تازہ شمارہ
Title Image
پورا بھارت پاکستانی میزائلوں کی زد میں

پورا بھارت پاکستانی میزائلوں کی زد میں

پاکستانی قوم کے جذبہ حب الوطنی کو شرپسند ملک بھارت نے للکارا ہے۔ تاہم دشمن غلط فہمی میں مبتلا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اپنی گیدڑ بھبکیوں سے پاک وطن پر وار کر سکتا ہے، لیکن اگر اس خطے میں جنگ چھڑی تو پھر منٹوں میں پاکستانی افواج ہندوستان کا ’’ہندو‘‘ اور ’’ستان‘‘ الگ الگ کردیں گی۔ بھارت ہر برس اپنے دفاعی بجٹ پر سب سے زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے لیکن اس کے باوجود عالمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کا میزائل سسٹم بھارت کے سسٹم سے کہیں زیادہ موثر ہے۔ آج پاکستان کے پاس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی میں ساٹھ کلو میٹر سے لیکر 2750 کلو میٹر تک مار کرنے والے میزائلز موجود ہیں۔ کروز ٹیکنالوجی میں بھی پاکستان فضا، زمین اور سمندر سے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیوکلیئر میزائل ٹیکنالوجی میں اہم اہداف کے حصول کے بعد پاکستان نے بھارت کے ’’کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن‘‘ کا منصوبہ خاک میں ملا دیا۔ آبدوز سے کروز میزائل ’’بابر تھری‘‘ کے کامیاب تجربے نے بھارت کی دفاعی برتری کے تابوت میں آخری کیل پہلے ہی ٹھونک دی ہے۔ سمندر سے زمین پر مار کرنے والے ’’بابر تھری‘‘ میزائل500 کلو جوہری مواد کے ساتھ 450کلو میٹر دور تک اپنے ہدف کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ کروز میزائلز میں پاکستان کے پاس ’’بابر ون‘‘ اور ’’بابر ٹو‘‘ ہیں جو 750کلومیٹر تک نشانے کو شکار کر سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جنگ ہوتے ہی پاکستان کے سپہ سالار ایک سے دس تک گنتی گنیں گے اور ادہر بھارت پر پاکستانی میزائل قہر بن کر برس پڑیں گے۔ پاکستان کا میزائل سسٹم جامع حکمت عملی کے تحت مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے میدان جنگ میں کارروائی کرنے ’’بیٹل فیلڈ رینج بیلسٹک میزائلز‘‘ کا ذکر کرتے ہیں جس میں ’’نصر‘‘، ’’حتف‘‘ اور ’’ابدالی‘‘ میزائلز شامل ہیں۔ یہ تینوں میزائلز 70 کلو میٹر سے 200 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  ’’شارٹ رینج بیلسٹک میزائلز‘‘ میں ’’غزنوی‘‘ اور ’’شاہین ون‘‘ کے نام سے دشمن اچھی طرح واقف ہے۔ یہ میزائلز 300 سے900کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے شکار کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یعنی اگر اسلام آباد سے غوری میزائل 690 کلومیٹر فاصلے پر موجود بھارتی دارالحکومت نئی دلی پر وار کرے تو نہ دلی رہے گا اور نہ دماغ، اور اگر 800 کلو میٹر دور واقع بھارتی شہر جےپور کو ہمارے غوری میزائل نے نشانہ بنایا تو وہ بالکل تباہ و برباد ہوجائے گا۔  ’’میڈیم رینج بیلسٹک میزائلز‘‘ کی بات کریں تو پاکستان کے پاس ’’غوری ون‘‘ ، ’’غوری ٹو‘‘ ، ’’شاہین ٹو‘‘، ’’شاہین تھری‘‘ اور ’’ابابیل‘‘ میزائلز شامل ہیں۔ ان میزائلز کی رینج 1500 سے 27500 کلو میٹر تک ہے۔  غوری میزائل اگر اسلام آباد سے 1073 کلومیٹر دور بھارتی شہر لکھنؤ اور 1066 کلومیٹر واقع کانپور پر داغ دیا تو دونوں شہر منٹوں میں غارت ہوجائیں گے۔ ’’غوری ٹو‘‘ بھارتی ریاست گجرات اور مہاراشٹر تک بہ آسانی وار کر سکتا ہے۔ اسلام آباد سے گجرات 1288کلومیٹر اور مہاراشٹر 1575کلومیٹر دور ہے۔ ’’غوری ٹو‘‘ 750کلومیٹر کا جوہری بم بھی اپنے ہمراہ لے جاکر دشمن کو صفحۂ ہستی سے مٹا سکتا ہے کیوں کہ اس کی مجموعی رینج 1800کلومیٹر تک ہے۔ یعنی آدھا بھارت منٹوں میں ختم ہوجائے گا۔ ہمارا ’’شاہین ٹو‘‘ میزائل سپر سونک بیلسٹک میزائل ہے جو سولڈ فیول پر چلتا ہے اور اس کی مار 2000کلومیٹر تک ہے۔  ’’شاہین تھری‘‘ میزائل پاکستان کا جدید ترین درمیانی حدِ ضرب والا بیلسٹک میزائل (ایم آر بی ایم) ہے جس کی رینج 2750 کلومیٹر یعنی1700 میل ہے اور یہ اپنے ہدف کو 22,226 کلومیٹر فی گھنٹہ (آواز سے 18 گنا زیادہ) تیز رفتاری سے تباہ کرسکتا ہے۔ اس رینج اور رفتار کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے جنگ کی صورت میں ’’شاہین تھری‘‘ نئی دلی کو صرف تین منٹ میں نشانہ بناسکے گا اور بھارتی فوج کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں ہوگا۔ ’’شاہین تھری‘‘ میزائل سے بھارت کے اُن دور دراز فوجی اڈوں کو بھی صرف 15 منٹ میں تباہ کیا جاسکے گا جو جزائر نکوبار اور انڈیمان میں واقع ہیں۔ ’’شاہین تھری‘‘ دورانِ پرواز یہ پچاس ہزار (50000) میٹر سے بھی زیادہ بلندی پر، خلا کے بہت قریب پہنچ کر اپنے نشانے کی جانب بڑھتا ہے۔ ٹھوس ایندھن سے چلنے والے ’’شاہین تھری‘‘ میزائل کو بیک وقت کئی وارہیڈز سے لیس کیا جاسکتا ہے جس میں جوہری مواد بھی شامل ہے۔ یعنی اگر ’’شاہین تھری‘‘ ایک ہزار کلوگرام ایٹم بم کے ساتھ بھارت پر وار کرے گا تو پھر اس ملک کا ذکر صرف کتابوں میں رہ جائےگا۔ پاکستان اپنے طاقتور ترین ’’میڈیم رینج بیلسٹک میزائلز‘‘ میں شامل ہونے والے نئے ’’ابابیل‘‘ کا بھی کامیاب تجربہ گزشتہ برس جنوری کے مہینے میں کر چکا ہے۔ ’’ابابیل‘‘ ایک ہی میزائل سے بیک وقت کئی ایٹم بم داغنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ اس صلاحیت کی بدولت جہاں ایک طرف پاکستان نے سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت کو مزید مستحکم کر لیا ہے وہیں یہ بات بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ ہمارے ’’ابابیل‘‘ کو بھارت پر برسنے سے اس کا اینٹی میزائل سسٹم بھی روک نہیں سکتا۔ بھارت نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے اینٹی میزائل سسٹم تیار کیا تھا لیکن پاکستان نے ’’ابابیل‘‘ کو ’’ملٹی پل، انڈیپنڈنٹ، ری انٹری وہیکل‘‘ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ناقابل شکست بنادیا ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں اس ٹیکنالوجی کی یہ تشریح کی جاتی ہے کہ ایک ہی میزائل پر متعدد وارہیڈز نصب کئے جاتے ہیں جو میزائل کے ایک مقررہ فاصلے پر پہنچنے کے بعد خود کار طریقہ سے، ایک سے زائد اہداف کو خود نشانہ بناسکتے ہیں۔ دفاعی بجٹ اور جنگی  سازوسامان کےاعداد و شمار

برطانوی تحقیقاتی ادارے ’’انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز‘‘(آئی آئی ایس ایس) کے مطابق 2018ء میں بھارت نے جنگی جنون میں چار کھرب بھارتی روپے یعنی 58 ارب ڈالرز دفاعی بجٹ پرخرچ کئے۔ دوسری جانب پاکستان نے اپنی دفاعی حکمت عملی پر گزشتہ برس 1.26کھرب پاکستانی روپے یعنی 11؍ارب ڈالرز خرچ کئے۔ بھارت کی تینوں افواج کے مجموعی آن ڈیوٹی فوجیوں کی تعداد 14 لاکھ جبکہ پاکستان کی تعداد چھ لاکھ 53800 سے زائد ہے۔ امریکا کے تھنک ٹھینک ’’سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘ (سی ایس آئی ایس)کے مطابق بھارت کے پاس مجموعی طور پر نو طرح کے آپریشنل میزائلز ہیں جس میں ’’اگنی تھری‘‘ میزائل بھی شامل ہے جو تین ہزار سے پانچ ہزار کلومیٹر تک وار کرسکتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ’’سی ایس آئی ایس‘‘ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ’’میڈیم رینج بیلسٹک میزائلز‘‘ ایٹم بم کے ساتھ بھارت کے کسی بھی شہر کو بہ آسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ’’اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘‘ (ایس آئی پی آر آئی) کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس 150 سے زائد نیوکلیئر وار ہیڈز موجود ہیں جبکہ بھارت کے پاس 130 سے 140 کے درمیان نیوکلیئر وار ہیڈز ہیں۔  ’’آئی آئی ایس ایس‘‘ کے مطابق بھارت کی بری فوج کی تعداد 12 لاکھ ہے، ان کے پاس 3565 ٹینک، 3100 ؍انفنٹری گاڑیاں، 336 بکتربند گاڑیاں اور 9719 توپ خانہ موجود ہے۔ ’’آئی آئی ایس ایس‘‘ کے مطابق پاکستان کے بری فوجی جوانوں کی تعداد پانچ لاکھ 60 ہزار سے زائد ہے۔ پاکستان کے پاس 2496 ٹینک، 1605 ؍ انفنٹری گاڑیاں، 4472 آرٹلری گنز، 375 خودکار بھاری توپ خانہ موجود ہے۔ ’’انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز‘‘ کی رواں ماہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھارت کی بڑی فوج اور زیادہ سامان ان کی قوت کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ عملی طور پر بھارت کی بری فوج کی صلاحیت محدود ہے۔ ’’آئی آئی ایس ایس‘‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کو ناکافی رسد، اسپیئر پارٹس کی قلت اور گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بھارتی بری فوج پاکستان کے سامنے کمزور ہے۔ بھارت کا ساحلی بارڈر پاکستان کے مقابلے میں کافی بڑا ہے اس لیے اس نے اپنا بحری دفاع مضبوط کیا ہے۔ بھارتی بحریہ کے پاس 16 سب میرین، 106 بحری جہاز اور 75 جنگی طیارے ہیں۔ پاکستان کا ساحلی بارڈر چھوٹا ہے۔ پاک بحریہ کے پاس سات چھوٹے اور 17 بڑے بحری جہاز ہیں۔ پاک بحریہ کے پاس آٹھ جنگی طیارے بھی ہیں۔  بھارت کے فضائی دفاع کی بات کی جائے تو وہ بھی انتہائی کمزور دکھائی دیتا ہے، یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ ’’انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز‘‘ (آئی آئی ایس ایس) کی رپورٹ کہہ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بظاہر تو بھارتی فضائیہ میں 127200 فوجی ہیں جبکہ ان کے پاس 814 جنگی طیارے ہیں جن میں روس کے ایم آئی جی 21 طیاروں کی تعداد زیادہ ہے جو جلد ہی ریٹائر بھی ہونے والے ہیں۔ بھارت اپنا فضائی دفاع مضبوط کرنے کے لیے 2032ء تک 22؍اسکواڈرنز بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ادھر پاکستان کے پاس 425 لڑاکا طیارے موجود ہیں جن میں چینی ساخت کا طیارہ F-7PG اور امریکی طیارہ F-16فائٹنگ فیلکنز بھی شامل ہیں۔ پاک فضائیہ کے پاس سات ایئر بورن طیارے بھی ہیں جبکہ بھارت کے پاس صرف ایسے چار طیارے ہیں۔ ’’آئی آئی ایس ایس‘‘ کی رپورٹ کہتی ہے کہ بھارت کے مقابلے میں پاک فضائیہ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ جھپٹنے، پلٹنے اور شکار کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت نے پاکستانی سرحد میں دراندازی کرنے کی غلطی تو کر دی ہے اب اسے اپنی حرکت پر پچھتانا پڑے گا۔