تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
رنگ خیبر

رنگ خیبر

اداکارہ گلالئی کا لرزہ خیز قتل، فنکار برادری سراپا احتجاج اداکار و ہدایتکار طارق جمال کے کچھ شکوے، کچھ شکایتیں فحش فلموں اور ڈراموں پر پابندی کا مطالبہ کردیا گیا

تھانہ چورہ کی پولیس کے مطابق انہیں ایک نوجوان خاتون کی لاش ملی جسے قتل کرنے کے بعد کھیتوں میں پھینک دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق تفتیش پر معلوم ہوا کہ نعش مردان سی ڈی ڈراموں کی مشہور اداکارہ لبنیٰ عرف گلالئی کی ہے جسے نامعلوم افراد شدید تشدد کے بعد موت کے گھات اتار کر فرار ہوگئے تھے۔ اداکارہ کی بہن صابرینہ نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ صابرینہ نے رپورٹ درج کرتے ہوئے کہا کہ گلالئی اپنے شوہر سے ناراض تھی اور پشاور میں رہائش پذیر تھی۔ پندرہ فروری کو ہمارے گھر آگئے اور گلالئی سے کچھ باتیں کیں۔ بعد میں گلالئی نے کہا کہ اپنی والدہ سے ملنے کیلئے ان لوگوں کے ہمراہ مردان جا رہی ہوں اور شام کو واپس آئوں گی۔ شام کو گلالئی کو فون کیا تو اس کا فون نمبر بند جارہا تھا۔ لے جانے والے افراد کو پانچ دن سے فون کیا جارہا لیکن وہ فون اٹینڈ نہیں کر رہے تھے۔ 21 فروری کی شام کو اطلاع ملی کی لبنیٰ عرف گلالئی کی تشدد شدہ لاش تھانہ چورہ مردان کے حدود میں موجود ہے۔ ڈی پی او مردان سجاد خان کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے بعدگلالئی کو لے جانے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد ان دونوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔ مرحومہ کی نماز جنازہ معیار مردان میں ادا کی گئی۔ پشتو، اردو ڈراموں اور فلموں کے معروف اداکار طارق جمال نے کہا ہے کہ آج تخلیقی کام کہیں بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ شوقیہ فنکاروں کی وجہ سے شوبز کو کافی نقصان پہنچا۔ پی ٹی وی پشاور سینٹر کا معیار روزبروز گر رہا ہے، نئے لڑکوں میں کافی ٹیلنٹ ہے لیکن ان کی حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی نہیں۔  اخبارِ جہاں سے اظہار خیال کرتے ہوئے طارق جمال نے کہا کہ انہیں اداکار بننے کا کوئی شوق نہیں تھا، قسمت شوبز کی دنیا میں لے آئی۔ ملازمت کے سلسلے میں بیرون ملک گیا تھا، 1986ء میں وطن واپس آیا۔ میرے کزن پروڈیوسر فرمان اللہ جان اور مرحوم ڈاکٹر اعظم اعظم سے ملنے کیلئے پی ٹی وی جایا کرتا تھا۔ اس طرح تین سال تک ان سے ملنے کیلئے ٹی وی اسٹیشن جایا کرتا تھا۔ 1989ء میں پروڈیوسر فرمان اللہ جان پشتو سیریل ’’خوبونہ‘‘ کی تیاری کر رہے تھے جسے نامور لکھاری ڈاکٹر اعظم اعظم نے تحریر کیا تھا۔ اس میں مجھے کام کرنے کی آفر ہوئی اور کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے ہاں کر دی اور اس ڈرامے میں میرا کردار ’روخانے‘ کی وجہ سے مجھے کافی شہرت ملی۔ آج 28سال گزرنے کے بعد بھی مجھے لوگ روخانے کے نام سے پہچانتے ہیں۔ حالانکہ میں نے اب تک بہت سی اردو، پشتو سیریل اور پشتو فلمیں کی ہیں لیکن میری پہچان روخانے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نورالبشر نوید کی تحریر کردہ لانگ پلے ’’تورہ کرخہ‘‘ میں انہیں اپنا کام بے حد پسند آیا اور اس لانگ پلے میں اپنا کردار میں ابھی تک بھول نہیں پایا۔ اس میں میرے ایکسپریشن کی بات ہی کچھ اور تھی۔ میں اپنا یہ کردار زندگی میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔ طارق جمال نے کہا کہ فلمی دنیا میں آنا بھی ایک عجیب اتفاق تھا۔ ایک دن شاہد فلمز پروڈکشن والوں نے فون کرکے بلایا اور فلم میں کام کی آفر کی۔ میں نے اپنا کردار ڈسکس کرنے کے بعد کام کرنے کی ہامی بھرلی۔ میری پہلی پشتو فلم ’’تور تم‘‘ تھی۔ میں اب تک50 سے زائد پشتو فلمیں کرچکا ہوں اور اب بھی ڈراموں کے ساتھ ساتھ پشتو فلموں کا یہ سفر جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی کے ڈراموں اور آج کے ڈراموں میں کافی فرق ہے۔ پہلے ایک تخلیقی کام نظر آرہا تھا، اب تخلیقی کام اور محنت کا نام و نشان تک نہیں۔ آج سے بیس سال پہلے اسکرپٹ پر کافی زور دیا جاتا تھا اور ڈرامے کا تمام تر انحصار اسکرپٹ اور ڈائریکٹر پر ہوتا تھا لیکن آج نہ اسکرپٹ ہے اور نہ اچھا ڈائریکٹر، خاص کر پی ٹی وی پشاور سینٹر کا معیار کافی حد تک گر گیا ہے۔ آج ڈراموں پر سفارشی لوگوں کا قبضہ ہے، تخلیقی کام کہیں بھی نظر نہیں آرہا ہے، کیمرے کے پہلے جو ڈائریکٹر نظر آرہے تھے، وہ ڈائریکٹر اب نہیں ہیں، اب صرف پرائیویٹ پروڈکشن میں ہی اچھا کام ہو رہا ہے۔ پشاور سینٹر کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے مرکز کو فوری طور پر یہاں پر ٹیلنٹڈپروڈیوسرز کو تعینات کرنا ہوگا۔ طارق جمال نے کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ حکومت کو ہمارا کام نظر نہیں آرہا ہے، کل آنے والے صدارتی ایوارڈ سے نواز دیئے گئے۔ 28سال فنی دنیا میں گزارنے کے باوجود تاحال صدارتی ایوارڈ سے محروم ہوں۔ میرے پاس عوامی ایوارڈ ہے اور عوام نے جو محبت دی ہے، وہ کبھی نہیں بھول سکتا ۔ عوامی محبت میرے لئے سب سے بڑا ایوارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلمی دنیا میں بولان ایوارڈ اور کئی دیگر ایوارڈز کے علاوہ ریڈیو پاکستان نے بھی ایوارڈ سے نوازا ہے۔ میں خدائی خدمتگار ڈاکٹر محمد یوسف یوسفزئی کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے مجھے برصغیر کے نامور سیاستدان اور بابائے امن خان عبدالغفار خان باچہ خان کی زندگی پر بننے والے ڈرامہ میں باچہ خان کے رول کیلئے منتخب کیا۔ باچہ خان کا کردار میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔ عوامی حجرہ ملگری خیبر پختونخوا نے فحش اور عریاں سی ڈی ڈراموں پر بلاتاخیر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا، جو سراسر پختون کلچر کے خلاف ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ایک سازش کے تحت ایک مخصوص لابی عرصہ سے پختون کلچر کے خلاف سازش کر کے پختونوں کو دنیا میں بدنام کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ماضی میں پنجاب سے تعلق رکھنے والی اداکاراؤں نے پشتو فلموں میں عریاں ڈانس کرکے پختونوں کے شاندار اور مہذب کلچر کو ننگا کر کے بدنام کیا، اسی طرح چند روپوں پیسوں کے لئے ایک مخصوص گروہ سی ڈی ڈراموں کا کاروبار کر کے پختون کلچر کو نہایت غلط اور گھٹیا انداز میں پیش کرکے مخصوص پختون دشمن قوتوں کو خوش کرنے میں مصروف ہے جو سراسر زیادتی، ناانصافی اور پختون دشمنی ہے۔ پختونوں کی شاندار تاریخ ماضی میں ان کے فتوحات طرز حکمرانی رسم و رواج کو دنیا کے تمام قوموں میں فوقیت حاصل ہے۔ سیاسی، معاشی اور اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی سازشوں کے ساتھ ساتھ پختون کلچر کو منفی انداز میں پیش کر کے اپنی غلامانہ ماضی کو چھپانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔  اجلاس میں خبردار کیا گیا کہ اگر مخصوص گروہ نے فحش ویڈیوز کے ذریعے پختون دشمن ڈراموں، فلموں کا سلسلہ بند نہ کیا تو نہ صرف ایسے لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا بلکہ انہیں کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے کوئی بھی راستہ تلاش کر کے دم لیں گے۔ اجلاس میں پختون محب وطن دانشوروں، ڈرامہ نگاروں اور پروڈیوسر صاحبان سے اپیل کی ہے کہ وہ پختونوں کے اصل رسم و رواج، تہذیب و تمدن کے مطابق بامقصد ڈرامے، سیمینارز اور مشاعرے منعقد کرکے پختون قوم کی صحیح سمت رہنمائی کر کے محب وطن ہونے کا ثبوت پیش کریں۔ اجلاس میں سنسر بورڈ اور کلچر ڈپارٹمنٹ کے علاوہ دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ پختون کلچر کو تباہی کے کنارے پہنچانے والے سی ڈی ڈراموں کے لکھنے والے اور فنکاروں پر کڑی نظر رکھیں جو پیسوں کے لالچ میں پختونوں کے احساسات اور جذبات کو بھڑکا رہے ہیں۔ اجلاس میں ایک وفد تشکیل دیا گیا جو اس سلسلے میں حکومت کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کرکے فحش سی ڈیز ڈراموں کے مواد پیش کریں گے جن سے نوجوانوں میں طرح طرح کی سماجی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس کے خلاف پورے صوبے میں تحریک چلائی جائے گی۔