تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019

غزلیں

قتیل شفائی سورج مرے دل میں جل رہا ہے یہ موم کا گھر پگھل رہا ہے اُٹھا تھا دُھواں بس اِک مکاں سے اب شہر کا شہر جل رہا ہے یہ شہر جو اب ہے نوحہ نوحہ پہلے تو غزل غزل رہا ہے اُس گھر سے ہوائیں بے خبر ہیں جس گھر میں چراغ جل رہا ہے اِس دھوپ میں یہ بھی ہے غنیمت سایا مرے ساتھ چل رہا ہے بن جائے نہ ایک روز ایندھن یہ پیڑ جو پھول پھل رہا ہے کیچڑ میں تو چل رہی ہے دُنیا اور پاؤں مرا پھسل رہا ہے سُنتے ہیں قتیلؔ، پھر سے موسیٰ فرعون کے گھر میں پل رہا ہے

غلام بھیک نیرنگؔ پھر وہی ہم ہیں، خیالِ رُخِ زیبا ہے وہی سرِ شوریدہ وہی، عشق کا سودا ہے وہی دانہ و دام سنبھالا مرے صیّاد نے پھر اپنی گردن ہے وہی، عشق کا پھندا ہے وہی پھر لگی رہنے تصوّر میں وہ مژگانِ دراز رگِ جاں میں خلشِ خارِ تمنّا ہے وہی پھر لگا رہنے وہی سلسلۂ ناز و نیاز جلوۂ حُسن وہی، ذوقِ تماشا ہے وہی پھر ہوا ہم کو دل و دیں کا بچانا مشکل نگہِ ناز کا پھر ہم سے تقاضا ہے وہی ناز نے پھر کیا آغاز و اندازِ نیاز حُسنِ جاں سوز کو پھر سوز کا دعویٰ ہے وہی محوِ دیدِ چمنِ شوق ہے پھر دیدۂ شوق گُلِ شاداب وہی، بلبلِ شیدا ہے وہی پھر چمک اُٹھی وہ کجلائی ہوئی چنگاری رختِ ہستی ہے وہی، عشق کا شعلہ ہے وہی آرزو جی اُٹھی پھر پیار جو اُس بُت نے کیا پھر لبِ یار میں اعجازِ مسیحا ہے وہی پاسِ ناموس نے پھر رخصتِ رفتن چاہی شہرتِ حُسن وہی، الفتِ رسوا ہے وہی پھر ہوئی لیلیٰ و مجنوں کی حکایت تازہ اُن کا عالم وہی، نیرنگؔ کا نقشہ ہے وہی

ابرار احمد بیٹھے بیٹھے جانے کہاں ہم کھو جاتے ہیں کبھی کبھی تو ہم دیوانے ہو جاتے ہیں ہنس پڑتے ہیں کچھ اپنی بے حالی پر ، پھر رونا ہو تو اپنے حال پہ رو جاتے ہیں کبھی اچانک اُمڈے چلے آتے ہیں آنسو اور کچھ داغ جو اس دل پر ہیں، دھو جاتے ہیں اور تو ہم کو کیا لینا دینا ہے کسی سے جاتے ہوے کوئی یاد دلوں میں سمو جاتے ہیں جانے کہاں سے ظاہر ہو جاتے ہیں انساں اور خدا معلوم کدھر کو کھو جاتے ہیں اوروں کا سامان تو خیر اٹھتا بھی کہاں ہے بوجھ مگر اپنے حصے کا ڈھو جاتے ہیں آگ تھا تو ، اور راکھ ہوا جاتا ہے آخر تیرے لیے ہنستے بھی رہے، اب رو جاتے ہیں لڑتے رہتے ہیں آنکھوں کے عقب میں کسی سے اور تھک ہار کے آخر ہم بھی سو جاتے ہیں یاد آتے ہیں دوست کبھی پھولوں کی طرح سے کانٹا سا کوئی تار نفس میں پرو جاتے ہیں

نیل احمد اپنا حصہ اٹھا کے لے گیا ہے جسم چہرہ اٹھا کے لے گیا ہے اس کے سینے سے لگ کے سونا تھا اور وہ تکیہ اُٹھا کے لے گیا ہے خود سے پردہ بھی اِک ضرورت ہے کون پردہ اُٹھا کے لے گیا ہے کتنی نازک مزاج تھی وہ پری جس کو سایہ اُٹھا کے لے گیا ہے ماں نے بیٹی کے سر پہ ہاتھ رکھا باپ ، بیٹا اُٹھا کے لے گیا ہے اِک سمندر جو نا مکمل تھا اشک میرا اُٹھا کے لے گیا ہے میرا چہرہ کسی نے مانگا تھا اور وہ کاسہ اُٹھا کے لے گیا ہے آگئی سر پہ فیصلے کی گھڑی شاہ کعبہ اُٹھا کے لے گیا ہے