تازہ شمارہ
Title Image
برطانیہ کے متوقع بادشاہ پرنس چارلس کی زندگی کے سنسنی خیز نشیب و فراز - قسط  :   06

برطانیہ کے متوقع بادشاہ پرنس چارلس کی زندگی کے سنسنی خیز نشیب و فراز - قسط : 06

بعض نشانیوں سے لگتا ہے پرنس میں کوئی مشرقی روح موجود ہے

31؍اگست 1997ء کو علی الصباح چھ بجے بالمورل پیلس میں پرنسیس ڈیانا کی ناگہانی اور المناک موت کی خبر پیرس کے بجائے امریکا سے موصول ہوئی جہاں شاہی خاندان کے شعبہ تعلقات عامہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص پگڈن دورے پر گیا ہوا تھا۔ ان دنوں شاہی خاندان کے زیادہ تر خاص خاص لوگ بالمورل پیلس میں مقیم تھے۔ خبر شاہی محل میں پھیلی تو اُداسی، سوگواری اور تاسف کی ایک ہلکی سی لہر بھی پھیلی لیکن جب پگڈن نے پوچھا ’’ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘ تو شاہی خاندان کے ایک فرد نے جواب دیا ’’کچھ بھی نہیں۔ شاید اب ہماری پریشانیاں ختم ہو جائیں۔‘‘ ایک قابل غور مسئلہ یہ تھا کہ شاہی خاندان کو ایک ایسی شخصیت کی تکفین اور تدفین کے انتظامات کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا جو عالمی سطح پر انتہائی مشہور و مقبول تھی، ایک آئیکون کی حیثیت رکھتی تھی لیکن شاہی خاندان سے اب اس کا کوئی تعلق نہیں رہا تھا تاہم اس کے دونوں بیٹوں میں سے کوئی برطانیہ کا اگلا بادشاہ بھی ہو سکتا تھا۔ (جیسا کہ اب اعلان بھی سامنے آگیا ہے۔ ملکہ الزبتھ نے پرنس چارلس کے بجائے پرنس ولیم کو تخت و تاج کا وارث نامزد کر دیا ہے) اب شاہی خاندان کے سامنے مشکل اور پریشان کن سوالات یہ تھے کہ پرنسیس ڈیانا کی میت پیرس سے لانے، برطانیہ میں ان کی تدفین اور آخری رسوم کے انتظامات سرکاری سطح پر کئے جائیں یا نجی سطح پر؟ قومی پرچم سرنگوں کیا جائے یا نہیں ؟ خدا خدا کر کے یہ سب مسائل طے ہوئے اور پرنسیس ڈیانا کی آخری رسوم انجام پاگئیں۔ ان کے انتقال نے پرنس چارلس کی مقبولیت کو کچھ اور کم کیا لیکن انہوں نے ایک عقلمندی یہ کی … یا پھر شاید یہ سب کچھ ان سے فطری طور پر سرزد ہو رہا تھا کہ وہ پرنسیس ڈیانا کی المناک حادثاتی موت پر بے حد پریشان، دل گرفتہ اور سوگوار نظر آئے۔ انہوں نے پرنسیس ڈیانا کی میت بے حد دُکھ اور افسوس کے ساتھ وصول کی۔ دنیابھر کے میڈیا کے سامنے وہ بے حد اُداس اور غمزدہ نظر آئے۔ پھر انہوں نے ذاتی طور پر متحرک رہتے ہوئے پرنسیس ڈیانا کی شایانِ شان آخری رسوم کے انتظامات کئے جس کی وجہ سے عوام میں ان کا امیج کچھ بہتر ہوا۔ پرنسیس ڈیانا کی موت کے بعد گویا پرنس چارلس کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا جس میں وہ یہ ثابت کرنے کی کوششوں میں لگے رہے کہ پرنسیس ڈیانا اگر احساس تنہائی کا شکار تھیں اور محبت کی تلاش میں وہ دوسرے مردوں کی بانہوں میں پناہ تلاش کرتی تھیں تو اس کے ذمہ دار تن تنہا صرف وہی، یعنی پرنس چارلس ہی نہیں تھے، پرنسیس ڈیانا کی شخصیت میں بھی کچھ نہ کچھ کمی، کچھ نہ کچھ خامیاں تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ عوام میں اپنا امیج کچھ نہ کچھ بہتر بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ عوام میں ان کا امیج بہتر بنانے میں جو چیز سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے، وہ ان کے فلاحی کام ہیں۔ وہ کم از کم بیس فلاحی اداروں کے بانی ہیں اور انہوں نے ہر قسم کے حالات میں انہیں کسی نہ کسی طرح قائم رکھا ہے۔ یہ فلاحی ادارے زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ پرنس نے ان کے لیے دنیابھر میں سیکڑوں ایسے افراد تلاش کر رکھے ہیں جو ان اداروں کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح ان کے لیے مالی وسائل کا انتظام کرتے رہتے ہیں۔ بوقت ضرورت یا انتہائی ناگزیر حالات میں پرنس خود بھی ان اداروں کے لیے رقوم کا بندوبست کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ جاننا شاید حیرت کا باعث ہو کہ وہ طب یونانی اور ہومیوپیتھی پر بھی اعتقاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے برطانوی وزارتِ صحت کے بہت سے بڑے بڑے عہدے داروں کو بھی علاج کے ان دونوں طریقوں کا قائل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ مان کر نہ دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تجربے کرکے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈال سکتے جب کہ پرنس کا کہنا تھا کہ اس میں تجربے کرنے کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں، یہ دونوں طریقہ ہائے علاج تو آزمودہ ہیں اور دنیا کے بہت سے حصوں میں سالہا سال سے ان کے ذریعے انسانوں کا کامیابی سے علاج کیا جا ر ہا ہے۔ پرنس نے خود اپنی مثال پیش کی اور بڑے بڑے نامی گرامی ڈاکٹروں اور سرکاری شعبہ صحت کے اہم افراد کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ وہ بہت سے مسائل کے سلسلے میں ہومیوپیتھک دوائیں استعمال کر چکے ہیں اور انہوں نے انہیں مفید اور مؤثر پایا ہے۔ طب یونانی کو بھی وہ مفید اور مؤثر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ان دونوں طریقہ ہائے علاج کے اسپتال قائم کرانے کی کوشش کی لیکن وزارتِ صحت کے سامنے ان کی ایک نہیں چلی۔ پرنس چارلس عربی بھی پڑھ لیتے ہیں اور کبھی کبھی قرآن پاک کی تلاوت بھی کرتے ہیں۔ بعض نشانیوں سے کچھ ایسا لگتا ہے جیسے پرنس چارلس میں کوئی مشرقی رُوح موجود ہے۔ پرنس چارلس کافی حد تک پُراسراریت میں بھی یقین رکھتے ہیں اور اس کے حق میں دلیلیں بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔ ایک بار انہوں نے اپنے چند قریبی لوگوں کی موجودگی میں کہا ’’کبھی کبھی میں محسوس کرتا ہوں کہ میں کسی میدان جنگ میں ہوں۔ گولیاں میرے دائیں بائیں سے گزر رہی ہیں۔ میں اپنا سر کچھ اور اونچا کر کے چلتا ہوں۔ میں بالکل خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ گولیوں کے سامنے آنے کی کوشش کرتا ہوں مگر گولیاں مجھ سے کترا کر گزر جاتی ہیں۔ میں سمجھ نہیں پاتا کہ یہ سب کیا سلسلہ ہے۔‘‘ وہ قدرت کے نظام میں دخل اندازی کے بھی خلاف ہیں۔ ان کا بس چلتا تو وہ کلوننگ کے سلسلے میں تجربات بھی نہ ہونے دیتے۔ ان کے اپنے ملک میں بعض زرعی ماہرین اور سائنس دان ٹماٹروں پر ایسے تجربات کر رہے تھے جن کے ذریعے ان کی زندگی طویل کی جا سکتی تھی، یعنی وہ زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکتے تھے۔ پرنس چارلس نے ان سائنس دانوں کو اس کام سے روکنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ خدا نے جس چیز کی، جس جاندار کی جتنی زندگی لکھ دی ہو، ہمیں اس میں دخل اندازی کرکے اسے گھٹانے، بڑھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ کمیلا پارکر کو اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد نان نفقے کے طور پر صرف20ہزار پائونڈز سالانہ مل رہے تھے جن میں ظاہر ہے، شاہانہ انداز میں گزر بسر تو نہیں ہوسکتی تھی۔ یہ بھی غنیمت تھا کہ ولٹ شائر والا گھر ان کے پاس تھا۔ اگر پرنس چارلس اپنے ایک آدمی کے ذریعے انہیں مدد فراہم نہ کرتے رہتے تو ان کی زندگی اچھی خاصی ناخوشگوار ہوتی۔ ان کا کھانا ایک محل سے آتا تھا۔ ایک سابق پولیس افسر کو پرنس کی ہدایت پر کمیلا کے لیے ڈرائیور کے فرائض انجام دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ پرنس کے دو پرائیویٹ سیکرٹری کمیلا سے رابطے میں رہتے تھے اور اس بات کی خبر رکھتے تھے کہ انہیں کوئی مسئلہ تو درپیش نہیں؟ خود پرنس چارلس کی خواہش اب یہی تھی کہ انہیں رازدارانہ انداز میں کمیلا پارکر سے ملنے کی ضرورت نہ رہے۔ کمیلا بھی چاہتی تھیں کہ وہ تقریبات وغیرہ میں پرنس کے ساتھ نظر آئیں۔ صرف یہی نہیں، وہ تو عوامی اجتماعات میں بھی پرنس کے ساتھ نظر آنا چاہتی تھیں اور ان کے دونوں صاحبزادوں پرنس ولیم اور پرنس ہیری کے ساتھ بھی میل جول رکھنا چاہتی تھیں اور عوام تک یہ تاثر پہنچانا چاہتی تھیں کہ وہ ان بچوں کے ساتھ ان کی اپنی ماں کی طرح ہی پیش آتی ہیں، ان سے محبت کرتی ہیں اور بچے بھی ان سے پیار کرتے ہیں۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے آپ کو پرنس چارلس کی دوسری، مگر بہت اچھی بیوی کے طور پر عوام کی نظر میں قابل قبول بنائیں۔ مشکل یہ تھی کہ شاہی محل میں ان کی سب سے بڑی مخالف ملکہ اور مادر ملکہ تھیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ان دونوں کی جانب سے کمیلا کو ان کے کمروں میں آنے کی اجازت نہیں تھی لیکن ملکہ الزبتھ اور مادر ملکہ، کمیلا کے سابق شوہر سے میل ملاقات رکھتی تھیں اور اسے شاہی محل کی تقریبات میں بھی مدعو کرتی رہتی تھیں۔ صرف یہی نہیں، ان دونوں نے اینڈریو پارکر بولز کے ساتھ مزید محبت جتانے کے لیے اس کے بارے میں سفارش کی کہ اسے کرنل سے بریگیڈیئر بنا دیا جائے۔ کمیلا پارکر کا سابق شوہر اینڈریو پارکر بولز فوج کے میڈیکل کے شعبے میں تھا لیکن وہ جانوروں کا ڈاکٹر تھا۔ ملکہ اور مادر ملکہ کی سفارش پر جب اسے کرنل سے بریگیڈیئر بنا دیا گیا تو وہ فوج میں موجود تمام جانوروں کے شعبے کا سربراہ ہوگیا۔ اس پر، پہلے سے موجود سربراہ نے، جو ظاہر ہے، اینڈریو پارکر بولز سے زیادہ سینئر تھا، برا منایا اور اس نے استعفیٰ دے دیا۔ ملکہ اور مادر ملکہ کی ہمدردیاں پرنسیس ڈیانا کی زندگی میں تو ان کے ساتھ زیادہ نہیں تھیں لیکن پرنسیس ڈیانا کی المناک موت کے بعد ان دونوں کے دلوں میں پرنسیس ڈیانا کے لیے زیادہ ہمدردی کے جذبات پیدا ہو گئے تھے جس کی وجہ پرنس چارلس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ ان کی سمجھ میں یہ بھی نہیں آتا تھا کہ ملکہ اور مادر ملکہ، کمیلا پارکر کو ناپسند کیوں کرتی تھیں؟ پرنس چارلس کے خیال میں تو پرنسیس ڈیانا نے شاہی خاندان کے امیج اور عزت و وقار کو زیادہ نقصان پہنچایا تھا۔ پرنسیس ڈیانا نے تو جو کچھ بھی کیا تھا، علی الاعلان کیا تھا، ڈنکے کی چوٹ پر کیا تھا، جبکہ کمیلا پارکر کے ساتھ پرنس کے تعلقات حتی الامکان رازدارانہ رہے تھے۔ پرنس چارلس نے کمیلا کے بارے میں ملکہ کا دل صاف کرنے کے لیے ارل کارنارون کو بیچ میں ڈالا۔ یہ صاحب ملکہ کے، ریس کے گھوڑوں کے ٹرینر تھے اور کسی حد تک ملکہ کے دوست بھی تھے۔ کمیلا کے بارے میں ان کی سفارشیں بھی کسی کام نہ آئیں۔ وہ ملکہ کے دل میں کمیلا کے لیے کوئی جگہ نہ بنا سکے۔ آخر تھک ہار کر وہ خود بھی ملکہ ہی کی طرف ہو گئے اور انہی کے ہم خیال ہو گئے۔ (جاری ہے)