تازہ شمارہ
Title Image
کشیدگی کم کرانے میں عرب قیادت نے قابل تعریف کردار ادا کیا، پاکستان

کشیدگی کم کرانے میں عرب قیادت نے قابل تعریف کردار ادا کیا، پاکستان

سعودی عرب سے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے موقر اخبار ’’عرب نیوز‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کے مثبت کردار کا برملا اعتراف کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی اس وقت بہت بڑھ گئی تھی، جب مقبوضہ کشمیر میں کیے جانے والے ایک خودکش حملے میں 40سے زائد بھارتی سپاہی مارے گئے۔ پاکستان میں قائم ایک عسکریت پسند گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی، جس پر مشتعل بھارت نے ایک فضائی حملہ کر ڈالا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے بھی فضائی کارروائی کی اور نتیجے میں بھارتی فضائیہ کا ایک طیارہ تباہ ہوا اور اس کا ہواباز بھی پکڑا گیا۔ کئی ہفتے تک جاری رہنے والی اس سنگین و شدید نوعیت کی کشیدگی کی شاید گزشتہ کئی عشروں میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔  پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید کی جانب سے قابل تعریف مداخلت پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔  گزشتہ دنوں ’’عرب نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر اسلامی ملکوں کی طرف سے بڑی مدد ملی۔ وزیر اطلاعات نے تنازعہ کشمیر کے بارے میں ’’آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘‘ (OIC) کی جانب سے پُرزور الفاظ میں  منظور کی گئی قرارداد کا بھی خیرمقدم کیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ’’او آئی سی کی جانب سے منظور کی جانے والی حالیہ قراردادوں، جن میں کشمیر کے تنازع کے حل کیلئے کہا گیا ہے اور بھارت کی مذمت کی گئی ہے۔ یہ واضح ہے کہ عرب دنیا پاکستان کے ساتھ اپنے مراسم کو اہمیت دیتی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ دین کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں اور ہمارے مابین بہت ہی قریبی اقتصادی اور اسٹرٹیجک تعلقات قائم ہیں۔ ہر بحران دراصل ان تعلقات کو مزید مستحکم کرتا ہے۔‘‘  تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلامی ملکوں بالخصوص عرب دنیا سے نسبتاً زیادہ بہتر ردّعمل کی توقع رکھتا تھا۔ سابق پاکستانی سفارت کار شاہد امین نے ’’عرب نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت عرب سرمایہ کاروں کے لیے اپنی بڑی مارکیٹ کی وجہ سے جو اہمیت رکھتا ہے، ہم اس سے انکار نہیں کرتے، تاہم ایک ایسی صورت حال میں کہ جب پاکستان نے بھارت کی جانب سے کشیدگی کو ہوا دینے کی پالیسی کے مقابلے میں صبر و تحمل کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، ہم یہ توقع کررہے تھے کہ عرب دنیا زیادہ واضح اور نمایاں ردّعمل ظاہر کرے گی۔‘‘ بین الاقوامی امور کی ممتاز پاکستانی ماہر پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت کا کہنا ہے کہ جب ایٹمی جنگ چھڑ جانے کا خطرہ ہو تو دوسرے ملکوں کو بھی آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے ’’عرب نیوز‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم پلوامہ حملے کو دہشت گردی گردانتے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم ایسے تمام عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں، جو دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ہم نے بھارتی ہواباز کو بھی چھوڑ دیا۔ اس صورتحال میں ہم (عرب/ اسلامی دنیا سے) زیادہ واضح حمایت کی امید کررہے تھے۔‘‘ دوسری جانب ایک اور تجزیہ کار قمر چیمہ کا کہنا ہے کہ پاکستان، عرب ملکوں پر مزید بوجھ ڈالنا نہیں چاہے گا کیونکہ وہ پہلے ہی ان سے بھاری اقتصادی امداد حاصل کررہا ہے۔ دبئی سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامے ’’خلیج ٹائمز‘‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید ال نہیان نے پاک، بھارت کشیدگی کم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اخبار کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کا عمل شروع کیا جائے۔ شیخ محمد بن زاید نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران کہا کہ مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل ہونا ممکن ہے، بشرطیکہ فریقین اس کے لیے اپنا ذہن بنالیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فریقین کو باہمی بات چیت اور رابطے قائم کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے کشیدگی کو کم کرنا چاہیے۔ متحدہ عرب امارات دونوں پڑوسی ملکوں کے مابین مثبت روابط کی حمایت کرتا ہے، مشترکہ تاریخ اور ثقافت دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔