تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
ثانیہ مرزا کو پاکستان بہو ہونا مہنگا پڑگیا

ثانیہ مرزا کو پاکستان بہو ہونا مہنگا پڑگیا

بھارتی انتہاپسند پاکستان دشمنی میں اپنی ہی ٹینس اسٹار کے خلاف ہو گئے۔ ثانیہ مرزا کو برانڈ ایمبیسڈر آف تلنگانہ کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا گیا۔ پلواما حملے کے فوری بعد بھارت نے حسب روایت پاکستان مخالفت دکھاتے ہوئے کرکٹرز اور فنکاروں کے خلاف محاذ بنالیا۔ پی ایس ایل کی کوریج روکنے، معروف بھارتی میوزک کمپنیوں کے یو ٹیوب چینلز سے پاکستانی گلوکاروں کے گانے ہٹانے سمیت نفرت انگیزی پر مشتمل کئی اقدامات کئے گئے۔ بھارتی انتہا پسندوں نے اب ٹینس کوئین کہلانے والی ثانیہ مرزا کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ ہونے کے باعث ثانیہ کو ’’برانڈ ایمبیسڈر آف تلنگانہ‘‘ کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔ بھارتی ریاست تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے واحد رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ نے یہ مطالبہ کیا کہ ثانیہ مرزا ’’پاکستان کی بہو‘‘ ہیں، اس لیے انہیں برانڈ ایمبیسڈر آف تلنگانہ کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ متنازع بیانات کے لیے مشہور ٹی راجہ سنگھ نے ریاست کے وزیراعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ کو ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کرلینے کا وقت آگیا ہے۔ ثانیہ مرزا کو جولائی 2014ء میں بھارت اور بیرون ملک ریاستی مفادات کو فروغ دینے کیلئے تلنگانہ کی برانڈ ایمبیسڈر تعینات کیا گیا تھا۔ بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے سوشل میڈیا پر دانشمندانہ طریقے سے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے امن کیلئے دعا کی تھی جس پر حسب معمول انہیں شعیب ملک سے تعلق کی بنِا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ ادھر دوسری جانب، ثانیہ مرزا نے تنقید کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دے ڈالا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ثانیہ مرزا نے لکھا کہ یہ پوسٹ ان کے لیے ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بطور سیلیبرٹی ہمیں کسی بھی حملے کی مذمت سوشل میڈیا پر کرنی چاہیے تاکہ ہم یہ ثابت کرسکیں کہ ہم محب وطن ہیں اور اپنے ملک کیلئے فکرمند ہوتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہم سیلبریٹیز ہیں اور آپ میں سے کچھ بیزار ذہن ہیں جنہیں نفرت اور اپنا غصہ نکالنے کیلئے ہر وہ موقع چاہیے ہوتا ہے جس سے نفرت پھیلے؟ ثانیہ نے واضح کیا کہ مجھے کسی بھی حملے کی مذمت سب کے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں، نہ ہی سوشل میڈیا پر یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم سب دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ٹینس اسٹار نے مزید لکھا کہ میں اپنے ملک کیلئے کھیلتی ہوں، اپنا پسینہ بہاتی ہوں اور اس طریقے سے اپنے ملک کی خدمت کرتی ہوں۔ دہشت گردی کیلئے اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں تھی، نہ ہی ہوگی۔ ثانیہ نے تنقید کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ بجائے یہ دیکھنے کے کہ کس سیلیبرٹی نے کسی واقعے کی مذمت کرنے کے لیے کتنی ٹوئیٹس کیں، جس طرح سے کرسکتے ہیں، ملک کی خدمت کریں۔ سوشل میڈیا پر اعلان کیے بغیر ہم اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، آپ بھی ایسا کریں۔