تازہ شمارہ
Title Image
پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں بھارت کی میلی نظر کراچی پر!

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں بھارت کی میلی نظر کراچی پر!

کراچی کو کشمیر اور سندھ، بلوچستان کو بنگلادیش بنانے کا خواب دیکھنے والے بھارت کو پاکستان کے ساتھ حالیہ جھڑپوں میں منہ کی کھانی پڑی۔ کانگریس سمیت بھارت کی 21 سیاسی جماعتیں وزیراعظم نریندر مودی سے دریافت کررہی ہیں کہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر خودکش حملے میں درجنوں ہلاکتوں اور پاکستان سے جھڑپوں میں دو بھارتی طیارے مار گرائے جانے کے واقعات کا ذمہ دار کون ہے؟ محض انتخابات میں بی جے پی کی فتح کے لئے یہ خونیں ڈراما کیوں رچایا گیا۔ ان احمقانہ کارروائیوں سے پوری دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور مودی جی نے بھارت کو تنہا کردیا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو سراہا جارہا ہے اور مودی جی پر لعن طعن ہورہی ہے۔ آج بھارت تقسیم نظر آرہا ہے اور پاکستان متحد ہوگیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر آصف علی زرداری اور شہباز شریف ’’پاک فوج زندہ باد‘‘ کے نعرے لگارہے ہیں اور اپنے بدترین مخالف وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آصف علی زرداری دریافت کررہے ہیں کہ بھارت میں پاکستان پر حملے کی ہمت کیسے ہوئی۔ وہ اور شہباز شریف اپنی اپنی جماعتوں سے پاک فوج کی حمایت میں ریلیاں نکلوا رہے ہیں۔ اس کایا پلٹ کی تفصیل یہ ہے کہ گزشتہ دنوں بھارت کے میراج طیارے لائن آف کنٹرول پار کرکے کشمیر سے ملحق علاقے بالا کوٹ پر بم گرا کر واپس فرار ہوگئے۔ بھارتی سیکریٹری دفاع نے اسے ’’غیرفوجی سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کا نام دیا، ان طیاروں نے کسی فوجی ٹھکانے کو نشانہ نہیں بنایا۔ پاکستان کے عسکری ترجمان عقابی صفات کے حامل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمارے فضائی دفاع کے نظام نے بھارتی طیاروں کو لائن آف کنٹرول پار کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا لیکن انہیں اس لئے نشانہ نہیں بنایا کہ انہوں نے کسی فوجی ٹھکانہ کو نشانہ نہیں بنایا۔ بھارتی طیارے پیر اور منگل کی درمیانی شب 2بج کر 58منٹ پر پاکستانی حدود میں داخل ہوئے اور محض 3منٹ میں بالا کوٹ کے ویران پہاڑی علاقے میں اپناپے لوڈ گراکر فرار ہوگئے۔ بدھ کی صبح بھارت کو اس کارروائی کا جواب بھی اسی انداز سے دے دیا گیا۔ پاک فضائیہ کے پائلٹ حسن علی صدیقی اپنا طیارہ لے کر بھارتی حدود میں داخل ہوئے۔ بھارت کے دومگ 21 طیاروں نے ان کا تعاقب کیا اور وہ دونوں کو گرا کر کامیاب اور فتح مند پاکستان میں اپنے اڈے پر بحفاظت اتر گئے۔ اس سے قبل 1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ کے مایہ ناز پائلٹ ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے کم مدت میں بھارت کے 5 طیارے مار گرائے تھے۔ پاکستان اور بھارت کی افواج کی جانب سے اس محدود کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ طرفین کا مقصد ایک دوسرے کو اپنی طاقت اور استعداد سے باخبر کرنا تھا جس کے لئے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں فوجیوں پر ہونے والے خودکش حملے کو استعمال کیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پلوامہ حملہ میں پاکستان کی ایک مبینہ تنظیم ’’جیش محمد‘‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگے تو بھارتی وزیراعظم مودی کو سانپ سونگھ گیا اور رات کی تاریخی میں بزدلانہ حملہ کردیا۔ اس محدود کارروائی سے پاکستان کو لامحدود فوائد حاصل ہوئے۔ پاکستان کی فوج، اپوزیشن، حکومت اور عوام ایک ہوگئے۔ عوام نے کراچی سمیت ملک گیر پیمانے پر بھارت کے خلاف ریلیاں نکالیں، مظاہرے کئے، مودی کے پتلے جلائے اور کراچی سے خیبر تک ’’پاک فوج زندہ باد‘‘ کے نعرے گونجنے لگے۔ اس کے برعکس بھارت میں کانگریس سمیت 21 سیاسی جماعتیں مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کے خلاف متحد ہوگئیں، دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجری وال نے وزیراعظم مودی سے سوال کیا کہ وہ مزید کتنی نعشیں الیکشن جیتنے کے لئے گرائیں گے۔ جب ملک ہی نہیں بچے گا تو پولنگ بوتھ بھی نہیں بچ سکے گا۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرکے بھارت کے حوالے کردیا، جس سے پوری دنیا کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان ایک امن پسند اور صلح جو ملک ہے، بھارت سے جنگ نہیں چاہتا۔ یہ سفارتی محاذ پر پاکستان کی بہت بڑی کامیابی قرار دی گئی۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے غیرملکی فوجی سربراہان اور سفارتکاروں سے رابطے کرکے انہیں پاکستان کی امن کوششوں اور دو پڑوسی ایٹمی ملکوں کی ممکنہ جنگ کی صورت میں تباہی و بربادی کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ ان کوششوں سے بھارت پر پاکستان سے صلح کے لئے دبائو بڑھتا چلاگیا اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کو واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ وہ فوری طور پر کشیدگی ختم کردیں اور صلح کی طرف آئیں۔ اردن کے شاہ عبداللہ نے وزیراعظم عمران خان سے گفتگو میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔ پاکستان بھارت سے 10گنا چھوٹا ملک ہے لیکن سیاسی و عسکری قیادت کی کامیاب ترین سفارتکاری، حملے کا موثر اور محدود جواب اور جنگ لڑنے کی تیز رفتار صلاحیت نے اسے بھارت سے بڑا بنادیا ہے۔ بھارت عرصہ دراز سے پاکستان کو کمزور اور تقسیم کرنے کے منصوبے پر گامزن ہے لیکن حالیہ حملے اور ایل او سی پر مسلسل گولہ باری کے تناظر میں پاکستانی قوم، سیاسی قیادت اور مسلح افواج نے جس یکجہتی، اجتماعی دانش اور جنگ لڑنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ،اس نے دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ پاکستان سائز میں چھوٹا ہونے کے باوجود ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت تباہی اور تقسیم کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اس کے 17 صوبوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں، فوج کی اکثریت حالات سے غیرمطمئن ہے، پنجاب میں کرتارپور کی سرحد کھولنے سے پوری سکھ برادری کی ہمدردیاں پاکستان کے ساتھ وابستہ ہوگئی ہیں۔ سکھ بھارت کی پوری آبادی کا 3فیصد ہیں لیکن انڈین آرمی میں ان کی اکثریت ہے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو بھارت کے منصوبہ سازوں کے لئے تشویشناک ہے۔ بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا قتل ان کے سکھ گارڈز نے کیا تھا۔ سکھ مارشل ریس اور جنگجو قوم شمار ہوتی ہے۔ بھارت کی ہندو اکثریت کو یہ حقیقت ضرور مدنظر رکھنی چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ بھارتی حملے سے پاکستان مضبوط و متحد اور بھارت کمزور ہوا ہے۔ پوری دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور بھارت تنہا رہ گیا ہے۔ بھارتی خفیہ تنظیم ’’را‘‘ کے ایک ریٹائرڈ افسر آر کے یادو نے اپنی کتاب ’’مشن را‘‘ میں انکشاف کیا ہے کہ 1971ء میں بھارتی طیارہ ’’گنگا‘‘ اغوا کرنے والا ہائی جیکر ہاشم قریشی ’’را‘‘ کا ایجنٹ تھا۔ اس وقت کے ’’را‘‘ کے سربراہ آر این کائو نے ہاشم قریشی کے ذریعے خود ’’گنگا‘‘ طیارہ ہائی جیک کرایا اور پھر اس کی آڑ میں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان فضائی راستے منقطع کرا دیئے اور مغربی پاکستان کو ڈھاکہ جانے کے لئے سری لنکا کا طویل روٹ استعمال کرنا پڑا۔ 1964ء میں مشرقی پاکستان میں نفرت اور بغاوت کی آگ بھڑکانے کے لئے بھارتی خفیہ ادارے کا جو خصوصی ونگ بنایا گیا تھا، اس کا سربراہ سنکارن نائر تھا۔ یہ شخص بعدازاں ’’را‘‘کا پہلا نائب سربراہ مقرر ہوا اور 1977ء کے بعد اسے سربراہ بنادیا گیا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے بھارتی شہر اگرتلہ میں شیخ مجیب الرحمان سے ملاقات کرکے پاک فوج میں موجود بنگالی افسروں کو بغاوت کرنے کا منصوبہ پیش کیا اور رہنمائی کی۔ یہ منصوبہ ’’اگرتلہ سازش‘‘ کے نام سے تاریخ میں رقم ہے۔ 1964ء میں بھارتی سیاستدان راج موہن گاندھی نے کہا تھا ’’ہم بہت جلد مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کردیں گے اور بعدازاں پاکستان کی واحد بندرگاہ کراچی کو بھی پاکستان سے جدا کردیں گے۔‘‘ 1990ء میں بھارتی ہائی کمشنر نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ سے ملاقات کرکے اپنی حکومت کا یہ پیغام دیا تھا کہ ’’اگر کشمیر میں پاکستان کی مداخلت کا سلسلہ چلتا رہا تو ہمارے پاس کراچی کو غیرمستحکم کرنے کا آپشن موجود ہے۔‘‘ ان حقائق کی روشنی میں یہ بات ایک حقیقت کے طور پر برقرار ہے کہ بھارت نے پاکستان کے قیام کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ اس کی معاندانہ اور مخاصمانہ کارروائیاں ہمیشہ جاری رہی ہیں۔ وہ پاکستان پر ماضی میں دو جنگیں بھی مسلط کرچکا ہے لیکن یہ ’’نیا پاکستان‘‘ ہے۔ پاکستانی قوم، مسلح افواج اور سیاسی قیادت نے ماضی سے بہت سے سبق سیکھے ہیں۔ انہیں آزادی اور خودمختاری کے ساتھ زندہ رہنے کا گُر آگیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا آدرش اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ویژن پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان ہے۔ پوری دنیا سے ان کے رابطے ہیں۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف 36عرب ملکوں کے اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ ہیں۔ یہ 1971ء نہیں ہے۔ آج پوری پارلیمنٹ اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھنے والوں کو اب کئی بار سوچنا ہوگا۔ اینٹ کا جواب پتھر اور تھپڑ کا جواب مکّا ہوگا۔ بھارت کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے ؎ گزشتہ جنگ میں تو انسان ہی جلے تھے مگر عجب نہیں ہے کہ اب پرچھائیاں بھی جل جائیں