تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
شیخ محمد عبدہ

شیخ محمد عبدہ

شیخ محمد عبدہؒ1849ءکو دریائے نیل کے کنارے ایک گائوں محلات نصر میں پیدا ہوا۔ ابتدائی مذہبی تعلیم وہیں پائی۔ کچھ عرصہ بعد اپنے چچا کے اصرار پر دینی تعلیم کا سلسلہ ختم کردیا۔ بعدازاں جامع ازہر میں رہے، لیکن کچھ عرصہ بعد جامعہ ازہر بھی چھوڑ دیا اور اپنے طور پر مطالعہ کرتا رہا۔ 1872ء میں سید جمال الدین افغانی جب مصر آیا، تو ان سے رابطہ ہوا۔ ان کی رفاقت سے شیخ محمد عبدہؒ کو جلا ملی۔ جب افغانی کو مصر سے جلاوطن کرکے پیرس بھیج دیا گیا تو شیخ عبدہ بھی ساتھ تھا۔ 1876ءمیں جمال الدین افغانیؒ کے اصرار پر صحافت کی طرف متوجہ ہوا۔ 1879ءمیں دارالعلوم ازہر میں استاد مقرر ہوا، لیکن اسی سال ملازمت سے علیحدہ کردیا گیا۔ 1880ءمیں مصر کی حکومت نے سرکاری اخبار، الوقائع مصریہ کا مدیر اعلیٰ مقرر کیا۔ 1882ءمیں مصر سے نکالے جانے کے بعد بیروت سے ہوتے ہوئے سید جمال الدین افغانیؒ کے پاس قاہرہ پہنچا۔ وہاں دونوں نے ایک تنظیم العروۃ الوثقی قائم کی اور اسی نام سے ایک اخبار جاری کیا۔ اسی اخبار میں جمال الدین افغانی کے افکار پیش کئے جاتے تھے۔ پیرس میں قیام کے دوران فرانسیسی زبان سیکھی۔ 1885ء میں شیخ محمد عبدہؒ نے بیروت جاکر سکونت اختیار کی۔ وہاں سے 1889ءمیں مصر واپس آنے کی اجازت پر قاہرہ پہنچا۔ وہاں فوراً عدالت کا قاضی مقرر کردیاگیا۔ 1899ءمیں مصر کا مفتی اعظم مقرر ہوا اور وفات تک اس عہدے پر فائز رہا۔ اس کے ایک فتوے نے بہت بہت زیادہ شہرت حاصل کرلی اور اسی کی دوسرے علمائے دین کی طرف سے مخالفت بھی کی گئی۔ اس نے عیسائیوں اور یہودیوں کے ہاتھوں ذبح کئے گئے جانوروں کے گوشت کو حلال قرار دے دیا تھا۔ 1899ءکے بعد مصر میں کئی اہم اداروں کا کارکن اور سربراہ رہا۔ اسی دوران قرآن پاک کی تفسیر’’الحنار‘‘بھی لکھنا شروع کی لیکن وہ اس کی وفات تک مکمل نہ ہوسکی۔ اس تفسیر کو شیخ عبدہؒ کے قابل اعتماد شاگرد علامہ رشید رضاؒنے مکمل کیا۔ علامہ رشید رضاؒ نے اپنے استاد کے افکار پھیلانے میں اہم کردارا دا کیا۔ شیخ محمد عبدہؒ کا مشن تھا کہ اسلام کو جدید تقاضوں کے مطابق ایک انقلابی صورت میں پیش کیا جائے اور اس کی بنیاد قرآن و سنت ہی ہو۔ عربی ادب و زبان کی توسیع اور نشر و اشاعت کا انتظام کیا جائے۔ شیخ عبدہؒ، امام ابن تیمیمہؒ، امام ابن قیمؒ اور امام غزالیؒ کے افکار سے متاثر تھا۔ تقلید کا سخت مخالف اور اجتہاد کا قائل تھا اور انہی بنیادوں پر کام کرتا رہا۔ قدیم فقہ رَد کرکے نئی فقہ بنانا چاہتا تھا۔ تصانیف میں رسالتہ التوحید، الاسلام، والسنہ ایز بھی مشہور ہیں۔