تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
کتب خانوں سے متعلق دلچسپ معلومات

کتب خانوں سے متعلق دلچسپ معلومات

عام تاثر یہ ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں لائبریریز کی اہمیت کم ہوگئی۔ کم سے کم پاکستان میں لائبریری جانے کا تصور بہت ہی کم ہوچکا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں لائبریریوں کی اہمیت آج بھی اتنی ہی زیادہ ہے جتنی لائبریریوں کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بنایا گیا تھا۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں جدید ترین اور قدیم ترین لائبریریاں موجود ہیں۔ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں کچھ لوگوں کے خیال میں شاید یہ کتب خانے فرسودہ ہوچکے ہوں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کی دریافت کے آغاز سے ہی یہ انسانی دلچسپی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اگر ان کتب خانوں میں کوئی قدم رکھتا ہے تو اسے ایسے ایسے نایاب نگینے ملتے ہیں کہ انہیں پڑھے بغیر رہا نہیں جاتا۔ یہ کتابیں نہ صرف علم فراہم کرتی ہیں بلکہ یہ جسم اور روح کے لیے ایک پناہ گاہ ثابت ہوتی ہیں اور آرام و سکون کا باعث بنتی ہیں۔ ان کتب خانوں میں لامحدود کتابوں کے مطالعے کے علاوہ تجربے کی بنیاد پر مشورے بھی ملتے ہیں۔ جی ہاں! یہ سچ ہے کہ کتب خانے ہمارے لیے بہت کچھ کرتے ہیں، مگر ہم ان کتب خانوں سے متعلق زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔ کتب خانوں کے حوالے سے چند دلچسپ حقائق قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں: ڈیوئی ڈیسیمل سسٹم(Dewey Decimal Classification) کا نظام استعمال، دنیا کے 135 ممالک میں دو لاکھ سے زائد کتب خانوں میں درجہ بندی کے لیے کیا جاتا ہے۔ کتب خانوں کے کچھ ابتدائی شواہد، ثومر سے دریافت ہوئے جو میسوپوٹیمیا کا تاریخی علاقہ ہے۔ میسوپوٹیمیا موجودہ عراق اور کویت کا علاقہ ہے۔ سومر میں مٹی سے تیارکردہ منظم انداز میں رکھی گئی ایسی تختیاں دریافت ہوئیں جن پر لکھنے کی سب سے قدیم شکل موجود تھی۔ ان پر کاروباری اور تجارتی لین دین کا ریکارڈ رکھا گیا تھا۔ تاہم ماہرین آثارِقدیمہ کو میگزین رکھنے والے ریکس، سکے سے چلنے والی فوٹو کاپیئر مشینوں یا کسی قسم کی مائیکرو فلم کے کوئی شواہد نہیں مل پائے۔ کتب خانوں سے سب سے زیادہ چوری ہونے والی کتاب گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈز ہے جسے لوگ شاید اس نیت سے چوری کرتے ہیں کہ یہ جان سکیں کہ وہ کون سی کتاب ہے جو سب سے زیادہ چوری کی جاتی ہے۔ جن دوردراز علاقوں میں کتب خانے تک رسائی ممکن نہیں ہوتی وہاں جانوروں کو عارضی کتب خانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور گھوڑوں، اونٹوں اور گدھوں کی پیٹھ پر کتابیں لاد کر لوگوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عام طور پر ان جانوروں کا کتب خانے میں داخلہ ممنوع ہے۔ آپ یہ سن کر بہت حیران ہوں گے کہ کتب خانے صرف کتابیں ہی نہیں جاری کرتے۔ دنیا بھر کے کتب خانے کھلونے، بیج، اوزار، موسیقی، صوتی کتابیں، آرٹ اور یہاں تک کہ انسانوں کی صورت میں ’زندہ کتابیں‘ بھی مہیا کرتے ہیں، جن میں لوگ اپنی زندگی کی کہانیاں اپنی زبانی سناتے ہیں۔ دنیا کا سب سے زیادہ اونچائی پر پایا جانے والا کتب خانہ چین کے شہر شنگھائی کے جے ڈبلیو میریٹ ہوٹل کی 60 ویں منزل پر ہے۔ 1789ء میں صدر جارج واشنگٹن نے نیویارک سوسائٹی کے کتب خانے سے ’’دی لا آف نیشنز‘‘ کتاب لی اور اگلے 221 برسوں تک یہ کتاب ان کے خاندان کے پاس ہی رہی۔ بالآخر 2010ء میں یہ کتاب، کتب خانے کو لوٹا دی گئی۔ تاریخ کے سب سے پہلے لائبریرین، نویں صدی میں روم کے گرجا گھر کے دستاویزات کے چیف محافظ اینیاسٹیشیاس (c. 810 - c. 878) تھے، جو ایک راہب بھی تھے۔ انہوں نے ببلیوتھیکاریس کا لقب پایا جس کے لفظی معنی لائبریرین ہی ہیں۔ دنیا کے مشہور ترین لائبریرینز میں جیکب گرِم، ماؤ زیڈانگ، گولڈا میئر، فیلپ لارکن، مارسل پروسٹ، ہورہے لوئس بورجیز، گوئتھا اور لوئس کیرل کا شمار ہوتا ہے۔ یہ تمام لوگ نہ صرف لکھ کر لطف اٹھاتے تھے بلکہ کتابوں کو اپنے اردگرد پا کر بےحد خوش ہوتے تھے اور شاید رومن مقرر اور فلسفی سیسیرو سے متاثر بھی تھے جنہوں نے ایک بار کہا ’کتابوں سے خالی کمرے کی مراد ایسی ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔‘ مصر کی عظیم لائبریری الیگزینڈریا میں ملنے والے حقائق کچھ زیادہ ہی دلچسپ تھے، جس نے قدیم زمانوں کا تمام علم ایک مقام پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاریخی کتب خانوں میں قدیم یونان کے پطلیموسی (Ptolemaic) دور کی ’’لائبریری آف الیگزینڈریا‘‘ (اسکندریہ کا کتب خانہ) اُس وقت کی سب سے اہم اور بڑی لائبریری قرار دی جاتی ہے۔ سکندر اعظم کے جانشین جنرل پطلیموس آئی سوتر (Ptolemy I Soter) نے تیسری صدی قبل مسیح میں اسکندریہ کے کتب خانے کو تعمیر کروایا تھا جس میں دنیائے علم کے مجدد سائنس دانوں، فلسفیوں اور مفکروں نے اپنا حصہ ڈالا۔ 30قبل مسیح میں سلطنت روم کے شہنشاہ نے مصر پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ مختلف ادوار میں ’’اسکندریہ کا کتب خانہ‘‘ کئی بار جلایا گیا جس کے نتیجے میں کئی علمی و تحقیقی کتابیں ضائع ہوگئیں۔ تاریخ دانوں کے مطابق 48قبل مسیح میں اُس وقت روم کے حکمران جولیس سیزر کی فوج نے اسکندریہ کی لائبریری کو نذر آتش کردیا تھا جبکہ 270 عیسوی میں رومن حکمران اوریلین (Aurelian) کی فوج نے بھی اسکندریہ کا کتب خانہ جلایا اور یوں لاکھوں کتابیں جل کر خاکستر ہوگئیں۔  کئی صدیوں تک کتب خانوں میں لپٹے ہوئے کاغذوں پر معلومات درج ہوا کرتی تھیں جنہیں عالم، کتابوں کی ایجاد سے قبل کہیں کھڑے ہو کر پڑھا کرتے تھے۔ کتابوں کی ایجاد کے بعد مطالعے کے شوقین حضرات اور لائبریریوں کے عملے کے لیے بہت سی چیزیں بےنقاب ہوئیں۔ صرف چند لمحوں کے لیے ان قطاروں کا اندازہ لگائیں جو کتب خانوں میں پہلے پہلے لائبریری کارڈ بنوانے والوں کی درخواستوں کا جائزہ لیتی تھیں۔ جیورجین دور میں برطانوی لائبریرینز نے ان ناولوں کے خلاف آواز بلند کی جنہیں وہ فحش اور اخلاقی طور پر عام پڑھنے والوں کے لیے مناسب نہیں سمجھتے تھے لہٰذا ان کے مطابق اس کا سب سے پہلا حل یہ تھا کہ شیلف میں انہیں رکھنے پر پابندی لگوانے کی کوشش کی جائے۔ ’’لائبریری آف کانگریس‘‘ (کانگریس کا کتب خانہ) درحقیقت دنیا کا سب سے بڑا اور امریکا کا قومی کتب خانہ ہے جو تین عمارتوں پر مشتمل ہے جس میں مجموعی طور پر 16کروڑ 7لاکھ 75ہزار 469 اشیاء محفوظ ہیں جن میں کتابیں اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ معلومات کے اس خزانے کی دیکھ بھال کے لیے 3ہزار 224 اہلکاروں پر موجود اسٹاف متعین ہے۔ ’’برٹش لائبریری‘‘، برطانوی کتب خانہ دنیا کا دوسرا بڑا کتب خانہ ہے جسے برطانیہ کے قومی کتب خانے کا درجہ بھی حاصل ہے۔ لندن میں واقع اس لائبریری کا قیام 1973ء میں عمل میں آیا۔ اس سے قبل یہ کتب خانہ ’’برٹش میوزیم‘‘ کا حصہ تھا۔ مجموعی طور پر اس کتب خانے میں 15کروڑ اشیاء بمعہ ریکارڈ موجود ہیں جن میں 1کروڑ 39لاکھ 50ہزار کتابیں، 3لاکھ 51ہزار 116قلمی نسخے، 43لاکھ 47ہزار 505نقشے، 16لاکھ 7ہزار 885 موسیقی کے ریکارڈز اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ لائبریری میں 2000قبل مسیح دور کے بھی مسودے محفوظ ہیں۔