تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
آسکر ایوارڈز 2019 بڑے پردے کا بڑا اعزاز

آسکر ایوارڈز 2019 بڑے پردے کا بڑا اعزاز

بڑے پردے کے سب سے بڑے اعزاز ’’اکیڈمی‘‘ ایوارڈز کا ہر اس فنکار کو شدت سے انتظار ہوتا ہے جس کی فلم اس معتبر سنہری مورتی کیلئے نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہو۔ 91ویں ’’آسکرز‘‘کی ستاروں سے بھرپور تقریب امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس کے ڈولبی تھیٹر میں منعقد کی گئی۔ ’’آسکرز‘‘ 2019ء کی تقریب کئی حوالوں سے اہم اور یادگار رہی۔ تین دہائیوں بعد ’’اکیڈمی‘‘ ایوارڈز کی میزبانی کرنے والا کوئی بھی نہ تھا اور پوری تقریب ہی کسی مقررہ میزبان کے بغیر ہوئی۔ اس سے قبل 1989ء میں ’’آسکرز‘‘ کی تقریب میزبان کے بغیر منعقد ہوئی تھی۔ حیران کن طور پر اس مرتبہ جن فلموں نے سب سے زیادہ نامزدگیاں حاصل کیں، وہ نہ تو سب سے زیادہ ایوارڈز کی حقدار قرار پائیں بلکہ ان فلموں نے اہم کیٹیگریز میں بھی اپنی جگہ نہیں بنائی۔ فلم ’’دی فیوریٹ‘‘ اور ’’روما‘‘ نے سب سے زیادہ 10 کیٹیگریز میں ’’آسکرز‘‘ نامزدگیاں حاصل کی تھیں۔  سب سے زیادہ ایوارڈز میوزیکل فلم ’’بوہیمیئن ریپسوڈی‘‘ نے حاصل کئے۔ اس فلم کو پانچ کیٹیگریز میں نامزدگی ملی تھی، جن میں سے چار ایوارڈ فلم نے اپنے نام کئے۔ فلم ’’بوہیمیئن ریپسوڈی‘‘ نے بہترین اداکار (رامی ملک)، بہترین ساؤنڈ (جان وارہرسٹ، نینا ہرٹ اسٹون)، بہترین ساؤنڈ مکسنگ (پال میسی، ٹم کاواگن، جان کسالی) اور بہترین فلم ایڈیٹنگ (جان اوٹمن) کے ایوارڈز جیتے۔ اس فلم کی کہانی آنجہانی گلوکار فریڈی مرکیوری کی زندگی پر مبنی تھی۔ فریڈی کے مرکزی کردار کو رامی ملک نے شاندار انداز میں نبھایا تھا جس کا پھل انہیں ’’آسکر‘‘ کی گولڈن لیڈی کی صورت میں ملا۔ اس کے ساتھ ہی رامی ملک کو یہ بھی اعزاز حاصل ہوگیا ہے کہ وہ صرف دوسرے عرب نژاد اداکار ہیں جنہوں نے ’’آسکر‘‘ جیتا ہے۔ اس سے قبل اداکار عمر شریف کو فلم ’’لارنس آف عربیہ‘‘ کیلئے ’’آسکر‘‘ ایوارڈ دیا گیا تھا۔  ’’آسکرز‘‘ کی تقریب میں جب رامی ملک کا نام بہترین اداکار کے ایوارڈ کیلئے لیا گیا تو انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ساتھ بیٹھی اپنی گرل فرینڈ اور ساتھی اداکارہ لوسی بوئنٹن کو بوسہ دیا، جس کے بعد اسٹیج پر جاکر ایوارڈ قبول کرتے ہوئے اپنی والدہ، فیملی اور دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم جب رامی ملک ایوارڈ وصول کرنے کے بعد اسٹیج سے اترنے لگے تو اچانک اپنا توازن کھو بیٹھے اور گر پڑے۔ اس موقع پر فوٹوگرافرز نے رامی ملک کی تصاویر بھی لیں۔ حیران کن طور پر سب سے زیادہ دس نامزدگیاں حاصل کرنے والی فلم ’’دی فیوریٹ‘‘ صرف ایک ایوارڈ ہی جیت سکی۔ فلم ’’دی فیوریٹ‘‘ میں ملکہ کا کردار شاندار انداز میں ادا کرنے والی برطانوی اداکارہ اولیویا کولمین نے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیا۔ اولیویا ’’آسکر‘‘ وصول کرنے کے بعد جذباتی دکھائی دیں اور تقریر کے دوران آبدیدہ بھی ہوگئیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں اپنے ساتھی اداکاروں کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ بہت دباؤ والا لمحہ ہے۔ یہ کتنی مزاحیہ بات ہے کہ میں نے آسکر جیت لیا ہے۔‘‘ 2009ء کے بعد سے اولیویا کولمین پہلی برطانوی اداکارہ ہیں جنہوں نے ’’آسکر‘‘ حاصل کیا ہے۔ 2009ء میں برطانوی اداکارہ کیٹ ونسلیٹ نے ’’اکیڈمی‘‘ ایوارڈ جیتا تھا۔ پہلی مرتبہ ’’آسکر‘‘ کے لیے نامزد ہونے اور اسے جیتنے والی اولیویا کولمین اب تک اپنے کیریئر میں چار ’’برٹش اکیڈمی فلم اینڈ ٹیلی ویژن‘‘ ایوارڈز اور دو ’’گولڈن گلوب‘‘ ایوارڈز بھی حاصل کر چکی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اولیویا کولمین بہترین اداکارہ کے ایوارڈ کیلئے فیورٹ نہیں تھیں بلکہ فلم ’’دی وائف‘‘ کی اداکارہ گلین کلوز کو اس بار بہترین اداکارہ کے ایوارڈ کیلئے مضبوط امیدوار سمجھا جارہا تھا۔ گلین گلوز سات بار ’’آسکرز‘‘ کے لیے نامزد ہوچکی ہیں لیکن ایک بار بھی ان کی قسمت میں یہ سنہری مورتی نہیں آئی ہے۔  بہترین اداکارہ کے ایوارڈ کی طرح بہترین فلم کے ایوارڈ کا نتیجہ بھی توقعات کے برعکس رہا۔ رواں برس بہترین فلم کے ایوارڈ کے لیے فلم ’’روما‘‘ کو مضبوط امیدوار سمجھا جارہا تھا۔ تاہم بہترین فلم کا ایوارڈ فلم’’گرین بک‘‘ جیتنے میں کامیاب رہی۔ ’’گرین بک‘‘ کے ہدایتکار پیٹر فاریلی نے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فلم لوگوں کو ایک دوسرے سے پیار کرنا سکھاتی ہے۔ مجموعی طور پر ’’گرین بک‘‘ نے بہترین فلم سمیت تین ’’اکیڈمی‘‘ ایوارڈز حاصل کیے جن میں بہترین اسکرین پلے (نک والے لونگا، برائن کیوری، پیٹر فاریلی) اور بہترین معاون اداکار (مہرشالا علی) بھی شامل تھے۔ گزشتہ تین برسوں میں مہرشالا علی کا یہ دوسرا ’’آسکر‘‘ ایوارڈ ہے۔ انہوں نے 2017ء میں فلم ’’مون لائٹ‘‘ کیلئے بھی بہترین معاون اداکار کا ’’اکیڈمی‘‘ ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ ’’آسکرز‘‘ 2019ء کی تقریب میں بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ ریجینا کنگ کے نام رہا۔ انہیں یہ ایوارڈ فلم ’’آف بِیل اسٹریٹ کُڈ ٹاک‘‘ اداکاری پر دیا گیا۔ ریجینا کنگ اپنی والدہ کو تقریب میں ہمراہ لائی تھیں، جنہیں انہوں نے ایوارڈ جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں خراج تحسین بھی پیش کیا۔ فلم’’روما‘‘ بہترین فلم کا ایوارڈ تو حاصل نہیں کرسکی لیکن اس فلم کی قسمت میں تین مختلف کیٹیگریز میں ’’اکیڈمی‘‘ ایوارڈ آیا۔ ’’روما‘‘ نے بہترین غیر ملکی زبان (ہسپانوی) میں بننے والی فلم، بہترین ہدایتکار اور بہترین سنی میٹوگرافر کے ایوارڈز حاصل کئے۔ فلم کے ہدایتکار اور سنی میٹوگرافر الفونسو کوارون ہیں، جنہیں چوتھی بار ’’اکیڈمی‘‘ ایوارڈ حاصل ہوا ہے۔ الفونسو کوارون نے ایوارڈ وصول کرنے کے بعد کہا کہ وہ اکیڈمی کے مشکور ہیں کہ ان کی فلم کو اس ایوارڈ کے ذریعے پذیرائی بخشی گئی۔ سریلی گلوکارہ لیڈی گاگا کو ان کی فلم ’’آاسٹار اِز بورن‘‘ میں اداکاری پر تو ایوارڈ نہیں ملا، مگر انہیں اسی فلم کے گانے’’شالو‘‘ کے لیے بہترین نغمے کا ’’آسکر‘‘ ایوارڈ حاصل ہوا۔ لیڈی گاگا نے یہ گانا مارک رونسن اور اینڈریو ویاٹ کے ساتھ گایا تھا۔ ایوارڈ وصول کرنے پر لیڈی گاگا نے جذباتی تقریر کی۔ لیڈی گاگا کو اس گانے پر رواں برس دو گریمی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ تین دہائیوں سے بہترین فلمیں پیش کرنے والے ہدایتکار اسپائیک لی کو بالآخر اپنی محنت کا صلہ مل گیا۔ انہیں فلم ’’بلیک کلانز مین‘‘ کیلئے مشترکہ طور پر بہترین اسکرین پلے لکھنے کا ’’اکیڈمی‘‘ ایوارڈ ملا۔ اسپائیک لی کے ساتھ چارلی واچ ٹیل، ڈیوڈ رابینویٹز اور کیون ولموٹ نے مل کر فلم ’’بلیک کلانز مین‘‘ کا اسکرپٹ لکھا تھا۔ بہترین ویژول افیکٹ کے ایوارڈ کی حقدار فلم ’’فرسٹ مین‘‘ ٹھہری، اس ایوارڈ کیلئے فلم ’’اوینجرز‘‘ اور ’’ہان سولو‘‘ بھی مدمقابل تھیں۔ فلم ’’بلیک پینتھر‘‘ کے کمپوزر لوڈ ونگ گرانسن نے بہترین اوریجنل اسکور اپنے نام کیا، جبکہ بہترین پروڈکشن ڈیزائن(ہانا بیچلر اور جے ہارٹ) کا ایوارڈ بھی اسی فلم کے حصے میں آیا۔ بہترین دستاویزی فیچر فلم کا اکیڈمی ایوارڈ ’’فری سولو‘‘ کے نام رہا، جبکہ بہترین لائیو ایکشن شارٹ فلم کا ایوارڈ ’’اسکن‘‘ نے حاصل کیا۔ بہترین اینی میٹڈ فیچر فلم کا ایورڈ ’’اسپائیڈر مین: اِن ٹو دی اسپائیڈر ورس‘‘ نے اپنے نام کیا۔ مختصر دورانئے کی بہترین دستاویزی فلم ’’پیرئیڈ: اینڈ آف سینٹینس‘‘ قرار پائی۔ بہترین اینی میٹڈ شارٹ فلم کا ایوارڈ ’’باؤ‘‘ نے حاصل کیا۔