تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
جلد کی شادابی کیسے کریں بحال؟

جلد کی شادابی کیسے کریں بحال؟

بڑھتی عمر کے ساتھ جلد کی شادابی میں کمی آنا ایک فطری عمل ہے لیکن فضا میں چھائی آلودگی اور ہمارے غیر صحت مندانہ لائف اسٹائل کے باعث عمر سے پہلے ہی جلد کی تازگی اور شادابی رخصت ہوجاتی ہے۔ ہماری جلد لاکھوں خلیوں سے مل کر بنی ہے۔ ہر روز پرانے خلیے مُردہ ہو جانے پر نئے خلیے ان کی جگہ لے لیتے ہیں لیکن اوپر بیان کی گئی وجوہات کے تحت نئے خلیے بننے کا عمل سست ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں جلد روکھی، داغدار اور ناہموار نظر آنے لگتی ہے۔  کیمیکل پیل: آج کل جلد کی شادابی بحال کرنے کیلئے کیمیکل پیلز (Chemical peels) کا بڑا چرچا ہے۔ اس طریقے سے نہ صرف جلد سے جھائیاں وغیرہ دور کی جاتی ہیں بلکہ عمر کے ساتھ پیدا ہونے والی جھریوں اور گہرے داغ دھبوں کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کیمیکل پیلنگ کے ذریعے دھوپ سے متاثرہ جلد اور آلودگی کے اثرات کا علاج بھی ممکن ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق کیمیکل پیل کا بنیادی کام جلد کی مُردہ تہہ کو اتارنا ہے تاکہ نئے خلیے اس کی جگہ لے سکیں اور جلد شاداب نظر آئے۔  امریکن سوسائٹی آف پلاسٹک سرجنز کی جانب سے کی جانے والی ایک حالیہ ریسرچ سے معلوم ہوا کہ کاسمیٹک ٹریٹمنٹس میں ان دنوں کیمیکل پیلنگ کی مقبولیت عروج پر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طریقے پر عمل کرنا بہت آسان ہے۔ آپ کو اپنے چہرے پر کچھ دیر کیلئے محض ایک پروڈکٹ کی تہہ لگانی پڑتی ہے اور اگر یہ کام کوئی تربیت یافتہ شخص انجام دے تو اس کے نتائج بہت اچھے برآمد ہوتے ہیں۔  کیمیکل پیل کیا ہے؟: یہ تیزابی خاصیت رکھنے والا ایسا محلول ہے جسے جلد کی سطح پر مردہ خلیے اتارنے کی غرض سے لگایا جاتا ہے۔ یہ محلول جلد کی خرابیوں کو دور کرنے کے علاوہ جلد کی نئی صحت مند تہہ کی افزائش میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اسے ایک برش کی مدد سے چہرے پر لگایا جاتا ہے اور ایک مخصوص وقفے کے بعد اتار دیا جاتا ہے۔  ان دنوں سترہ سے لے کر ستّر سال تک کی خواتین کیمیکل پیلز سے استفادہ کررہی ہیں۔ اس کی مقبولیت کی وجہ یہی ہے کہ انہیں لگانے میں بہت کم وقت صرف ہوتا ہے جبکہ ان کے نتائج مؤثر اور دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔ آج کل تمام سیلونز میں یہ طریقہ استعمال کیا جارہا ہے، تاہم بہتر یہی ہے کہ یہ کام کسی ڈرماٹولوجسٹ کی زیرنگرانی انجام دیا جائے۔ ان کی قیمت ایک ہزار روپے سے بیس ہزار روپے تک ہوسکتی ہے جس کا انحصار پیل میں شامل اجزاء کی نوعیت پر ہوتا ہے۔  خیال رکھنے کی باتیں: کیمیکل پیلز کئی طرح کے اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں تاہم ان میں عموماً الفا ہائیڈرو آکسی ایسڈز شامل کئے جاتے ہیں جنہیں پھلوں سے کشید کیا جاتا ہے۔ خیال رکھنے کی بات یہ ہے کہ اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کیمیکل پیل استعمال کریں۔ وہ آپ کو آپ کی جلد کی نوعیت اور کیفیت کے اعتبار سے کیمیکل پیل تجویز کریں گے۔ اس طریقۂ علاج پر عمل کرنے والوں کو کم از کم دو ہفتوں تک دھوپ میں نکلنے سے منع کیا جاتا ہے۔ کچھ کمپنیاں ایسی پیلنگ کٹس پیش کر رہی ہیں جنہیں آپ خود استعمال کرسکتی ہیں تاہم ایک تو یہ زیادہ مؤثر نہیں ہوتے، دوسرے ان کے استعمال کے بعد ضمنی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں، جیسے کہ جلد پر سرخی کا نمودار ہونا، جلد کا خشک ہوجانا، خارش ہونا وغیرہ۔ لہٰذا ڈاکٹرز کا یہی مشورہ ہے کہ اس طریقے پر از خود عمل کرنے سے گریز کریں۔