تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019

بادشاہ کی رضامندی مخلوق کی دلجوئی پوشیدہ ہے

حضرت شیخ سعدیؒ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ کے وزیر نے خزانے کو بھرنے کیلئے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا۔ دانائوں کا قول ہے کہ جو اللہ عزوجل کو ناراض کرتا ہے کہ مخلوق اس سے راضی ہو تو اللہ عزوجل مخلوق کو اسی پر مسلط کردیتا ہے۔ بھڑکتی آگ دانے کو اس قدر نہیں جلاتی جس قدر دل جلے کے دل سے اٹھنے والا دھواں جلاتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ گدھا تمام جانوروں میں سب سے زیادہ ذلیل ہے اور سب جانتے ہیں کہ جانوروں کا گوشت کھانے والے شیر سے گدھا بہتر ہے۔ گدھا ذلیل ہونے کے باوجود سب کا بوجھ اٹھاتا ہے اسی لئے اچھا لگتا ہے اور مخلوق کو تنگ کرنے والا انسان اس بوجھ اٹھانے والے گدھے اور بیل سے بدتر ہے۔ بادشاہ کو اپنے وزیر کی کوئی حرکت پسند نہ آئی اور اسے قید کروا دیا۔ پھر وہ وزیر طرح طرح کی اذیتوں سے دوچار ہونے کے بعد مرگیا۔ بادشاہ کی رضا مندی مخلوق کی دلجوئی میں پوشیدہ ہے۔ اگر اللہ عزوجل سے حسن سلوک کے طلبگار ہو تو اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو۔ جب وہ وزیر قید خانے میں تھا تو اس کے پاس عوام الناس میں سے کوئی آیا اور اس کی حالت دیکھ کر کہا کہ عہدہ ہوتے ہوئے اور بازوئوں میں طاقت ہوتے ہوئے عوام کا مال ہڑپ کرنا درست نہیں۔ سخت ہڈی کو تم نگل سکتے ہو مگر جب وہ پیٹ میں پہنچتی ہے تو ناف میں پھنس جاتی ہے۔ ظالم کے مرنے کے بعد بھی اس پر ہمیشہ لعنت برستی رہتی ہے۔ حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ پس یاد رکھو! اگر تم کسی عہدے پر فائز ہو تو اسی عہدے کے ساتھ انصاف کرو اور عوام الناس کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھو۔ اللہ عزوجل کی خوشنودی کے طلبگار ہو تو اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو۔ )حکایات سعدی رحمۃ اللہ علیہ …گلستان(