تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
روتے ہوئے اسکول نہ جانا میرے بچے

روتے ہوئے اسکول نہ جانا میرے بچے

بہت کم بچے ایسے ہوتے ہیں جو پہلی بار اسکول جاتے وقت خوش دکھائی دیں۔ بیشتر بچے اس موقع پر ڈرے سہمے اور روتے بسورتے نظر آتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بچوں کو اس کیلئے پہلے سے ذہنی طور پر تیار نہیں کیا جاتا۔ یہ تیاری کس طرح ممکن ہے، اس بارے میں چند تجاویز آپ کیلئے پیش ہیں۔ ان کی مدد سے آپ اپنے بچے کو ہنسی خوشی اسکول جانے پر آمادہ کر سکتی ہیں۔  اس بارے میں بات کریں: بیشتر مائیں، بچے کیلئے اچھا سا اسکول تلاش کرکے اور اس کے داخلے وغیرہ کا انتظام کر کے سمجھتی ہیں کہ انہوں نے اپنے نونہال کو اسکول بھیجنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ گو کہ سب سے اہم مرحلہ بچے کو اسکول جانے کیلئے ذہنی طور پر تیار کرنے کا ہے لیکن مائیں اس سلسلے میں اپنے بچے سے بات کئے بنِا اس کی انگلی پکڑ کر اسکول لے جاتی ہیں کہ وہ دو ایک روز تک رو دھو کر ٹھیک ہوجائے گا۔ اس کی بجائے بچے کو پہلی بار اسکول بھیجنے سے پہلے اس سے بات کریں، اسے اسکول کا تصور سمجھائیں اور باتصویر کتابیں دکھا کر اسکول جانے میں اس کی دلچسپی ابھاریں۔ اس سلسلے میں اچھی اچھی باتیں بتا کر اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ اگر بچہ اس بارے میں کوئی بات پوچھنا چاہے تو مناسب جواب دے کر اس کی تشفی کریں اور اس کے سوالات پر جھنجھلانے کی بجائے تحمل سے پوری بات سنیں۔  اسکول جانے کی تیاری میں اسے شامل رکھیں: بچے کیلئے اسکول جانے کے تصور کو پُرلطف بنائیں۔ اسکول بیگ، لنچ باکس اور دیگر ضروریات کی خریداری کیلئے اسے ساتھ لے کر جائیں اور یہ چیزیں اسے اپنی پسند سے منتخب کرنے کا موقع دیں۔ اس سے پوچھیں کہ وہ لنچ میں کیا لے جانا پسند کرے گا یا کرے گی۔ اس طرح وہ ذہنی طور پر اسکول جانے کیلئے آمادہ ہوجائیں گے اور اس بارے میں ایک اچھا تصور قائم کرلیں گے۔ شیڈول بنائیں: اگر آپ نے شروع ہی سے اپنے بچے کیلئے سونے، جاگنے اور کھانے پینے کا شیڈول مقرر کر رکھا ہے تو اس سے اچھی بات کوئی نہیں لیکن اگر ایسا نہیں تو اسکول جانے سے کم از کم دو، تین ہفتے پہلے اسے ایک معمول کا عادی بنانے کی کوشش کریں تاکہ وہ بغیر کسی دقت کے وقت پر اٹھے، ناشتہ کرے اور وقت سے پہلے اسکول پہنچ جائے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو بچہ یا تو اسکول لیٹ پہنچے گا یا نیند پوری نہ ہونے کے سبب اس کا زیادہ تر وقت وہاں اونگھتے ہوئے گزرے گا۔  ڈسپلن سکھائیں: نظم و ضبط سکھانے کیلئے بچے کی تربیت اس وقت سے شروع ہوجاتی ہے جب وہ پیروں چلنا اور باتیں کرنا سیکھتا ہے، تاہم اسے اسکول بھیجنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کرلیں کہ وہ اپنے بڑوں کی بات مانتا ہے اور جو رولز اسے بتائے جائیں، ان کی پابندی کرتا ہے۔ پلے اسکولز میں گو کہ نئے آنے والے بچوں کے ساتھ رعایت برتی جاتی ہے لیکن انہیں یہ ضرور سکھائیں کہ وہ اپنی ٹیچر کی بات مانیں۔ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود کی عادت: اسکول شروع کروانے سے کئی ماہ قبل بچے کو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے اور گھلنے ملنے کا عادی بنائیں۔ اسے اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیں تاکہ وہ یہ سیکھ سکے کہ دوسرے بچوں کے ساتھ اسے کس طرح پیش آنا ہے۔ اس کیلئے اپ اپنے دوستوں اور عزیزوں کے بچوں کو اپنے گھر بلائیں یا اپنے بچے کو کچھ دیر کیلئے ان کے گھر بھیج دیں۔ بچوں کو اپنے ساتھ شاپنگ مال اور کسی نزدیکی پارک لے جانا بھی اچھا رہتا ہے۔  خیال رکھیں: یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہر بچے کی اپنی الگ شخصیت ہوتی ہے اور اسی لحاظ سے اس کی کارکردگی دوسروں سے مختلف ہوسکتی ہے۔ آپ سمجھتی ہیں کہ آپ کا بچہ اسکول جانے کے قابل ہوگیا ہے لیکن وہ اس کیلئے قطعی آمادہ نہ ہو تو اس کے ساتھ زبردستی نہ کریں بلکہ اسے مزید وقت دیں، یا اگر وہ اسکول جانے کیلئے بادل ناخواستہ راضی ہوجائے لیکن مسلسل ناخوش اور چڑچڑا دکھائی دے تو فوراً اس کی وجہ دریافت کرنے کی کوشش کریں۔