تازہ شمارہ
Title Image
March 04, 2019
بولی وڈ کی حسین ترین ساحرہ مدھو بالا کی سرگزشت - قسط  :    11

بولی وڈ کی حسین ترین ساحرہ مدھو بالا کی سرگزشت - قسط : 11

وہ شوٹنگ پر پہنچی تو اس کی رنگت زرد تھی

بیماری نے جب مدھوبالا کو اداکاری ترک کرنے پر مجبور کردیا تو اس کی کئی فلمیں نامکمل رہ گئیں۔ ’’چالاک‘‘ بھی ان میں سے ایک تھی جس میں مدھوبالا کا تھوڑ ا سا کام باقی رہ گیا تھا۔ 1966ء میں جب اس کی صحت میں معمولی سی بہتری آئی تو اس نے ہمت کر کے ’’چالاک‘‘ کو مکمل کرانے کی کوشش کی تاکہ فلمساز نقصان سے بچ سکے۔ وہ جب سیٹ پر پہنچی تو اس کی رنگت زرد تھی اور وہ بے حد دبلی نظر آرہی تھی لیکن اس نے زندہ دلی سے بھرپور اپنی ہنسی کو اب بھی خیرباد نہیں کہا تھا۔ راج کپور نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ وہ اس حالت میں شوٹنگ کے لیے کیوں آگئی تھی؟ ان کا اندازہ تھا کہ وہ تیز لائٹس کی تپش اور اسٹوڈیو کے گردوغبار میں بار بار ری ٹیکس کی مشقت اور اداکاری کا اعصابی دبائو برداشت نہیں کر سکے گی۔ راج کپور کا اندازہ درست ہی تھا۔ مدھوبالا صرف چند دن ہی شوٹنگ کرسکی۔ اس کی حالت دوبارہ خراب ہوگئی اور اسے شوٹنگ ترک کرنا پڑی۔ ’’چالاک‘‘ نامکمل ہی رہ گئی۔ شاید مدھوبالا کو اپنے کیریئر کے عروج کے دوران ہی احساس ہو گیا تھا کہ بیماری جلد ہی اسے فلموں میں کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑے گی۔ راج کھوسلہ جب اسے ’’شرابی‘‘ کے لیے سائن کرنے گئے تو مدھوبالا نے کہا ’’آپ کے حق میں بہتر یہی ہے کہ آپ کسی اور کو کاسٹ کر لیں۔‘‘ وہ نخرے نہیں دکھا رہی تھی۔ اس کا لہجہ دوستانہ اور ہمددرانہ تھا۔ اس کے لہجے میں ہلکی سی اداسی بھی تھی۔ تاہم راج کھوسلہ نے اسے ہی کاسٹ کیا۔ ’’شرابی‘‘ 1964ء میں ریلیز ہوئی۔ یہ مدھوبالا کی زندگی میں ریلیز ہونے والی اس کی آخری فلم تھی۔ اس کے اشتہار میں ڈائریکٹر اور پروڈیوسر نے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے یہ جملے شامل کئے: شاعر نے اس کا حسن دیکھا مجمسہ ساز نے اس کا پیکر تراشا دنیا اسے ’’وینس‘‘ کہتی ہے ہم اسے مدھوبالا کہتے ہیں مدھوبالا کی یہ فلم کاروباری اعتبار سے خاصی کمزور رہی کیونکہ اس کے شروع کے آدھے حصے میں تو مدھوبالا اپنی تمامتر خوبصورتی اور ’’آب و تاب‘‘ کے ساتھ موجود تھی لیکن آخر کا آدھا حصہ زیادہ تر اس کے بغیر فلمایا گیا کیونکہ اس وقت وہ فلموں میں کام کرنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ اس کی فلم ’’جوالا‘‘ اس کے انتقال کے بعد 1971ء میں ریلیز ہوئی۔ دیو آنند نے اس کے بارے میں کہا ’’وہ نہایت زندہ دل تھی۔ کون کہہ سکتا تھا کہ اس کےدل میں نقص ہے، اس کا دل بیمار ہے۔ اسے ہنستے دیکھ کر تو لوگوں کے دلوں کو تقویت ملتی تھی۔ میں بہت سنجیدہ مزاج آدمی ہوں۔ خاص طور پر کام کے وقت، یعنی فلموں کے سیٹ پر بہت سنجیدہ رہتا ہوں۔ مدھوبالا کو میرا اتنا سنجیدہ رہنا عجیب لگتا تھا، بلکہ یوں کہیے کہ اس سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔ مجھے چھیڑنے کے لیے، وہ عین شوٹنگ کے وقت اور بھی زیادہ ہنستی تھی۔ آخرکار مجھے بھی ہنسی آجاتی تھی۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہنستے ہنستے وہ ایک دن اچانک غائب ہو گئی۔‘‘ مدھو بالا پہلی بار راج کپور کے ساتھ ہیروئن کے طور پر سامنے آئی تو اس کی عمر چودہ سال تھی۔ وہ پہلی بار دیو آنند کی ہیروئن بنی تو سولہ سال کی تھی۔ جب دلیپ کمار کے مقابل پہلی بار اسے ’’ترانہ‘‘ میں ہیروئن کے طور پر سائن کیا گیا تو اس کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ دلیپ کمار اس سے دس سال بڑے تھے۔ پہلی فلم کے بعد ہی انہیں بہترین رومانی جوڑی قرار دے دیاگیا۔ دلیپ کمار کے ساتھ اس سے پہلے بھی مدھو بالا نے ایک فلم ’’ہار سنگھار‘‘ میں چند سین کئے تھے لیکن یہ فلم مکمل نہیں ہوسکی تھی۔ ’’ترانہ‘‘ میں مدھو بالا کے ہیرو بننے سے پہلے دلیپ کمار کی کئی کامیاب فلمیں ریلیز ہوچکی تھیں جن میں میلہ، شہید، بابل، دیدار اور جوگن وغیرہ شامل تھیں۔ انہیں اس دور میں ہی بھارتی فلم انڈسٹری کا سب سے بڑا اداکار تسلیم کر لیا گیا تھا اور وہ فلمی دنیا کے بادشاہ کاخطاب حاصل کرچکے تھے۔ وہ اس دور کی تمام بڑی ہیروئنوں نرگس، نورجہاں، کامنی کوشل اور نمی وغیرہ کے ساتھ کام کرچکے تھے۔ دلیپ کمار کے ساتھ کاسٹ ہونے سے ایک سال پہلے فلم ’’محل‘‘ کی بدولت مدھو بالا کی شہرت بھی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ دلیپ کمار اور مدھو بالا دونوں ہی دیویکارانی کی دریافت تھے۔  دلیپ کمارکے ساتھ چند دن کام کرنے کے بعد مدھو بالا نے اپنی بہن سے کہا ’’ان کی آنکھوں میں ایک عجیب مقناطیسی سی کشش ہے۔ ان سے نظر مل جائے تو نظر ہٹانا محال ہو جاتا ہے۔‘‘ یہ ایک ایسی لڑکی کے الفاظ معلوم ہوتے ہیں جو کسی کی محبت میں گرفتار ہوچکی ہو۔ حالات بتاتے ہیں کہ ابتدائی دنوں میں ہی مدھو بالا نے اپنا دل اپنے ساتھی اداکار دلیپ کمارکی نذر کر دیا تھا۔ عہد وپیمان خواہ بعد میں ہوئے ہوں، تعلق خواہ بعد میں مضبوط ہواہو، لیکن محبت کا پھول یقیناً ابتدا ہی میں دل میں کھل چکا ہوگا۔ دلیپ سے مدھو بالا کی یہ محبت ہمیشہ کے لئے تھی۔ اس کے والد نے خواہ کچھ بھی کہا، کچھ بھی کیا، حالات نے خواہ کوئی بھی رخ اختیار کیا، مدھو بالا کو خواہ کسی سے بھی شادی کرنا پڑی لیکن اس کی پہلی اور آخری محبت بہرحال دلیپ کمار تھے۔ اس حقیقت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکا۔ ’’فلم انڈیا‘‘ نامی فلمی رسالے نے اپنے 5؍اکتوبر 1951ءکے شمارے میں اس فلم پر بے حد تعریفی تبصرہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا۔ ’’اس کے رومانی مناظر کو دیکھ کرکوئی نہیں کہہ سکتا کہ مدھو بالا اداکاری کر رہی ہے۔ فلم دیکھنے والوں کا دل گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ لڑکی سچ مچ دلیپ کمار کے عشق میں گرفتار ہے۔‘‘  دلیپ کماراور مدھو بالا نے صرف چار فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ ’’مغل اعظم‘‘ ان کی آخری فلم تھی، جس کے بعد ان کے درمیان راہ ورسم بھی ختم ہو گئی۔ دلوں میں محبت تو شاید رہی ہو لیکن ظاہری طور پر قطع تعلق نظر آنے لگا۔ ’’ترانہ‘‘ کے بعد تین فلموں کا اعلان ہوا، جن میں ان دونوں کو ایک ساتھ کاسٹ کیا گیا۔ یہ فلمیں سنگدل، داغ اور گوہر تھیں۔ ان میں سے صرف ’’سنگدل‘‘ مکمل ہو کر ریلیز ہوئی، مگر اس میں بھی تقریباً دو سال لگے۔ ’’گوہر‘‘ شروع ہی نہیں ہو سکی۔ ’’داغ‘‘ بعد میں مکمل ہوئی مگر اس میں دلیپ کمار کے ساتھ مدھو بالا کے بجائے نمی تھی۔ گرودت کی ’’پیاسا‘‘ میں بھی پہلے دلیپ کمار، مدھو بالا اور نرگس پر مشتمل کاسٹ رکھی گئی تھی۔ بعد میں تینوں اداکار بدل گئے۔ مدراس میں واقع جمنائی اسٹوڈیو کے مالک ایس ایس وسن ایک اردو فلم ’’بہت دن ہوئے‘‘ بنا رہے تھے۔ مدھو بالا اس کی ہیروئن تھی۔ شوٹنگ کے لئے اسے مدراس جانا پڑا۔ وہاں وہ ابھی دو چار دن ہی شوٹنگ کر پائی تھی کہ اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی۔ شدید کھانسی تو اسے پہلے ہی سے تھی۔ کھانا بھی اس سے کھایا نہیں جاتا تھا۔ صرف دودھ پر گزارہ تھا۔ تاہم اس نے جیسے تیسے ابتدائی شوٹنگ کی، مگر پھر ایک روز اسے خون کی الٹی آگئی۔ اس کی حالت ایسی ہو گئی کہ اسے تکیوں کا سہارا لے کر ایک خاص زاویئے سے بیٹھنا پڑتا۔ تب خون کی الٹی رکی رہتی لیکن اگر وہ مختلف زاویوں سے اپنے جسم کو زیادہ حرکت دیتی تو منہ سے خون آنے لگتا۔ اسٹوڈیو کے مالک اور فلم کے پروڈیوسر ایس ایس وسن نے اس کا بہت خیال رکھا اور اس کے لئے ہر ممکن طریقے سے بہترین علاج فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی بیوی بھی مدھو بالا کی دیکھ بھال کے سلسلے میں ان کے ساتھ رہتی۔ مدھو بالا نے اپنے آپ کو بہت شرمندہ محسوس کیا کہ وہ ان کی فلم میں کام کرنے کے بجائے ان کے لئے ایک بوجھ اور ذمہ داری بن گئی تھی۔ اس نے وسن کے سامنے تجویز پیش کی کہ ابھی بہت کم شوٹنگ ہوئی تھی، اگر ابھی اس کی جگہ کسی اور کو ہیروئن کاسٹ کر لیا جائے تو بہتر ہو گا، انہیں زیادہ نقصان برداشت نہیں کرنا پڑے گا، لیکن مسٹر وسن نے اس موقع پر بڑی کشادہ دلی اور وضعداری کا ثبوت دیا۔ انہوں نے مدھو بالا سے کہا۔ ’’آپ نفع نقصان کی بالکل فکر نہ کریں اور نہ یہ سمجھیں کہ آپ کی وجہ سے ہمیں کوئی زحمت ہو رہی ہے۔ ہم اگر فلم بنائیں گے تو آپ کے ساتھ بنائیں گے، ورنہ ہم یہ فلم بنانے کا ارادہ ہی ترک کر دیں گے۔‘‘ ان کا یہ خلوص اور وضعداری دیکھ کر مدھو بالا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’’بہت دن ہوئے‘‘ بڑی مشکلوں سے مکمل ہوئی۔ یہ ایک اچھی فلم تھی لیکن کاروباری طور پر زیادہ کامیاب نہیں رہی۔ مینا کماری اور مدھو بالا کو کبھی ایک ساتھ کسی فلم میں کاسٹ نہیں کیا گیا لیکن ان میں سے جب بھی کسی ایک کا ذکر آتا ہے تو لوگوں کے ذہنوں میں دوسری کاخیال ضرور آتا ہے۔ شاید اس لئے کہ دونوں ہی کی نجی زندگی المیوں کا شکار رہی۔ تاہم مینا کماری اور مدھو بالا میں ایک اہم فرق یہ تھا کہ مدھو بالا نے المیہ اداکاری کے ساتھ ساتھ مزاحیہ اداکاری میں بھی اپنے آپ کو منوایا اور ذاتی زندگی میں بھی وہ اپنے تمامتر دکھوں، پریشانیوں اور بیماری کے باوجود نہایت زندہ دل اور ہنس مکھ تھی۔ مینا کماری حقیقی زندگی میں بہت سنجیدہ مزاج تھیں جبکہ مدھو بالا اپنی تمام پریشانیوں اور دکھوں کو دل میں ہی چھپائے، اکثر ہنستی ہی دکھائی دیتی تھی۔ سنجیدہ مزاج لوگ تو ان کی ہنسی سے تنگ آجاتے تھے۔ ایک فرق یہ بھی تھا کہ مینا کماری نے اپنے دکھوں سے فرار حاصل کرنے کے لئے بوتل کا سہارا لے لیا تھا لیکن مدھو بالا نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔ مدھو بالا نے اپنی فلموں ’’مسٹر اینڈ مسز 55‘‘ اور ’’چلتی کا نام گاڑی‘‘ میں اپنے آپ کو ایک بہترین مزاحیہ اداکارہ بھی ثابت کیا ہے۔ مدھو بالا اور کشور کمار پہلی بار فلم ’’ڈھاکے کی ململ‘‘ میں ایک ساتھ نظر آئے۔ یہ فلم 1956ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے بعد 1960ء میں یہ دونوں مدھو بالا کی اپنی پروڈکشن ’’محلوں کے خواب‘‘ میں یکجا ہوئے۔ اس فلم میں ان دونوں کے علاوہ مدھو بالا کی بہن چنچل اور پردیپ کمار بھی تھے۔ 1961ء میں ریلیز ہونے والی ’’جھومرو‘‘ اور 1962ءمیں ریلیز ہونے والی ’’ہاف ٹکٹ‘‘ مدھو بالا کی آخری فلموں میں سے تھیں۔ یہ و ہ زمانہ تھا جب مدھو بالا کی صحت کافی خراب ہوچکی تھی اور وہ اکثر شوٹنگز پر نہیں پہنچ پاتی تھی۔ (جاری ہے)