تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
ایمان سلیمان لب کھولے اور بول پڑیں

ایمان سلیمان لب کھولے اور بول پڑیں

معروف ماڈل و اداکارہ ایمان سلیمان نے پاکستانی شوبز انڈسٹری کے افراد اور عوام کی سوچ کو قدرے ایک جیسا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی جنسی ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف کھل کر بات نہیں کرتا۔ ماڈل نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں کسی واقعے کا ذکر کئے بغیر سماج اور شوبز انڈسٹری کی خاموشی پر بات کی اور لوگوں کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ کوئی بھی طاقتور کے خلاف آواز بلند نہیں کرتا۔  ماڈل و اداکارہ نے شوبز انڈسٹری کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اس کا حصہ بننے والی شخصیات جنسی طور پر ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف کھل کر سامنے نہیں آتیں۔ ایمان سلیمان نے اپنے سمیت عام افراد کو بھی غلط لوگوں کے خلاف آواز بلند نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم سب کی خاموشی ہی ظالموں کو ہمت بخشتی ہے۔  ایمان سلیمان نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان میں کسی بھی طاقتور کا احتساب ممکن نہیں، کیونکہ ہم میں سے زیادہ تر افراد غلط کام کرنے والے افراد کے خلاف آواز ہی نہیں اٹھاتے۔ ماڈل و اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب بھی کسی کو جنسی ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آتا ہے تو ہم میں سے زیادہ تر افراد اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ اس واقعے میں کون صحیح ہے، کون غلط؟ ایمان سلیمان کے مطابق عوام کی جانب سے طاقتور اور ظالم کے خلاف کھل کر بات نہ کرنے کے باعث ہی وہ ظالم شخص مزید طاقتور بن جاتا ہے اور اسی طرح ہم سب غلط روایت کو معاشرے میں مضبوط کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ایمان سلیمان نے اپنی پوری پوسٹ میں کسی بھی واقعے اور کسی بھی شخص کا نام لئے بغیر شوبز انڈسٹری پر بھی کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ کوئی بھی غلط شخص کے خلاف آواز بلند نہیں کرتا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ’’می ٹو مہم‘‘ کا آغاز زیادہ شد و مد کے ساتھ اس وقت شروع ہوا، جب مشہور گلوکارہ و ماڈل میشا شفیع نے علی ظفر پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کئے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب علی ظفر کی فلم ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ ریلیز ہونے والی تھی، اس کے بعد کئی ماڈلز اور اداکارائوں نے اشارے کنایوں میں ایسے واقعات کا تذکرہ شروع کیا اور فریحہ الطاف اور نادیہ جمیل سمیت شوبزنس کی اکثر شخصیات نے اپنے ساتھ ہونے والے ایسے واقعات کی کھلے عام بات کرنا شروع کردی تھی۔