تازہ شمارہ
Title Image
فضائی سفر کے راز  قسط  :  04

فضائی سفر کے راز قسط : 04

کیا ائیر ہوسٹس کے لئے حسین و جمیل ہونا ضروری ہے؟

جس دور میں کمرشیل پروازوں کا آغاز ہوا تھا اور فضائی کمپنیاں نئی نئی قائم ہوئی تھیں، اس وقت تو یقیناً فضائی میزبانوں کے انتخاب کا بہت کڑا معیار ہوا کرتا تھا اور سب سے زیادہ ترجیح ان دوشیزائوں کو دی جاتی تھی جو رشک قمر ہوتی تھیں یعنی جن میں حُسن و جمال کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا تھا بلکہ مسافروں کیلئے وہ انتہائی پُرکشش ہوتی تھیں۔  بطور ایئر ہوسٹس ان کی عمر، وزن، قد اور نین نقش کی بڑی ناقدانہ جانچ پڑتال کی جاتی تھی لیکن اب فضائی عملے کیلئے ان فرسودہ اور غیر متعلقہ معیار کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ اگرچہ فضائی کمپنیاں اب بھی فلائٹ اٹینڈنٹس کی ظاہری شکل و صورت کو قابل قدر سمجھتی ہیں اور ان کا جاذب نظر ہونا پسندیدہ ہوتا ہے لیکن ان کے انتخاب کا صرف یہی ایک معیار نہیں بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ پیشہ ورانہ طور پر وہ اپنے فرائض انجام دینے کی کتنی اہل ہیں۔ اب صرف ’’بیوٹی‘‘ ہی معیار نہیں رہا ہے۔  البتہ فضائی میزبانوں کے انتخاب میں شروع سے اب تک ایک چیز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ چیز ہے ان کا ایک مخصوص حد تک دراز قامت ہونا۔ اس مطالبے کے پیچھے بھی کوئی اور مقصد کارفرما نہیں ہوتا بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ایئر ہوسٹس کے ہاتھ باآسانی مسافروں کے سروں کے اُوپر بنے ہوئے کمپارٹمنٹس تک پہنچ سکیں۔  کیاسستی پروازیں کم محفوظ ہوتی ہیں؟

ایئر لائنز میں مسابقت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور جب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، فضائی کمپنیوں نے کرائے بھی بڑھا دیئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پوری دُنیا میں ان کے مقابلے میں کم کرائے والی فضائی کمپنیاں اپنی جگہ بنا رہی ہیں اور متوسط طبقہ انہیں فضائی سفر کیلئے منتخب کرنے لگا ہے کیونکہ وہ انہیں کافی سستی لگتی ہیں۔ تاہم بہت سے لوگ اس بارے میں تشویش میں مبتلا ہوتے ہیں کہ بجٹ ایئر لائنز کا انتخاب ایمرجنسی کی صورت میں ان کی سلامتی کیلئے خطرہ تو نہیں بنے گا؟ تو اس حوالے سے انہیں مطمئن رہنا چاہئے کہ کم تر کرائے وصول کرنے والی بجٹ ایئر لائنز اگرچہ اور بہت ساری چیزوں سے متعلق اپنے اخراجات کم کر کے مسافروں کو کم کرائے میں سفری سہولتیں فراہم کرتی ہیں لیکن وہ سیفٹی اور سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ ہو سکتا ہے کہ بجٹ ایئر لائنز مسافروں کو دوران پرواز مفت کھانے پیش نہ کریں اور انہیں اس کے لئے الگ سے ادائیگی کرنی پڑے یا سوائے ہینڈ کیری کے اور کوئی اضافی سامان لے جانے کی اجازت نہ ہو یا ان کے طیاروں میں نشستوں کی تعداد بڑھانے کیلئے سیٹوں کے درمیان جگہ تنگ ہو لیکن سیفٹی غیر مشتبہ ہوتی ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ کم کرائے والی فضائی کمپنیاں چونکہ گزشتہ چند سالوں سے مقابلے پر آئی ہیں اس لئے ان کے طیارے بھی زیادہ نئے ہیں اور وہ روایتی فضائی کمپنیوں کے پرانے طیاروں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بھی ہو سکتی ہیں۔  مردہ بھی آپ کا ہمسفر ہوسکتا ہے!

فضائی سفر کے دوران بہت سارے واقعات مسافروں کے ساتھ پیش آ سکتے ہیں۔ ان کی طبیعت بگڑ سکتی ہے اور حالت زیادہ خراب ہو جائے تو وہ انتقال بھی کر سکتے ہیں تاہم اگر کسی مسافر کا دوران پرواز انتقال ہو جائے تو اس کا عملے کی جانب سے اعلان نہیں کیا جاتا۔ البتہ جب طیارہ منزل پر اُتر جاتا ہے تو مسافروں کو اس کا علم ہوتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر اس بیمار مسافر کا طبّی طور پر ہنگامی علاج کی تمام تر کوششوں کے باوجود انتقال ہو جائے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اکثر فلائٹ اٹینڈنٹس متوفی مسافر کو اس کی نشست پر ہی رہنے دیتے ہیں لیکن چہرے اور اس کے جسم کو کمبل سے ڈھانپ دیا جاتا ہے تاکہ کوئی اسے دیکھ نہ سکے۔ ظاہر ہے کہ متوفی مسافر کی عزت و احترام برقرار رکھنا ان کیلئے ضروری ہوتا ہے لیکن تمام فضائی کمپنیاں ایسا نہیں کرتی ہیں۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن جو دُنیا کی بیشتر فضائی کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے، یہ مشورہ دیتی ہے کہ فضائی عملہ متوفی مسافر کو کسی ایسی سیٹ پر منتقل کرے جس کے آس پاس مسافر کم ہوں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو فلائٹ کریو متوفی کو باورچی خانے کے قریب خالی جگہ میں رکھے یا فرسٹ کلاس میں منتقل کر دے۔ اگر اس طیارے میں ’’Corpse cupboard ‘‘ موجود ہو تو فضائی عملہ انتقال کر جانے والے مسافر کو اس کمپارٹمنٹ میں رکھ سکتا ہے۔ اور اگر کوئی بھی نشست دستیاب نہ ہو تو متوفی مسافر کو اس کی نشست پر ہی چھوڑا جا سکتا ہے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ تجارتی فضائی کمپنیاں مسافروں کے ساتھ صرف ان کا سامان ہی کارگو ہولڈ میں نہیں لے جاتی ہیں۔ ان طیاروں میں ڈاک، پیکج، یہاں تک کہ انسانی باقیات (Human Remains) کی بھی نقل و حمل ہوتی ہے جنہیں ریڈیائی پیغامات میں صرف ’’HR‘‘ کے خفیہ نام سے پکارا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ بیرون ملک انتقال کر جاتے ہیں ان کے لواحقین اپنے پیاروں کا آخری دیدار اور انہیں وطن کی مٹی نصیب کرنا چاہتے ہیں اور فضائی کمپنیاں ان کی خواہش پوری کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں تاہم مسافروں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر کبھی ایسا ہوتا ہے تو میّت کو ان کے سامان کے ساتھ نہیں بلکہ ایک الگ کمپارٹمنٹ میں رکھا جاتا ہے۔  ’’گلیکسی نوٹ 7‘‘ اسمارٹ فون کے ساتھ طیارہ پرواز نہیں کرے گا

حالیہ چند برسوں کے دوران دھماکے سے پھٹ جانے والی بعض اشیاء کے ساتھ مسافروں کے پرواز کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس میں سے ایک الیکٹرانک سگریٹ (E-Cigarette) ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں ڈیلٹا ایئر لائنز کی ایک پرواز کی ہارٹس فیلڈ جیکسن، اٹلانٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روانگی میں اس وجہ سے تاخیر ہوگئی کہ ایک مسافر کی جیب میں رکھا ای۔سگریٹ اَزخود جل اُٹھا۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ ای۔سگریٹ میں استعمال ہونے والی لیتھیم ایون بیٹریز کو اگر کوئی نقصان پہنچے تو برقی سگریٹ اَزخود جل سکتے ہیں۔ گو کہ بیٹری سے چلنے والے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جانے والے سگریٹ نوشی کے آلات کے ساتھ طیارے میں سفر کی اجازت اس شرط کے ساتھ دی جاسکتی ہے کہ دوران پرواز انہیں چیک یا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اگر آپ فضائی مسافر ہیں اور آپ کے پاس گلیکسی نوٹ 7 اسمارٹ فون ہے تو پھر آپ کو طیارے میں سوار ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے اسمارٹ فون آلات امریکا لانے، وہاں سے لے جانے اور ملک کے اندر استعمال کرنے پر امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے مکمل پابندی عائد ہے۔ دُنیا کی مختلف فضائی کمپنیوں نے سام سنگ کمپنی کے تیار کردہ گلیکسی نوٹ 7 فونز کے ساتھ سفر کرنے پر ان اطلاعات کے بعد پابندی عائد کی ہے کہ ان میں اچانک آگ لگ جاتی ہے۔ یو ایس کنزیومر پروڈکٹ سیفٹی کمیشن کے مطابق 2016ء میں نوٹ 7کی بیٹریوں کے بہت زیادہ گرم ہو جانے کی 96 رپورٹیں درج کی گئی تھیں۔ خود سام سنگ کمپنی کو فون جلنے کی 13 اور فون کی وجہ سے آتشزدگی کی 47 رپورٹیں موصول ہو چکی تھیں۔ امریکا کے ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ نے مسافروں کو دوران پرواز اپنے ساتھ یا چیک شدہ بیگیج میں اس قسم کے آلات رکھنے سے مکمل طور پر روک دیا ہے۔ بھارت کی ’’وستارا‘‘، ملائیشیا کی ایئر ایشیا، آسٹریلیا کی کنٹاس، جیٹ اسٹار، ورجن آسٹریلیا، اور ٹائیگر، جاپان کی تمام فضائی کمپنیوں، جرمنی کی ایئر برلن اور لفتھنسا، سنگاپور ایئرلائنز اور اٹلی کی الاطالیہ نے بھی سام سنگ گلیکسی نوٹ 7 کے ساتھ پرواز کرنے سے انکار کر دیا ہے۔  ایمرجنسی سائیڈ کھولنے کی غلطی نہ کریں

بعض اوقات حادثات سے بچائو یا ہنگامی صورتحال میں طیاروں کو اچانک اُتارنا پڑتا ہے اور اس وقت طیارے سے مسافروں کے تیز رفتار انخلاء کیلئے ایمرجنسی سلائیڈ استعمال کی جاتی ہے جو غبارے کی طرح پلاسٹک سے بنی اور ہوا سے بھری ہوتی ہیں۔ ان سلائیڈز پر مسافروں کو جوتوں کے بغیر تیزی سے پھسل کر طیارے سے باہر نکلنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ تقریباً تمام مسافر طیاروں میں ایمرجنسی دروازے کے ساتھ یہ سلائیڈز پیک ہوتی ہیں اور فضائی عملہ ہنگامی حالات میں ایمرجنسی ڈور کھول کر یہ سلائیڈ، جس میں خودکار طور پر ہوا بھر جاتی ہے باہر پھیلا دیتے ہیں تاہم مسافروں کو اپنے طور پر کبھی یہ ایمرجنسی سلائیڈ کھولنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ورنہ ان پر بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔ 2014ء میں چائنا ایسٹرن ایئر لائنز کی ایک پرواز میں سوار ایک مسافر نے سانیا فونیکس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے کی لینڈنگ کے بعد یہ کہتے ہوئے ایمرجنسی سلائیڈ کا لیور گھما دیا تھا کہ وہ دوسرے مسافروں سے پہلے طیارے سے اُترنا چاہتا ہے۔ تاہم اس کی اس حرکت کی وجہ سے طیارے کو اگلی منزل کی طرف روانہ ہونے میں دو گھنٹے کی تاخیر ہوئی، مزید برآں فضائی کمپنی کو 16 ہزار ڈالر ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑا۔ گزشتہ سال اپریل میں یونائیٹڈ ایئر لائنز کے ایک فلائٹ اٹینڈنٹ سے بھی اس قسم کی غلطی ہوئی اور فضائی کمپنی کو 6 ہزار سے 12 ہزار ڈالر کے درمیان صرف اس وجہ سے ادائیگی کرنی پڑی کہ سلائیڈ کو محفوظ طریقے سے دوبارہ اس کے کنٹینر میں پیک کیا جا سکے۔ مسافروں سے ایسی غلطی کی صورت میں ایئر لائنز چاہے تو یہ جرمانہ ان سے وصول کر سکتی ہے اس لئے محتاط رہیں۔  طیارے میں کبھی پانی طلب نہ کریں

فضائی سفر کے دوران مسافر جب رفع حاجت کیلئے ٹوائلٹ کا رُخ کرتے ہیں تو وہاں انہیں یہ نوٹس پڑھنے کو ملتا ہے ’’برائے مہربانی نلکے کا پانی نہ پئیں۔‘‘ یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ طیارے میں بیت الخلا اور ہاتھ منہ دھونے کے لئے پانی کی ٹنکیوں کو بھرا رکھنا تو بہت ضروری ہے لیکن انہیں اتنا صاف رکھنا کہ اس میں محفوظ پانی پینے کے بھی قابل ہو، ایک بالکل الگ چیز ہے۔ لیکن کیا فلائٹ اسٹیوارڈز چائے یا کافی کیلئے آپ کو جو گرم پانی فراہم کرتے ہیں یا اسی نلکے کے پانی کو چائے یا کافی کی تیاری کیلئے استعمال کرتے ہیں، وہ ٹھیک ہوتا ہے؟ یقیناً سادہ پانی کے علاوہ آپ کو ان سے بھی گریز کرنا چاہئے۔ بہت سی فضائی کمپنیاں اگرچہ یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ پینے کا پانی جن ٹنکیوں میں محفوظ ہوتا ہے انہیں صاف کیا جاتا ہے لیکن اکثر و بیشتر وہ صاف نہیں ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی فضائی میزبانیں دوران پرواز سادہ پانی، گرم پانی، اس گرم پانی سے تیار سادی کافی یا چائے نہیں پیتیں۔ امریکا کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے EPA کی تحقیق کے مطابق ہر آٹھ مسافر طیاروں میں سے ایک طیارے میں معیار کے مطابق مسافروں کو صاف پانی فراہم نہیں کیا جا رہا تھا اور 15 فیصد طیاروں کے پانی کی فراہمی کے نظام میں انتہائی خطرناک قسم کے جراثیم موجود تھے۔