تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
کرکٹ کرکٹ

کرکٹ کرکٹ

بھارت میں کرکٹ کے امور چلانے والے ادارے بورڈ آف کنٹرول کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے بغیر ثبوت کے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو پاکستان مخالف خط لکھ دیا، جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا ماننا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بھارت کی جانب سے خط میں رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ کرکٹ روابط نہ رکھیں جن کی سرزمین دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہوتی ہے۔  بی سی سی آئی نے خط میں پاکستان کے خلاف نہ کھیلنے سے متعلق بات نہیں کی جبکہ یہ موقف اپنایا کہ انگلینڈ میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ 2019 ء میں ان کے کرکٹرز، آفیشلز اور شائقین کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہیں۔ یہ خط بی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) راہول جوہری کی جانب سے لکھا گیا ہے جو بظاہر حکومتی دباؤ کا نتیجہ دکھائی دے ریا ہے۔ ادھر پاکستان کرکٹ بورڑ (پی سی بی) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے لکھے گئے اس بے بنیاد خط سے پی سی بی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے ایگزیکٹیو بورڈ کے 15 رکن ممالک میں سے کوئی ایک بورڈ اکیلا کچھ نہیں کرسکتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بغیر ثبوت پاکستان پر الزام لگانے اور آئی سی سی کو لکھے گئے اس خط کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کو شوٹنگ ورلڈ کپ میں پاکستانی دستے کو ویزا نہ دینے کے معاملے پر جو شرمندگی اٹھانی پڑی ہے بالکل اسی طرح آئی سی سی میں بھی شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔  خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاوقے پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے جنہیں اسلام آباد نے مسترد کردیا۔ بعد ازاں بھارت کی جانب سے کوئی ہتھیار نہ چل سکا تو اس نے کھیلوں کو سیاست میں شامل کرتے ہوئے پاکستان سے بین الاقوامی ایونٹس میں بھی میچز نہ کھیلنے کا واویلا مچایا۔ بھارت کے کچھ سابق کرکٹرز کی جانب سے بورڈ سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ بھارت ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف نہ کھیلے جبکہ کچھ بھارتی کھلاڑی اسے احمقانہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔ بھارتی لیجنڈ کرکٹر سنیل گواسکر نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ورلڈ کپ میں نہ کھیلنے سے نقصان صرف بھارت کا ہی ہوگا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے سنیل گواسکر کا کہنا تھا کہ عالمی مقابلے میں بھارت کے ساتھ نہ کھیلنے سے نقصان ہوگا۔ جب پروگرام اینکر کی جانب سے سوال کیا گیا تو بھارت کے سابق کپتان کا کہنا تھا کہ اگر میں آج بھارتی ٹیم میں ہوتا تو ورلڈکپ میں پاکستان کے خلاف میچ لازمی کھیلتا۔  اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سنیل گواسکر نے کہا کہ میرا کھیلنے کا مقصد خالی میچ کھیلنا نہیں ہے بلکہ میچ میں حریف ٹیم کو شکست دے کر اسے ان 2 پوائنٹس سے محروم کرنا ہے جو اسے بغیر کھیلے ملیں گے۔ سابق بھارتی کپتان کا کہنا تھا کہ بھارت کے نہ کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کو اہم 2 پوائنٹس مل جائیں گے جس سے نقصان صرف بھارت کا ہوگا اور پاکستان کی ممکنہ طور پر سیمی فائنل اور پھر فائنل تک رسائی ممکن ہوجائے گی۔ دوسری جانب سنیل گواسکر اپنے حکومت کے فیصلے کے حامی بھی نظر آئے اور کہا کہ اگر بھارتی حکومت پاکستان کے خلاف انگلینڈ میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کرے گی تو وہ اس کا ساتھ دیں گے۔  انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں سنیل گواسکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا نقصان عالمی مقابلوں بھارت سے نہ کھیلنے سے نہیں بلکہ دوطرفہ سیریز کے نہ کھیلنے سے ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے قافلے پر ہونے والے حملے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ تاہم ایک مرتبہ پھر بغیر تحقیقات کئے بھارت نے پاکستان پر اس حملے کا الزام عائد کردیا جبکہ اسلام آباد نے اسے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ اس حملے کے بعد سابق بھارتی کھلاڑی ہربھجن سنگھ نے بھارتی ٹیم کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف میچ کی مخالفت کی تھی اور بورڈ سے یہ میچ نہ کھیلنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے حکام نے اپنے ہی بورڈ کے منصوبے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ورلڈ کپ میں شرکت پر کسی بھی طرح پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی جارحیت رکنے کا نام نہیں لے رہی اور اب یہ جارحیت سفارتی سطح سے بڑھ کر کھیل سمیت دیگر شعبوں پر بھی بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا خواب دیکھنے والے بھارت نے اب کرکٹ کے میدانوں میں بھی اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔  بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے تعینات کی گئی کرکٹ کی انتظامی کمیٹی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیئرمین کو لکھے جانے والے خط کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس میں ان سے درخواست کی جائے گی کہ آئی سی سی پاکستان کی ورلڈ کپ 2019 ء میں شرکت پر پابندی عائد کرے۔ جنگی جنون میں مبتلا بھارت کے کرکٹ بورڈ کی کمیٹی کی جانب سے تیار کیے گئے اس خط کے مسودے میں دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر پاکستان کو ورلڈ کپ میں شرکت سے نہ روکا گیا تو بھارت ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔  بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا(بی سی سی آئی) کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین ونود رائے قانونی مشاورت کے بعد اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے کہ اس سلسلے میں آئی سی سی سے رابطہ کیا جائے یا نہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق کمیٹی کے سربراہ کی منظوری کے بعد بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر راہول جوہری نے خط کا مسودہ تیار کیا۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی کسی بھی صورت اس پر فیصلہ نہیں کر سکتا۔  قوموں کے تنازعات ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فیفا یا اولمپکس جیسے اہم ایونٹس میں شرکت نہ کی جائے۔ البتہ ایک بھارتی آفیشل نے کسی بھی قسم کے خط کی تیاری کے موقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی سی سی آئی یا کمیٹی نے پاکستان کی شرکت پر پابندی کے حوالے سے کوئی خط تیار نہیں کیا اور اگر انہوں نے ایسا کیا بھی ہے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اسے مسترد کر دے گی۔  بی سی سی آئی آفیشل نے کہا کہ آئینی طور پر ایسا ممکن نہیں اور آئی سی سی کوالیفائی کرنے والے تمام اراکین کو اپنے ایونٹس میں شرکت کا اختیار دیتا ہے۔ کھیل کے عالمی ضابطوں اور قوانین پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین نے بھی بھارت کی اس کوشش کو خام خیالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت چاہے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے، وہ پاکستان کو ایونٹ میں شرکت سے نہیں روک سکتا۔  کھیل کے عالمی منظر نامے خصوصاً کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے مشہور کرکٹ ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بی سی سی آئی اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کی گورننگ باڈی سے عالمی ایونٹ میں کسی ملک کی شرکت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرنے کی بات، صرف کہنا آسان ہے، ایسے ایونٹ میں کئی ممالک شریک ہوتے ہیں لہٰذا کسی ایک ملک کی ایما پر فیصلے نہیں لیے جا سکتے اور خود کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔  آئی سی سی کے تمام بورڈ اراکین کی ورکشاپ 24 سے 26 ؍فروری تک شیڈول ہے جو ان سطور کی اشاعت تک ہو چکی ہو گی اور بھارت اگر آئی سی سی کے پاس جانے کا فیصلہ کرتا ہے تو ممکنہ طور پر اسی ورکشاپ میں یہ بات رکھی جائے گی، البتہ یہاں بھی ان کی ناکامی کا قوی امکان ہے۔ کرکٹ ماہر کا کہنا تھا کہ آئی سی سی اس معاملے پر ووٹنگ کرے گا کیونکہ یہاں بھارت کی مرضی نہیں چلے گی اور اس فیصلے پر تمام اراکین کے متفق ہونے تک بھارت کو کسی بھی قسم کی کامیابی کا خواب نہیں دیکھنا چاہیے۔ واضح رہے کہ رواں سال انگلینڈ میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ 16 ؍جون کو مانچسٹر میں کھیلا جائے گا اور اس میچ کے ٹکٹ پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔