تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019

ہنستے ہنستے

ایک وکیل نے وصیت کی کہ اس کی تمام جائیداد اور روپیہ اس کے مرنے کے بعد پاگلوں میں تقسیم کر دیا جائے۔  لوگوں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا۔ ’’یہ سب کچھ مجھے ایسے ہی لوگوں سے ملا ہے۔‘‘ ٭…٭…٭ ایک بار ملا نصیر الدین نے کسی حلوائی سے مٹھائی خریدی اور اپنے لڑکے سے کہا کہ یہ گھر لے جائو… لڑکا چلا گیا تو ملا حلوائی سے پوچھنے لگے۔’’بھائی میرے پاس پیسے نہ ہوں تو تم کیا کرو گے؟‘‘ حلوائی نے کہا۔’’ میں تمہارے منہ پر ایک تھپڑ مار دوں گا ۔‘‘ ملا نے منہ آگے کر دیاتو حلوائی نے زوردار تھپڑ مارا۔ تھپڑ کھا کر ملا بولے۔’’بھئی اس بھائو میں تو جتنی کہو ،میں مٹھائی خریدنے کو تیار ہوں۔‘‘ ٭…٭…٭ ایک بے وقوف نے اپنے دوست سے کہا۔ ’’میں نے آج ریلوے والوں کو دھوکا دے دیا۔‘‘ دوست: ’’اچھا…وہ کیسے؟‘‘ بے وقوف: ’’میں نے واپسی کا ٹکٹ تو خرید لیا مگر واپس نہیںگیا ۔‘‘ ٭…٭…٭ ’’بیٹے! ایک اور آئسکریم کھائو گے؟‘‘ کنجوس باپ نے پوچھا۔ ’’لیکن ابو میں نے تو ایک آئسکریم بھی نہیں کھائی۔‘‘ بیٹا حیرانی سے بولا۔ ’’تم بھول رہے ہو بیٹا…پچھلے سال جب ہم یہاں آئے تھے تو تم نے یہیں سے ایک آئس کریم کھائی تھی۔‘‘ ٭…٭ کسی مکان پر بورڈ لگا ہوا تھا۔’’مکان کرائے کے لئے خالی ہے، صرف اسی شخص کو کرایہ پر دیا جائے گا، جس کے بال بچّے نہ ہوں۔‘‘ ایک دن ایک بچہ مکان مالک کے پاس آیا اور بولا۔’’مہربانی فرما کر یہ مکان مجھے کرائے پر دے دیں، میرا کوئی بال بچہ نہیں، صرف ماں باپ ہیں۔‘‘ (ورینہ سیف)