تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019

قائد اعظم کا تصور پاکستان

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ قائداعظمؒ کے ذہن میں پاکستان کا جو تصور تھا اس کے خدوخال کیا تھے۔ دوسرے لفظوں میں وہ کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ ظاہر ہے ان کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ خشکی کا ایک ٹکڑا مہیا ہوجائے، جہاں مسلمان چین سے زندگی بسر کرسکیں۔ وہ پاکستان کو ایک مثالی مملکت بنانا چاہتے تھے۔ ایک ایسی مملکت، جس میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک عادلانہ اور منصفانہ معاشی اور معاشرتی نظام قائم ہو۔ جہاں انسان، انسان کو نہ لوٹ سکے۔ جہاں امیر کو غریب پر فوقیت حاصل نہ ہو۔ جہاں ہر انسان کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع نصیب ہوں۔ جہاں کوئی کسی پر ظلم نہ کرسکے۔ جہاں ایک جمہوری نظام قائم ہو۔ جہاں مختلف سیاسی جماعتیں پنپ سکیں اور ایک تعمیری انداز میں رائے عامہ کو اپنے حق میں منظم کرسکیں۔ قائداعظمؒ کے ان نظریات کا اندازہ کرنے کے لیے ہمیں ان کی تقریروں اور بیانات پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ 1941ء میں قائداعظمؒ نے فرمایا: ’’اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز ہمیشہ ہمارے سامنے رہنا چاہئے کہ اس میں اطاعت اور بندگی کا محور صرف خدا کی ذات ہے۔ اس کا عملی ذریعہ قرآن مجید کے احکام اور اصول ہیں۔ اسلام میں اصلاً نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے، نہ پارلیمنٹ کی اور نہ کسی اور شخص یا ادارے کی۔ قرآن مجید کے احکام ہی سیاست اور معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں قائم کرتے ہیں۔ اسلامی حکومت اور دوسرے لفظوں میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی کے لیے آپ کو علاقے اور مملکت کی ضرورت ہے۔‘‘ 1943ء میں اُنہوں نے لیگ کے کراچی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’وہ کون سا رشتہ ہے، جس میں بندھ جانے سے تمام مسلمان ایک واحد جسم کی طرح ہیں۔ وہ کون سی چٹان ہے، جس پر ان کی ملت کی عمارت قائم ہے۔ وہ کون سا لنگر ہے، جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کردی گئی ہے۔ وہ بندھن، وہ رشتہ، وہ چٹان، وہ لنگر خدا کی عظیم کتاب قرآن حکیم ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے، ہم میں زیادہ سے زیادہ وحدت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ ایک خدا، ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ایک کتاب، ایک امت۔‘‘ اور یہ محض ایک نعرہ نہیں تھا، جو قائداعظمؒ نے بلند کیا۔ اُنہیں اس نعرے کے تمام تقاضوں کا علم تھا اور یہ احساس تھا کہ قرآن حکیم میں مسلمانوں کے سارے مسائل کا حل موجود ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے 1945ء میں قوم کے نام عید کے پیغام میں کہا:’’اس حقیقت سے سوائے جہلاء کے ہر شخص واقف ہے کہ قرآن مسلمانوں کا ضابطۂ اخلاق ہے، جو مذہب، معاشرت، تجارت، عدالت، فوج، سول اور فوجداری کے تمام قوانین کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ مذہبی رسوم ہوں یا روزمرہ زندگی کے معاملات، روح کی نجات کا سوال ہو یا بدن کی صفائی کا۔ اجتماعی واجبات کا مسئلہ ہو یا انفرادی حقوق کا، ان تمام معاملات کے لیے اس ضابطے میں قوانین موجود ہیں۔‘‘ اسی سال زیادہ وضاحت کے ساتھ اپنا تصور پاکستان پیش کرتے ہوئے اُنہوں نے فرمایا:’’پاکستان کا مطلب یہی نہیں کہ ہم غیر ملکی حکومت سے آزادی چاہتے ہیں۔ اس سے اصل میں مسلم نظریہ مراد ہے، جس کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔ ہمیں اپنی آزادی ہی مطلوب نہیں، ہمیں اس قابل بھی بننا ہے کہ اس کی حفاظت کرسکیں اور اسلامی تصورات اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔‘‘ ہم بتا چکے ہیں کہ قائداعظمؒ صوبوں کی اندرونی خودمختاری کے حامی تھے لیکن وہ صوبائی اور علاقائی تعصبات کے سخت خلاف تھے۔ ان کی رائے کو سمجھنے کے لیے ان کی تقریروں سے یہ دو اقتباس پیش کیے جاتے ہیں:’’آپ کو اپنے صوبے کی محبت اور اپنی مملکت کی محبت کے درمیان فرق کو سمجھنا چاہئے۔ مملکت کی محبت ہمیں ایک ایسی سطح پر لے جاتی ہے، جو صوبائی محبت سے بالاتر ہے۔ اس کے لیے بلند تر حب وطن کی ضرورت ہے۔ مملکت سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ذاتی، مقامی یا صوبائی مفادات کو سارے ملک کے مفاد کے تابع کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں۔ مملکت کا فرض پہلے ہے اور اپنے صوبے، اپنے ضلع، اپنے قصبے اور اپنے گاؤں کا فرض بعد میں آتا ہے۔‘‘ (12؍اپریل 1948ء) ’’اب ہم سب پاکستانی ہیں …نہ بلوچی، نہ پٹھان، نہ سندھی، نہ بنگالی، نہ پنجابی، ہمیں پاکستانی اور صرف پاکستانی کہلانے پر فخر ہونا چاہئے۔ ہم جو کچھ محسوس کریں، جو کچھ عمل کریں، جو قدم بھی اُٹھائیں، پاکستانی اور فقط پاکستانی کی حیثیت میں۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ جب کوئی نیا قدم اُٹھانے لگیں تو پہلے رک کر ذرا سوچ لیں کہ یہ آپ کی ذاتی یا مقامی پسند یا ناپسند کے زیر اثر ہے یا پورے پاکستان کے فائدے کا خیال، دوسری سب باتوں پر غالب ہے۔ اگر ہر شخص یوں اپنا محاسبہ کرے گا اور خود کو مجبور کرکے اپنے آپ پر اور دوسروں پر بھی ایمانداری کا اصول لاگو کرنے کا عادی ہوجائے گا تو پاکستان کا مستقبل نہایت روشن اور شاندار ہوجائے گا۔‘‘  قائداعظم ؒ نے فرمایا۔’’اقلیتوں کی پوری پوری حفاظت کی جائے گی۔ خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتی ہو۔ ان کا مذہب، عقیدہ اور ایمان پاکستان میں بالکل سلامت اور محفوظ رہے گا۔ ان کی عبادات کی آزادی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ ان کے مذہب، عقیدے، جان و مال اور ان کی ثقافت کی مناسب حفاظت ہوگی۔ وہ بلا لحاظِ رنگ و نسل ہر اعتبار سے پاکستان کے شہری ہوں گے۔‘‘