تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
اسٹوڈیو رائونڈ اپ

اسٹوڈیو رائونڈ اپ

شان اور ریما، فلم میں اکٹھے ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل اداکارہ زارا شیخ کی ہدایات میں میوزک ویڈیو سامنے آگئی مہرالنساء کی شوبزنس میں واپسی، اور سیّدنور کی سالگرہ

فلم انڈسٹری کے صف اول کے ایکٹر اور ڈائریکٹر شان شاہد اسی سال اپنی فلم ’’ضرار‘‘ کو ریلیز کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، اب شان نے سوشل میڈیا پرایک پوسٹر لگایا ہے جس پر لکھا ہے ’’پیار ہوجاتا ہے پھر سے‘‘ جس سے معلوم ہوا کہ شان شاہد ایک نئی فلم بنانے جارہے ہیں۔ شان شاہد نے یہ اعلان اگرچہ اپنے آفیشل انسٹاگرام پر کیا ہے لیکن انہوں نے اس کی زیادہ تفصیلات سامنے لانے سے گریز ہی کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ فلم میں ریماخان ہی ان کی ہیروئین ہیں۔ اطلاعات یہی ہیں کہ ابھی دونوں کے درمیان معاملات طے پا رہے ہیں اور مزید گفت وشنید جاری ہے۔ اگریہ معاملات طے پا جاتے ہیں تو شائقین، ماضی کی اس مقبول جوڑی کو 2002ء کے بعد ایک بار پھر سے سلوراسکرین پر اکٹھے دیکھ سکیں گے۔ ریماخان اور شان نے اپنے کیریئر کا آغاز ڈائریکٹر جاوید فاضل مرحوم کی فلم ’’بلندی‘‘ سے کیا تھا اور یہ فلم نا صرف سپرہٹ ہوئی بلکہ اس کے ذریعے پاکستان فلم انڈسٹری کو دونئے سپراسٹار بھی مل گئے تھے، جنہوں نے بے شمار فلموں میں اکٹھے کام کیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ شان کی یہ فلم رومانٹک کہانی پر مبنی ہے، جس کا اسکرپٹ مکمل ہوچکا ہے۔ ایک بڑا سوال پیدا ہوگا کہ اس فلم کا ڈائریکٹر کون ہوگا؟ یہ بھی ابھی فائنل ہونا ہے۔ ریماخان نے اس بات کی تصدیق تو کی ہے کہ وہ اور شان ایک بار پھر سے فلم میں کام کرنے جارہے ہیں۔ ریماخان نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ میں ابھی اس بات کو میڈیا سے دور رکھنا چاہتی تھی لیکن شان نے اس بات کوسوشل میڈیا پر بتادیا ہے تو پھر میں بھی اس بات کو قبول کرتی ہوں کہ ہم فلم اکھٹے کرنے والے ہیں۔ ریماخان نے کہا کہ سب سے پہلے میرا گھر ہے اور میں اپنے شوہر ڈاکٹر طارق شہاب سے باقاعدہ اجازت لے کر شان کے ساتھ فلم کررہی ہوں۔ شان نے طارق کو بھی فلم کی کہانی سنائی ہے۔ یہ ایک میاں بیوی کی کہانی ہے۔ اس سوال پر کہ فلم کی ڈائریکشن کون کرے گا؟ ریماخان نے کہا کہ یہ ایک مشکل سوال ہے، کیونکہ ڈائریکشن تو دونوں کو آتی ہے اور ہم فلم میں کام کرنے جارہے ہیں۔ میرا خیال ہے یہ بات بھی جلد طے ہوجائے گی۔ ریماخان نے کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری میں اب لوگ فلمیں بنانے کی جانب آ رہے ہیں جوکہ بڑی خوش آئند بات ہے۔ ریماخان کی یہ بات بہت خوب ہے کہ فلم انڈسٹری کو متحد ہوکر فلم بنانی چاہیے، اس میں نہ کوئی لاہور اور نہ کوئی کراچی والا ہے ہر فلم پاکستان اور پاکستان فلم انڈسٹری کی فلم ہے،اس میں فرق نہیں ہونا چاہیے۔ ریماخان کے بقول آخری بار شان کے ساتھ فلم ’’لونگ دا لشکار‘‘ میں کام کیا تھا۔ ریماخان شان، صاحبہ، ریمبو اور فلم انڈسٹری کے سینئرز کے کہنے پر دوبارہ سے پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے انڈسٹری میں قدم رکھ رہی ہیں۔ جو ان کی طرف سے ایک بہت اچھی موومنٹ ہے۔ فلمی حلقے اس موومنٹ کو فلم انڈسٹری کا ریوائیول قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح سے فلم انڈسٹری کے سینئرز واپس فلم کی جانب آتے ہیں تو اس وقت نئی بنتی فلم انڈسٹری صحیح معنوں میں پروان چڑھ سکتی ہے۔ ان کے کام کرنے سے ان لوگوں کو بھی فلم انڈسٹری میں واپسی کا حوصلہ ملے گا جو ابھی صرف اس انتظار میں ہیں کہ فلم انڈسٹری کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ یہی وقت ایک ہونے اور مل کر فلم انڈسٹری کو چلانے کا ہے۔ لیجنڈز کی واپسی نئے فنکاروں کے لئے آکسیجن سے کم نہیں ہوگی۔ اس وقت ٹیلنٹ بہت آگیا ہے۔ بس اسے رائٹ ڈائریکشن کی ضرورت ہے۔ اگر اسے رائٹ ڈائریکشن مل جاتی ہے تو پھر پاکستانی سینما انڈسٹری کو بھی ان کی ضرورت کے مطابق فلمیں مل جائیں گی، جس کی موجودہ حالات میں اشد ضرورت ہے۔ یہ خبر بھی سوشل میڈیا پر آئی کہ اداکار شان شاہد فرنیچرکا بزنس شروع کررہے ہیں۔ شان اداکاری کے ساتھ ساتھ ذاتی پروڈکشن بھی کرتے ہیں۔ اب شان نے فرنیچر تیار کرنے کی ایک ورکشاپ قائم کرلی ہے اور شو روم کی تیاری کا کام جاری ہے جس کا عنقریب افتتاح بھی ہو جائے گا۔ شان کو فلم انڈسٹری میں تقریباً 29برس ہوگئے ہیں۔ شان کے فرنیچر کا کاروبار کرنے پر بعض لوگوں کا ردعمل عجیب تھا لیکن شان کے پرستار شان کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی کام کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے، بشرطیکہ وہ رزق حلال ہو۔ جو لوگ اعتراض کرتے ہیں ان کا تو کام ہی اعتراض کرنا ہے۔ شان شاہد کو دوستوں اور پرستاروں کی طرف سے نیا بزنس شروع کرنے پر نیک تمناؤں کے پیغامات ملے ہیں۔  پلوامہ حملے کا مبینہ الزام بھارت کی جانب سے پاکستان پر عائد کرنے پر بھارتی اداکار اکشے کمار نے پاکستانی حکومت کی حمایت کی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ دنیا میں دہشت گرد کہاں نہیں ہیں اور ہر حملے کا الزام پاکستان پر لگا دینا مناسب نہیں ہے۔ اس پر بھارتی اداکار کمل ہاسن نے بھی کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کردیا۔ بھارتی انتہا پسندوں نے بھارتی اداکار سلمان خان پر دباؤ ڈال کر ان کی فلم ’’نوٹ بک‘‘ سے پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کا گایا گانا نکلوادیا۔ یہی نہیں پاکستانی گلوکاروں کے یوٹیوب پر جاری گانوں کو بھی ہٹا دیاگیا۔ پاکستانی فلم پروڈیوسر سہیل خان نے انڈین تنظیم کی جانب سے پاکستانی ایکٹرز کے انڈیا میں پابندی لگانے کے اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم نے پہلے بھی ایسا ہی اقدام کیا تھا اور اب پاکستانی ایکٹرز پر پوری طرح سے پابندی عائد کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجے دیوگن نے اپنی فلم کو پاکستان میں ریلیز سے روک دیا ہے۔ حکومت انڈین فلموں کو این او سی جاری کرنے پر پابندی کیوں نہیں لگاتی۔ یہ این او سی جعلی دستاویز پر ایشو ہوتے ہیں۔ سہیل خان نے کہا کہ پاکستان سے سارا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے انڈین فلموں کی مد میں انڈیا کو جارہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان انڈین فلموں کی جاری این او سی بند کرے۔ سینئر فلم ڈائریکٹر سید نور نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے، فنکاروں کی بھی سرحد ہوتی ہے جو کچھ بھی ہورہا ہے، بھارت کی طرف سے ہورہا ہے، ہم نے تو اپنے سینما انڈسٹری اور اپنے آرٹسٹ ان کو دے دئیے۔ ہم نے کبھی بھارتی فلم کو نہیں روکا۔ فلم پاکستان میں ریلیز کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا ہے، ہم اس کو تو نہیں روک سکتے،وہ اپنی چیزوں کے مالک ہیں، وہی فنکار بھارت سے خوفزدہ ہیں جن کا مستقبل وہاں ہے۔ ہم تو خوفزدہ بالکل نہیں ہیں، ہمارے فنکار اور فلم انڈسٹری پروان چڑھنے جارہی ہیں، ہم اپنی فلمیں بنارہے ہیں۔ فلم ڈسٹری بیوٹر ندیم مانڈوی والا نے کہا کہ گزشتہ سال بھی اسی طرح ہوا تھا جس کا نقصان ادھر بھی ہوا اور یہاں بھی ہوا۔ بارہ سال سے بھارتی فلمیں پاکستان آرہی ہیں، ایک طریقۂ کار اپنانا چاہیے۔ بھارت میں انتخابات ہونے والے ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی فضا پیدا ہونی چاہیے۔ پاکستان تو بارہا مرتبہ بھارت سے مذاکرات کی بات کرتا آیا ہے۔ پاکستان میں فلمیں بن رہی ہیں اور مزید اچھی فلمیں بنیں گی۔ بھارتی فلم بند کرکے ہم کیوں دنیا سے الگ تھلگ ہوں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھارت کا یہ قدم درست نہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ادھربھارت میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی کے بعد پاکستانی آرگنائزرز نے بھی بھارتی فنکاروں کو پاکستان بلوانے سے معذرت کرلی ہے۔  مارچ میں ہونے والے ”شان پاکستان میوزک کانفرنس“ سے بھارتی گلوکارہ ریکھا بھردواج اور ہرشدیپ کور اب لاہور نہیں آئیں گی، دونوں کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا۔ دونوں کے پاکستان آنے کے ویزے بھی لگے ہوئے ہیں۔ اب شان پاکستان میوزک کانفرنس میں ان دونوں بھارتی گلوکاروں کی جگہ پاکستانی گلوکاروں ٹینا ثانی اور شفقت امانت علی خان کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ صنم ماروی اور جاوید بشیر بھی شامل ہیں۔ ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے انڈین فلموں ”سامبا“،”گلی بوائے“ اور”کالا شاہ کالا“ کی نمائش پاکستانی سینماؤں میں جاری رہی۔  21فروری کو پاکستان ایوارڈ اکیڈمی نے فلم ڈائریکٹر سید نور کی 68ویں سالگرہ لاہور کے مقامی ہوٹل میں منائی۔ اکیڈمی کے صدر اقبال چوہدری، ارشد، تبسم بٹ اور دیگر نے سید نور کے ہمراہ سالگرہ کا کیک کاٹا۔ تقریب میں موجود شرکاء نے سید نور کو سالگرہ کی مبارکباد دی اور ان کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ سید نور نے پاکستان ایوارڈ اکیڈمی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہر سال یہ میری سالگرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کی محبتوں کو کبھی بھی بھلا نہیں سکوں گا۔ اداکارہ زارا شیخ کی ڈائریکشن میں بنائی گئی میوزک ویڈیو ریلیز کردی گئی ہے، جس میں انہوں نے ماڈلنگ بھی کی ہے۔ یہ گانا گلوکارحبیب نے گایا ہے جس کا میوزک سہیل عباس نے تیار کیا۔ ویڈیو کے ڈی او پی مانی ہیں۔ ویڈیو کی شوٹنگ لاہور کے علاوہ پاکستان کے کئی دیگر خوبصورت مقامات پر کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں زارا شیخ کا کہنا تھا کہ میں کافی عرصے سے ڈائریکشن کررہی ہوں اور اس سے پہلے بھی میں ویڈیو بناچکی ہوں۔ میرے لئے ماڈلنگ کے ساتھ ڈائریکشن کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے۔ مستقبل میں بھی اداکاری اور ماڈلنگ کے ساتھ ڈائریکشن جاری رکھوں گی۔ اداکارہ مہرالنساء کی شوبز میں واپسی ہورہی ہے۔ مہرالنساء گزشتہ سال اپنی فنی خدمات سرانجام دیتے ہوئے شوٹنگ کے دوران گر گئی تھیں جس کے باعث انہیں کمر کی شدید تکلیف کا سامنا رہا اور وہ بیڈ ریسٹ پر مجبور ہوگئیں۔ مہرالنساء ایک بار پھر سے شوبزنس کا رخ کرنے کو تیار ہیں۔ بیماری کے دوران ان کی والدہ بھی قضائے الٰہی سے وفات پاگئی تھیں۔ شاندار ڈرامہ ’’ست بھرا‘‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ اس ڈرامے کے باعث اداکارہ مہرالنساء قومی اور بین الاقوامی بہت سے ایوارڈز اپنے نام کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹیج پر بھی خوب صورت پرفارمنسز پیش کی ہیں۔ مزاح کی دنیا میں آئیں تو مزاحیہ انداز میں بھی خود کو ڈھالتے ہوئے خوب نام کمایا۔ مہرالنساء نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اس عرصہ شوبز سے دور ضرور رہی ہوں لیکن کبھی بھی شوبز کو چھوڑنے کا سوچا نہیں۔ لاہور آرٹس کونسل کی جانب سے کھیل ’’ہم ایک ہیں‘‘ الحمراء میں ایک ہفتہ تک جاری رہا۔ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے بھی اس کھیل کو جا کر دیکھا۔ انہوں نے ڈرامہ کے رائٹر، ڈائریکٹر اور ایکٹر پرویز رضا اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ اس ڈرامہ میں کرداروں کے ذریعے نئی نسل کے سامنے پاکستان کے قیام کے اغراض و مقاصد کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بہتری اور ملک و قوم کی ترقی کے لئے روشن راہوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اتحاد، یقین اور تنظیم کی اہمیت پر جہاں زور دیا گیا ہے وہیں پر مسئلہ کشمیر کو بھی دنیا کے سامنے نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ کرپشن اور دہشت گردی ہمارے معاشرے کا ناسور ہیں۔ رائٹر اور ڈائریکٹر پرویز رضا نے بڑی خوبصورتی سے مختلف ایشوز کو اپنی محنتی ٹیم کے ساتھ دکھایا ہے۔ جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ڈرامہ کی کاسٹ میں پرویز رضا، ظفر ارشاد، صبا پرویز، لیلیٰ صدیقی، وحید بٹ، افروزخان، شاہد اقبال، صائمہ وسیم، توقیر زیدی، ناصر میر، امان اللہ، مجتبیٰ شیخ، شازیب حیدر، محمد خان لودھی، محمد سلیم، منصور بھٹی، طلحہ محمود، محمد ارشد، شیزہ خان جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر قیصر جاوید اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر عظیم ہیں۔ پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر ہدایتکار، مصنف اور نغمہ نگار شجاع عقیل دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ مرحوم کو ان کے آبائی شہر گجرات میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کے پسماندگان میں ایک بیوہ شامل ہے۔ مرحوم کی عمر 71برس تھی۔ شجاع عقیل نے فلم انڈسٹری کے لئے نمایاں خدمات پیش کیں۔ ان کی مشہور فلموں میں ’’مشرق مغرب‘‘، ’’سناٹا‘‘ ، ’’رکشہ ڈرائیور‘‘ اوردیگر شامل ہیں۔ یاد رہے کہ 1983ءمیں ان کو فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک بڑاحادثہ پیش آیا تھا۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ کوٹ لکھپت اسٹیشن پر ان کی فلم ’’رکشہ ڈرائیور‘‘ کی شوٹنگ کے دوران اداکارہ نجمہ محبوب ٹرین کے نیچے آکر جاں بحق ہوگئی تھیں۔ شجاع عقیل گزشتہ کئی برسوں سے فلم انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کر کے نجومی بن گئے تھے اور اپنے آبائی شہر گجرات میں منتقل ہوچکے تھے۔ فلم انڈسٹری سے وابستہ افراد نے مرحوم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔  فلم،ٹی وی اوراسٹیج پروموٹر بلال حیدر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ان کے انتقال پر شوبز حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔