تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
جینیفر لوپیز کی زندگی میں تبدیلی

جینیفر لوپیز کی زندگی میں تبدیلی

معروف امریکی گلوکارہ جنیفر لوپز نے گزشتہ ماہ کے آخر میں 10دن تک چینی اور کاربوہائیڈریٹس کو اپنی خوراک سے نکالنے کے چیلنج کو قبول کیا تھا۔ اب انہوں نے 10 روز کے دوران درپیش آنے والی مشکلات کا احوال بیان کیا ہے۔ 49سالہ گلوکارہ نے ایک ٹی وی شو کے دوران بتایا کہ 10 روز تک چینی کو خود سے دور رکھنا ان کے لیے بہت مشکل ثابت ہوا۔ ایسا کرنے پر صرف سر درد کا ہی سامنا نہیں ہوتا بلکہ آپ کو ایک نئی حقیقت کا سامنا بھی ہوتا ہے، جیسے آپ خود کو پہلے جیسا محسوس نہیں کرتے، آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ چینی کی لت کے شکار ہیں۔ جنیفر لوپز نے بتایا کہ وہ ہر وقت چینی کھانے کے بارے میں سوچتی رہتی تھیں۔ ہر وقت میں سوچتی تھی وہ وقت کب آئے گا جب میں دوبارہ چینی کھاسکوں گی، آغاز میں یہ چیلنج بہت مشکل تھا، پہلے تو میں نے سوچا یہ تو صرف 10 دن کی بات ہے وہ تو ایسے ہی گزر جائیں گے مگر پہلے دن سے ہی مشکل محسوس ہونے لگی، پھر درمیان کا وقت بھی کچھ مشکل تھا اور آخر میں سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ اس چیلنج کے اختتام کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ یہ محسوس کرکے حیران رہ گئیں کہ اب انہیں چینی کھانے کی خواہش پہلے جیسی نہیں رہی اور اچھا محسوس کرنے لگی ہیں۔آپ کو اچانک جسم سوجا ہوا لگتا ہے اور اچھا احساس ہوتا ہے، آپ اس احساس کے بھی عادی ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو فوری طور یر کچھ جسمانی تبدیلیوں کا امکان ہوتا ہے جو کہ فائدہ مند ہوتی ہیں۔ ایک امریکی ماہر طب تمارا ڈیوکر فریومین نے بتایا کہ جب کوئی شخص چینی کا استعمال ترک کرتا ہے یعنی کسی بھی شکل میں اسے جسم کا حصہ نہیں بناتا تو گھنٹوں کے اندر ہی جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ خیال رہے کہ چینی سے ہٹ کر بھی خوراک کی شکل میں مٹھاس جسم کا حصہ بنتی ہے لیکن یہاں بات صرف چینی کی ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی نہ کھانے سے چند گھنٹوں کے اندر ہی ہارمونز کی سطح میں تبدیلیاں آتی ہیں اور انسولین کی سطح کم ہونے لگتی ہے۔ جیسا کہ آپ کو علم ہوگا کہ انسولین جسم کے اندر مٹھاس کو کنٹرول کرنے اور اضافی گلوکوز کو ذخیرہ کرنے کا کام کرنے والا ہارمون ہے۔ اگر جسم میں انسولین کی بہت زیادہ مقدار گردش کررہی ہو تو جسمانی وزن میں کمی اور چربی گھلنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ ماہر طب کے مطابق جب آپ چینی کا استعمال ترک یا بہت کم کردیتے ہیں تو جسم کے لیے ذخیرہ شدہ چربی تک رسائی اور توانائی کے لیے اسے گھلانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔