تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019

شرارت سے توبہ

عامر ایک ذہین بچہ ضرور تھا لیکن اس کے ساتھ شرارتی بھی تھا۔ سب لوگ اس کی شرارتوں سے بہت تنگ تھے۔ ’’کبھی اپنے ہمسایوں کے درخت کو پتھر مار مار کر اس کے سارے آم گرادیتا تو کبھی کسی کے گھر کے باہر کی کنڈی لگادیتا، جس سے گھر والے اندر بند ہوجاتے، سب لوگ اس سے پریشان تھے۔ وہ اپنی شرارتیں اتنی مہارت سے کرتا تھاکہ پکڑا نہ جاتا۔  ایک دفعہ اس نے نمک کا ڈبہ اپنے ہمسایوں کے گھر اپنی چھت سے نیچے صحن میں پکتی ہوئی ہنڈیا میں پھینک دیا، جس سے ان کی پکی ہوئی ہنڈیا خراب ہوگئی۔ عامر کے گھر کے سامنے چوہدری صاحب کا گھر تھا، جو بہت نیک اور رحم دل تھے۔ وہ بھی عامر کی شرارتوں سے بخوبی واقف تھے۔ عامر نے ان کے ساتھ کبھی کوئی شرارت نہیں کی تھی۔ اب وہ ایک نئی شرارت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ جمعہ کا دن تھا، سب لوگ نماز کے لئے مسجد کا رخ کررہے تھے۔ عامر نے جب دیکھا کہ کوئی بھی اب گلی میں نہیں ہے تو اس نے چوہدری صاحب کی گاڑی کے ٹائر میں کیل چبھودی ،جس سے اس کا ٹائر پنکچر ہوگیا۔ جب سب نماز ادا کرکے آئے تو چوہدری صاحب کو بے حد پریشانی ہوئی، عامر یہ سب منظراپنی چھت سے دیکھ رہا تھا اور خوش ہورہا تھا کہ اچانک اس کا پائوں پھسلا اور وہ نیچے جاگرا۔  اب وہ شدید درد میں مبتلا تھا کیونکہ اس کا بازو ٹوٹ چکا تھا۔ گائوں میں صرف ایک ہی چوہدری صاحب کی گاڑی تھی، جس کا ٹائر پنکچر ہوچکا تھا۔ نہ ہی گائوں میں کوئی اسپتال تھا، جس سے اس کی مرہم پٹی ہوسکتی۔ اس کے والدین اس کو تانگے پر بٹھاکر شہر لے گئے۔ راستے میں جب بھی کوئی جمپ آتی اور جھٹکا لگتا تو اس کے بازو کا جوڑ ہل جاتا، جس سے اسے بے حد تکلیف ہوتی اور وہ درد سے چیختا۔ اسے اپنی شرارتوں کی سزا مل چکی تھی چنانچہ اس نے آئندہ شرارتیں نہ کرنے کا عہد کرلیا اور سب سے معافی مانگ لی۔