تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
آسٹریلین بگ بیش شنواری کی ٹیم جیت گئی

آسٹریلین بگ بیش شنواری کی ٹیم جیت گئی

آسٹریلین بگ بیش میں ڈینیئل کرسچن کی شاندار آل راؤنڈر کارکردگی کی بدولت پاکستانی فاسٹ بولر عثمان شنواری کی ٹیم میلبرن رینی گیڈز نے فائنل میں میلبرن اسٹارز کو 13 رنز سے شکست دے کر چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ میلبرن میں کھیلے گئے میچ میں میلبرن اسٹارز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو ابتدا میں بالکل درست ثابت ہوا اور گیارہویں اوور میں رینی گیڈز 65 رنز پر آدھی ٹیم سے محروم ہو چکے تھے۔ اس موقع پر تجربہ کار ڈینیئل کرسچن اور ٹام کوپر وکٹ پر ڈٹ گئے اور دونوں کھلاڑیوں نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اننگز کے اختتام تک مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔ کرسچن اور کوپر نے چھٹی وکٹ کے لیے 80رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کی معقول مجموعے تک رسائی یقینی بنائی۔ کوپر نے 43اور کرسچن نے 38رنز کی اننگز کھیلی۔ میلبرن اسٹارز کے جیکسن برڈ اور ایڈم زامپا نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ ہدف کے تعاقب میں اسٹارز کے اوپنرز مارکس اسٹوئنس اور بین ڈنک نے اپنی ٹیم کو 13اوورز میں 93 رنز کا جاندار آغاز فراہم کر کے میچ کو یکطرفہ بنانے کی کوشش کی۔ 93 کے اسکور پر اسٹوئنس 39رنز بنا کر پویلین لوٹے تو میلبرن اسٹارز کو فتح کے لیے مزید محض 53رنز درکار تھے لیکن اگلے چند ہی اوورز میں میچ کا نقشہ بدل گیا۔ ایک رن کے اضافے سے پیٹر ہینڈز کومب بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹے جبکہ 99 کے مجموعے پر بین ڈنک اور گلین میکس ویل بھی یکے بعد دیگرے دو گیندوں پر پویلین لوٹ کر ٹیم کی مشکلات بڑھا گئے۔ ڈنک 57 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ نک میڈنسن اور ڈیوین براوو بھی ٹیم کے کسی کام نہ آسکے اور 112رنز پر میلبرن اسٹارز 7وکٹوں سے محروم ہو گئے۔ اس کے بعد ایڈم زامپا نے کچھ بڑے شاٹس کھیلے لیکن ان کی یہ کوشش بھی اسٹارز کے کسی کام نہ آ سکی اور وہ مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 132رنز بنا سکی۔ میلبرن اسٹارز کی تمام 7 وکٹیں صرف 19رنز کے اضافے پر گریں۔ میلبرن رینی گیڈز نے میچ میں 13رنز کی فتح کے ساتھ ہی پہلی مرتبہ بگ بیش کی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ ڈینیئل کرسچن کو 38 رنز کی اننگز اور 2 وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستانی فاسٹ بولر عثمان شنواری بھی میلبرن رینی گیڈز کی نمائندگی کر رہے تھے لیکن وہ پاکستان سپرلیگ میں کراچی کنگز کی نمائندگی کے لیے وطن واپس لوٹ آئے تھے۔