو میں کہا کہ بھارتی طیاروں کا پے لوڈ (امیونیشن/فیول ٹینک) گرنے سے چند مکانات کو نقصان پہنچا ایک درخت جو ڈھلوان پر تھا وہ دھماکے سے زمین میں پڑنے والے گڑھے کے باعث ٹوٹ کر زمین پر آن گرا۔ اسی ریٹائرڈ افسر نے کاشن (Caution) دیا۔ پلوامہ کے بعد بھارتی وزیراعظم مودی کو جو یکے بعد دیگرے سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی وجہ سے وزیراعظم مودی کوئی احمقانہ قدم اٹھانے سے باز نہیں آئے گا، لہٰذا پاکستان کی فضائیہ اور آرمی کو ہمہ وقت چوکس رہنا ہوگا۔ اس احمقانہ سرجیکل سٹرائیک کے بعد پاک فضائیہ کے افسروں اور جوانوں کی چھٹیاں منسوخ کر کے ان کو ہنگامی طور پر اپنی اپنی ڈیوٹی پر پہنچنے کے احکامات دے دیئے گئے ہیں۔  بھارتی طیاروں کا اپنا منتخب ہدف بالاکوٹ تھا مگر پاک فضائیہ کے بروقت ری ایکشن کی وجہ سے وہ ٹارگٹ سے سات کلومیٹر پہلے ہی واپس بھاگ گئے۔ پاک فضائیہ کے جے ایف۔17 تھنڈر طیارے اگر صرف ایک منٹ تاخیر سے پہنچتے تو انڈین جنگی طیارے اپنے ہدف پر پہنچ چکے ہوتے۔  پاکستان ایئر فورس انتہائی قابل اعتماد لو لیول (Low Level) اور ہائی لیول (High Level) راڈارز سے لیس ہے جن کی وجہ سے پاک فضائیہ نے پہاڑوں کے درمیان وادی چکوٹھی میں نیچی پرواز کرنے والے دشمن کے طیاروں کو دیکھ لیا اور بروقت ری ایکٹ (React) کرتے ہوئے فارورڈ آپریٹنگ بیس سے پرواز پر روانہ کر دیا۔ جے ایف۔17 تھنڈر طیارے آواز سے دگنی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ جے ایف۔17 تھنڈر ملٹی رول جنگی طیارے ہیں جو کہ بم گرانے، ڈاگ فائیٹ ایئر ٹو ائیر، ایئر ٹو گرائونڈ، ایئر ٹو اینٹی شپ اور اینٹی سب میرین میزائل سے بھی لیس ہیں ۔  پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور اور ان کے رفقاء نے اس واقعے کے بعد نہ صرف لائن آف کنٹرول بلکہ ورکنگ بائونڈری کے ان مقامات پر دن رات جنگی طیاروں کی فضائی نگرانی مزید بڑھا دی ہے جن راستوں سے انڈین ایئر فورس کے طیارے آزاد کشمیر اور پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی امکانی طور پر کر سکتے ہیں ۔ انڈین ایئر فورس کا یہ نیم دلی سے انجام دیا گیامشن تھا۔ یہ بھارتی قوم کے گرتے ہوئے مورال کو سہارا دینے کی ناکام اور بھونڈی کوشش قرار دی جارہی ہے جو پروفیشنل اپروچ نہیں تھی۔