تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019

خوابوں کی تعبیر

احسن تھکا ہارا گھر آیا تو اس کا منہ آج بھی اترا ہوا تھا۔ احسن کی بوڑھی والدہ احسن کو دیکھ کر سمجھ گئیں کہ احسن آج بھی ناکام ہوگیا ہے اور اسے نوکری نہیں ملی۔  احسن اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ جب احسن 5سال کا تھا تو اس کے والد ایک کار ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگئے تھے۔ احسن کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اس کے والد کا بھی خواب تھا کہ ان کا بیٹا بڑا ہوکر ڈاکٹر بنے مگر والد کی وفات کے بعد اس کی ماں بالکل بے آسرا ہو کر رہ گئی تھیں۔ وہ سلائی کرکے احسن کو صرف میٹرک تک تعلیم دلا پائی تھی۔ آگے پڑھانا ان کا بھی خواب تھا مگر وہ مالی حالات کی وجہ سے مجبور تھیں۔  شعور کی منزل پر قدم رکھنے کے بعد احسن جان چکا تھا کہ اس کے والد کیا خواب دیکھا کرتے تھے اور احسن نے اپنے والد کے خواب کو پورا کرنے کا دل میں پکا عہد کرلیا تھا۔ اس لئے میٹرک کے فوراً بعد اس نے ایک کوچنگ سینٹر میں بچوں کو پڑھانا شروع کردیا اور اس ذریعۂ آمدنی سے اس نے انٹر کرلیا۔ ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے وہ کسی اچھی جگہ نوکری کرکے بہت سا پیسہ کمانا چاہتا تھا۔ انٹر کے رزلٹ کے بعد احسن روزانہ کسی نہ کسی کمپنی میں انٹرویو دینے جارہا تھا مگر ہر روز ناکام ہوجاتا۔ آج صبح پورے عزم کے ساتھ وہ گھر سے نکلا تھا کہ نوکری ضرور مل جائے گی مگر ہر روز کی طرح آج بھی وہ مایوس لوٹا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد وہ اپنی ماں سے کہنے لگا۔ ’’ اب میں بہت مایوس ہوگیا ہوں، کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کروں؟‘‘ یہ سن کر والدہ نے سمجھایا۔ ’’بیٹا مایوسی کی باتیں نہیں کرتے، تم اپنی کوشش جاری رکھو، دیکھنا تم ضرور کامیاب ہوگے۔ اگلے دن احسن کو ایک جگہ منیجر کی ملازمت کے لئے جانا تھا۔ صبح اٹھتے ہی وہ تیار ہوکر ماں کی دعائوں کے ساتھ گھر سے رخصت ہوا۔ جب وہ مطلوبہ کمپنی میں پہنچا تو اس کی نظر مین گیٹ کی طرف گئی، جہاں ایک چھوٹا سا بیگ پڑا ہوا تھا، جو غالباً کسی کا کمپنی کے اندر جاتے ہوئے گرگیا تھا۔ احسن جلدی سے وہاں پہنچا اور بیگ اٹھا کر اسے کھول کر دیکھنے لگا کہ شناختی کارڈ وغیرہ مل جائے تو وہ یہ بیگ جس کا بھی ہے ،اس تک پہنچا دے۔ احسن جلدی جلدی بیگ ٹٹولنے لگا۔ اسے ایک کارڈ مل گیا۔ جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ غالباً یہ بیگ کمپنی کے ہی کسی فرد کا ہے۔ بیگ میں موبائل فون اور کافی رقم بھی موجود تھی، چونکہ احسن ایک ایماندار نوجوان تھا لہٰذا وہ یہ بیگ جلد از جلد اس کے مالک تک پہنچا دینا چاہتا تھا۔ احسن بیگ لے کر کمپنی میں داخل ہوا اور استقبالیہ پر موجود شخص سے کارڈ پر لکھے شخص کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ اسے پتہ چلا کہ یہ بیگ اسی کمپنی کے مالک عمران صاحب کا ہے، جہاں وہ انٹرویو کے لئے آیا ہے۔ احسن فوراً عمران صاحب کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بیگ دیتے ہوئے تمام بات بتا دی کہ اسے یہ بیگ کہاں سے ملا ہے۔ بیگ دیکھ کر عمران صاحب کی جان میں جان آئی اور وہ احسن کو بتانے لگے کہ یقیناً گاڑی سے نکلتے وقت یہ باہر گر گیا ہوگا۔ احسن نے بتایا کہ وہ ملازمت کے لئے انٹرویو دینے آیا ہے۔ عمران صاحب نے کہا۔ ’’احسن تمہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ دنیا میں آج بھی ایماندار لوگ موجود ہیں۔ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو کب کا یہ بیگ لے کر رفو چکر ہو جاتا، کیونکہ بیگ میں موجود رقم اور موبائل فون کسی بھی انسان کے ایمان کو ڈگمگانے کے لئے کافی تھا۔ تم یہ بیگ لے کر بھاگ سکتے تھے، کیونکہ تم مالی طور پر بہت پریشان حال ہو مگر تم نے ایمانداری سے کام لیا۔ میں تمہارے کردار سے متاثر ہوا ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ مجھے تمہارا انٹرویو لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمہیں منیجر کی اسامی کے لئے منتخب کرتا ہوں، کیونکہ تم قابلِ اعتماد ہو۔‘‘ یہ سب سن کر احسن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس چھوٹی سی ایمانداری کے بدلے میں اس کا رب اسے اتنا اچھا انعام دے گا۔ منیجر رکھنے کے ساتھ ساتھ عمران صاحب نے احسن کو گاڑی بھی دی تھی۔ احسن آج بہت خوش تھا، کیونکہ اب اسے اپنی منزل بہت قریب نظر آرہی تھی۔ اب اسے ڈاکٹر بننے میں کوئی مشکل نظر نہیں آرہی تھی، کیونکہ عمران صاحب نے احسن کا خواب جان کر اسے پورا کرنے کا وعدہ بھی کرلیا تھا۔