تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
برطانوی معیشت لڑکھڑانے لگی کاروں کی صنعت تباہی کے دہانے پر

برطانوی معیشت لڑکھڑانے لگی کاروں کی صنعت تباہی کے دہانے پر

میں گزشتہ 54 سال سے پہلے جنگ گروپ کے اخبارات کے نامہ نگار، اس کے بعد روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اور بعد ازاں بی بی سی اردو سروس سے وابستگی کی بدولت برطانوی سیاست کا قریب سے مشاہدہ کرتا رہا ہوں اور اس دوران میں نے کئی بحران دیکھے ہیں لیکن ایسا سنگین بحران نہیں دیکھا جس میں اس وقت برطانیہ بریگزٹ کے بحران میں گرفتار ہے، جس نے برطانیہ کے عوام کو بُری طرح سے تقسیم کر دیا ہے اور اس بحران کی وجہ سے ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں دھڑوں میں بٹ گئی ہیں اور بغاوتوں نے غیر معمولی خلفشار پیدا کر دیا ہے، پھر میں نے برطانیہ میں اس سے پہلے کبھی ایسی بے یقینی کا عالم نہیں دیکھا جس نے سیاست، صنعت، معیشت اور عوام کی روزمرہ زندگی کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔  سیاست دانوں سے بات کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل کے بارے میں وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ حکومت کے اعلیٰ عملدار اعتراف کرتے ہیں کہ 2016ء کے ریفرنڈم میں، جس میں 51 فیصد سے زیادہ عوام نے یورپ سے علیحدگی کے بارے میں فیصلہ کیا تھا، انہیں قطعی علم نہیں تھا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد میں کس قدر مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب خود حکومت کے تجزیوں میں یہ اعتراف کیا جارہا ہے کہ اگر کسی سمجھوتے کے بغیر برطانیہ نے یورپ سے علیحدگی اختیار کی تو یہ ملک کی معیشت کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی۔ عام طور پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ 2016 ء کے ریفرنڈم کے دوران یورپ سے علیحدگی کے مضمرات اور نتائج پر کھل کر بحث نہیں ہوئی، بس یورپ سے بلا روک ٹوک آنے والوں کے سیلاب کا خوف، نسل پرستوں نے برطانیہ کے عوام پر اس بُری طرح سے طاری کر دیا تھا کہ لوگ یورپ سے ’’آزاد‘‘ ہونا چاہتے تھے۔ ریفرنڈم کے دوران اسی پر زور دیا جاتا تھا کہ برطانیہ یورپ سے نجات حاصل کر کے اپنی خود حاکمیت دوبارہ حاصل کر لے گا اور اسے اپنی سرحدوں پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ برسلز میں یورپی یونین کے احکامات سے آزاد ہو جائے گا اور یورپی عدالت کے دائرۂ اختیار سے اسے نجات مل جائے گی۔ یہ سب نہایت جذباتی معاملات تھے جن کی وجہ سے عوام جذبات کی رو میں بہہ گئے۔  بریگزٹ کی غیر یقینی صورت حال نے صرف بڑے بڑے صنعتی اداروں، بینکوں اور تجارتی کمپنیوں کو ہی گھیرے میں نہیں لے رکھا ہے بلکہ عوام بھی اس بے یقینی کا شکار ہیں، انہیں اپنے روزگار کا مستقبل واضح نظر نہیں آتا۔ جو لوگ مکان بدلنا چاہتے ہیں، وہ ٹھٹھک کر رہ گئے ہیں، انہیں علم نہیں کہ مکانات کی قیمتیں بڑھیں گی یا کم ہوں گی۔ برطانیہ کے عوام عام طور پر فروری، مارچ میں موسم گرما کی تعطیلات کا پروگرام بناتے ہیں۔ اِس وقت کچھ علم نہیں کہ پاؤنڈ کا کیا بنے گا۔ ظاہر ہے کہ اس وقت جس تیزی سے پاؤنڈ کی قیمت گر رہی ہے، اس کے پیش نظر انہیں پتہ نہیں کہ تعطیلات کتنی مہنگی ہوں گی، پھر برطانیہ کی یورپ سے علیحدگی کے بعد یورپ جانا کتنا مہنگا پڑے گا۔ ویزے کے حصول میں کتنی مشکل ہوگی اور کتنا خرچا کرنا پڑے گا۔ سب سے زیادہ عوام کو پریشانی کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری کے سلسلے میں ہوگی۔ کھانے پینے کی 40 فیصد اشیاء یورپ سے درآمد کی جاتی ہیں۔ بریگزٹ کے بعد شدید خطرہ ہے کہ اسٹورز کھانے پینے کی اشیاء سے خالی ہوجائیں گے، جس کے پیش نظر حکومت کو خدشہ ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کی کم یابی کی وجہ سے ہنگامے بھڑک اٹھیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے صورت حال پر قابو پانے کے لئے کئی ہزار فوجیوں کو مستعد رہنے کا حکم دیا ہے۔  برطانیہ میں 30 لاکھ کے قریب یورپی شہری آباد ہیں جو یہاں ملازم ہیں اور ان کے بچے یہاں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم ہیں۔ ان کے مستقبل پر بھی بےیقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ حکومت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ یورپی شہری اگر چاہیں تو برطانیہ میں اپنے قیام کے لئے اجازت نامے حاصل کر سکتے ہیں لیکن ان اجازت ناموں پر انہیں کتنا خرچا برداشت کرنا پڑے گا اور کتنا وقت لگے گا؟ یہ واضح نہیں ہے۔ برطانیہ کو اپنی کار کی صنعت پر اب تک بڑا ناز تھا اور برطانیہ کی معیشت کا یہ اہم ستون مانی جاتی تھی لیکن بریگزٹ کے بحران کی بےیقینی نے اسے تباہ کردیا ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران بےیقینی کی وجہ سے کار کی برآمدات میں 25 فیصد کمی ہوئی ہے اور خطرہ ہے کہ کار کی برآمدات میں اور زیادہ کمی ہوگی کیونکہ ہونڈا نے 2020 ء میں برطانیہ میں اپنا کارخانہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ سے ساڑھے تین ہزار کارکن بےروزگاری کا شکار ہوں گے۔ نسان، جیگوار لینڈ روور اور فورڈ نے بھی اپنے کارخانوں میں تخفیف کا اعلان کیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ بریگزٹ کا بحران برطانیہ کی کار کی صنعت کو بُری طرح سے لے ڈوبے گا۔  بچوں کے پُرتشدد گروہوں میں اضافہ یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ میں بچوں کے پرتشدد گروہوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، بچوں کے امور کی کمشنر این لانگ فیلڈ نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت برطانیہ میں 27 ہزار بچے ان گروہوں میں شامل ہیں۔ پچھلے تین برس کے دوران جرائم میں ملوث دس سے لے کر پندرہ سال کی عمر تک کے بچوں سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ کسی گروہ میں شامل ہیں تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ ہزاروں کی تعداد میں بچے اسٹریٹ گینگز میں شامل ہیں۔  لندن کی میٹروپولیٹن پولیس اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ بچوں کے ان گروہوں کا آیا جرائم پیشہ گروہوں سے کوئی تعلق ہےاور آیا یہ جرائم پیشہ گروہ بچوں کے گروہوں کو جرائم کے لئے تو استعمال نہیں کرتے؟ اسی کے ساتھ اس بات پر تشویش ظاہر کی جارہی ہے کہ مشرقی لندن میں چاقو زنی کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور ان وارداتوں میں زیادہ تر دس سال سے لے کر سترہ سال کے جوان ملوث پائے گئے ہیں، جن میں اکثریت سیاہ فام گھرانوں کے بچوں کی ہے۔ جہاں تک پورے ملک کا تعلق ہے تو پانچ سال پہلے چاقو زنی کی 14 ہزار وارداتوں میں دس سے سترہ سال کی عمر کے جوان ملوث تھے۔ پچھلے سال چاقو زنی کی وارداتیں اٹھارہ ہزار تک جا پہنچیں۔ پچھلے سال لندن کے ساڑھے تین سو اسکولوں میں طلباء سے چاقو برآمد کئے گئے۔ اب چاقو زنی کا یہ مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کرتا جارہا ہے اور اس کی وجوہ اور عوامل تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔