تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
با ادب با خبر

با ادب با خبر

یونیورسٹی آف صوابی نے اس اعتبار سے تاریخ رقم کی کہ وہاں نہ صرف اُردو ڈپارٹمنٹ قائم کیا بلکہ پہلے ہی سال زندہ و جاوید اُردو مشاعرہ کا اہتمام بھی کر ڈالا۔ محبت بھرے لوگ، نفیس جذبوں کے ساتھ مہمان شعراء کی اس قدر بھرپور پذیرائی کر رہے تھے کہ گماں ہی نہیں ہوا یہ خیبر پختونخوا ہے یا پنجاب۔ رئیس الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد، ڈاکٹر واجد صدر شعبہ اُردو، ڈاکٹر رحمٰن بانی شعبہ اُردو اور ناظم ڈاکٹر سبحان اس موقع پر پیش پیش تھے۔ چوک اعظم لیہ میں مشہور ادبی اور علمی شخصیت ناصر ملک کی جانب سے ’’دوسری اردو سخن عالمی کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس چار ادوار پر مشتمل تھی۔ اس محفل میں وہ سارے رنگ تھے جو ایک ادبی محفل کو سجانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ ابتدا میں عبدالغفور کشفی کی کتاب ’’اک نیا راستہ‘‘ اور زبیر قیصر کی شاعری کی کتاب ’’میں نے آواز کو آتے دیکھا‘‘ کی تقریبِ رونمائی ہو۔ اس کے بعد ایک خوبصورت مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ملکی اور غیرممالک سے آئے ہوئے نامور شعراء نے اپنا کلام سنا کر لوگوں کو محظوظ کیا۔ جن شعرائے اکرام نے مشاعرے کو چار چاند لگائے، ان میں سے کچھ شعراء کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ ناصر ملک، جاویداحمد، ڈاکٹر فرتاش سید، افضل خان، میجر شہزاد نیر، امر روحانی، مظہر نیازی، عبدالغفور کشفی، محمود پاشا، زبیر قیصر، راکب مختار، عمران مانی و دیگر شامل تھے۔ آخر میں رباب نے خوبصورت گیت سنا کر محفل کو مسحور کردیا۔ اس کانفرنس میں شرکت کیلئے سفر کے دوران مجھے میجر شہزاد نیر اور عبدالغفور کشفی کا ساتھ حاصل تھا، جنہوں نے اپنی میٹھی گفتگو کے ذریعے اس سفر کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔ کانفرنس کی سب سے اہم بات ناصر ملک صاحب کی مہمان نوازی تھی۔ تمام گھر والوں نے مہمانوں کی آسائش اور آرام کا مکمل خیال رکھا اور مختلف انواع کے کھانوں سے شرکاء کی تواضع کی۔ عظیم پریم راگی کا شمار برصغیر پاک و ہند کے مطرب عظیم، شیریں نوا اور رنگین ادا گائیک میں ہوتا ہے۔ وہ صرف قوال ہی نہیں بلکہ بیک وقت عالم، مبلغ، صوفی، موسیقار، فن کار، دانشور، ادیب، صاحب دیوان شاعر، تاجر اور پاکستان کی تحریک آزادی کے مجاہد بھی تھے۔ ان کی سماع کی محفلیں چند ایسی خصوصیات کی حامل ہوتی تھیں، جنہوں نے اُن کے فن کی شہرت کو معراج پر پہنچا دیا۔ وہ دورانِ سماع ہمیشہ باوضو رہتے تھے۔ اپنا کلام حمد و نعت سے شروع کرتے اور اُسی پر ختم کرتے۔ آداب سماع کی پابندی اتنی سختی سے کرتے تھے کہ عارفانہ کلام یا سماع شروع کرنے سے پہلے بڑی بے تکلفی اور صاف گوئی سے کہہ دیتے تھے کہ ”سامعین میں سے جس کسی کو سگریٹ سے شوق کرنا ہو، محفل شروع ہونے سے پہلے کر لے۔ دوران سماع کسی نے ایسا کیا تو وہ سماع روک دیں گے۔“ عظیم پریم راگی نے کچھ عارفانہ کلام بھی کہا۔ ان میں سے ایک، جس کا مصرع اولیٰ تھا ’’ڈولی میں ہو جا سوار‘‘، ہر خاص و عام کے دل کی آواز بن گیا بلکہ کچھ لوگوں نے تو مالی منفعت کی خاطر اسے شادی بیاہ کا گیت بنا بھی ڈالا۔ بی بی سی لندن کے اردو پروگرام ”سیربین“ کے سابق انچارج محترم رضا علی عابدی اکثر و بیشتر اس پروگرام میں عظیم پریم راگی کے ریکارڈ سنوایا کرتے تھے۔ اس موقع پر کیے جانے والے تبصروں میں ایک بار انہوں نے کہا ”سماع کے شیدائی آج تک یہ نہ سمجھ سکے کہ عظیم پریم راگی ایک عظیم گلوکار تھے یا شاعر؟“ عظیم پریم راگی کے یوں تو آٹھ بیٹے تھے لیکن صوفیانہ کلام اور سماع کی وراثت اُن کے ایک ہی بیٹے فضا معین کے حصے میں آئی، جنہیں پریم راگی ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ انہی فضا معین پریم راگی ثانی نے نصف صدی سے زیادہ عرصے کی تلاش و تحقیق کے بعد ’’عظیم پریم راگی، حالات زندگی اور عارفانہ مجموعہ کلام“ کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی ہے، جس کی تقریب رونمائی مارچ میں متوقع ہے۔ اس تقریب کے خدوخال مرتب کرنے کی غرض سے جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد کی سربراہی میں نشست منعقد ہوئی جس میں فضا معین، ان کے صاحبزادے ضیاء معین، معروف صحافی حضرات نعمت اللہ شاہ، جی ایم گل اور رشید بٹ شریک ہوئے۔