تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
اداکارہ قیصر نقوی کی فکر کرو - سکینہ سموں نے آواز اٹھادی

اداکارہ قیصر نقوی کی فکر کرو - سکینہ سموں نے آواز اٹھادی

پاکستان میں شوبزنس سے وابستہ فنکاروں کے حالات اب پہلے کی نسبت بہت بہتر ہوگئے ہیں۔ فنکاروں کے لیے کام کرنے کے زیادہ مواقع ہیں اور انہیں پہلے کی نسبت زیادہ معاوضہ بھی ملتا ہے۔ وہ وقت گیا جب اکلوتا ٹی وی چینل ہوتا تھا اور کام حاصل کرنے کے لیے فنکاروں کو پروڈیوسرز کے آگے پیچھے دوڑنا پڑتا تھا، اب تو لاتعداد پروڈکشن ہائوسز اور متعدد ٹی وی چینلز ہیں، جہاں ڈرامے اور میوزک کا کام میرٹ کی بنیاد پر ہورہا ہے۔ آج کے دور میں بھی ایسے بے شمار فنکار موجود ہیں، جو ریڈیو، ٹی وی کے ذریعے باقاعدہ تربیت حاصل کرکے آئے ہیں اور نئے فنکاروں کے ساتھ بھی یکساں مہارت کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن سینئر فنکاروں کو نہ تو نمایاں کرداروں میں کاسٹ کیا جاتا ہے اور نہ ہی گلیمرس فنکاروں کے مقابلے میں انہیں اچھا معاوضہ دیا جاتا ہے، قیصر نقوی بھی ایسے ہی فنکاروں میں شمار ہوتی ہیں، جنہوں نے طویل عرصے تک فن کی خدمت کی اور عوام کو محظوظ کرنے کے لیے ہر قسم کے کردار نبھائے۔ انہوں نے کبھی فلموں میں تو کام نہیں کیا لیکن ریڈیو، ٹی وی پر ہی اتنی شہرت حاصل کرلی کہ آج بھی ڈرامے دیکھنے والے ناظرین ان کے کام سے واقف ہیں۔ اداکارہ قیصر نقوی ان دنوں شدید علیل ہیں اور کراچی میں مقیم ہیں۔ ان کی ساتھی اداکارہ سکینہ سموں نے اپنے ایک بیان میں میڈیا سے اپیل کی ہے کہ ایک بے مثال سینئر فنکارہ کو بیماری کی حالت میں یوں بے یار و مددگار چھوڑ دینا اچھی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میری رسائی سندھ کے وزیراعلیٰ یا اس سے بھی اوپر کی سطح پر ہوجائے تو میں خود جاکر سرکاری سطح پر قیصر نقوی کی سرکاری اور مالی اعانت کے لئے ہر فورم پر جاکر بات کرنے کو تیار ہوں۔ سکینہ سموں نے کہا کہ قیصر نقوی نے اپنی پوری زندگی ریڈیو اور ٹی وی پر اپنے فن کی آبیاری میں گزار دی ہے، ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ مشکل وقت میں ان کی مدد کریں۔ سکینہ سموں نے کہا کہ قیصر نقوی نے متعدد سندھی ڈراموں میں کام کیا ہے، اس لیے ان کی دیکھ بھال سندھ حکومت کا فرض ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قیصر نقوی کی فیملی کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہیں اندازہ ہے کہ قیصر نقوی کی بیٹیاں اس کنڈیشن میں نہیں ہیں کہ اپنی والدہ کے علاج معالجے پر آنے والے بھاری اخراجات اٹھا سکیں۔ سکینہ سموں نے کہا کہ ویسے تو انہیں ہر ضرورت مند فنکار کی فکر رہتی ہے مگر قیصر نقوی کیونکہ کئی ڈراموں میں ان کی ماں کا کردار ادا کرچکی ہیں، اس لیے انہیں قیصر نقوی کے ساتھ دلی لگائو بھی ہے۔  چند سال قبل جویریا سعود نے بھی قیصر نقوی کو اپنے مارننگ شو میں مدعو کیا تھا اور بتایا تھا کہ نصف صدی تک شوبزنس کی خدمت کرنے والی یہ اداکارہ ان دنوں ٹانگوں کی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا علاج ڈاکٹرز کے بس سے باہر دکھائی دیتا ہے۔ اس موقع پر قیصر نقوی نے کہا تھا کہ وہ جلد صحت یاب ہوکر ایک بار پھر اپنے مداحوں کے لیے اداکاری کے جوہر دکھانا چاہتی ہیں، مگر ڈاکٹرز کو ان کی بیماری سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ قیصر نقوی نے اس شو میں کہا تھا کہ ڈاکٹرز ان سے بھاری رقوم تو ضرور لیتے ہیں مگر دو تین منٹ کا معائنہ کرکے فارغ کردیتے ہیں۔ سندھی اور اردو زبان کے لاتعداد ریڈیو اور ٹی وی ڈراموں میں بہترین اداکاری کا مظاہرہ کرنے والی طاہرہ نقوی نے متعدد ٹی وی کمرشلز میں بھی کام کررکھا ہے۔ ان کی چار بیٹیاں ہیں اور طویل عرصہ قبل ان کے شوہر کم عمری میں ہی اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تھے، جس کے بعد خاندان کی مخالفت مول لے کر انہوں نے شوبزنس کا راستہ اختیار کیا تاکہ بیٹیوں کی پرورش ہوسکے۔ پی ٹی وی کے گولڈن دور میں انہوں نے ہر بڑے پروڈیوسر اور تمام بڑے فنکاروں کے ساتھ بے شمار سپر ہٹ ٹی وی سیریلز میں کام کیا اور ساتھ ہی ساتھ ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی ڈراموں کے علاوہ دیگر شوز میں بھی صداکاری کرتی رہیں۔ انہیں ایک منجھی ہوئی اور تربیت یافتہ اداکارہ تصور کیا جاتا ہے۔ وہ اصولوں کی پابند اور روایتوں کی پاسدار اداکارہ کے طور پر جونیئر اور سینئر فنکاروں میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔