تازہ شمارہ
Title Image
کچھ اسکواڈرن لیڈر حسن صدیقی کے بارے میں

کچھ اسکواڈرن لیڈر حسن صدیقی کے بارے میں

27 فروری کو ملک گیر شہرت پانے والے اور پوری قوم سے خراج تحسین حاصل کرنے والے وطن عزیز کے بہادر سپوت اور جاں باز اسکواڈرن لیڈر حسن صدیقی کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں، لوگ ان کے حوالے سے چہرہ شناسائی کا اظہار کرتے ہیں لیکن یاد نہیں کرپاتے کہ ان کو کہاں دیکھا تھا۔ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارت کے لڑاکا طیارے کو انتہائی جرأتمندی سے نشانہ بنا کر اپنی سرزمین پر تباہ کر دینے والے جاں باز حسن صدیقی پوری قوم کے ہیرو بن چکے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے لے کر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا تک حسن صدیقی کا تذکرہ عروج پر ہے۔ جن لوگوں نے پاک فضائیہ کی جانب سے بنائےگئے ایک ملی نغمے کو جو 2016ء میں یوم دفاع کے موقع پر ریلیز کیا گیا تھا، دیکھا ہوگا تو انہیں یاد آئے گا کہ اس نغمے میں پاک فضائیہ کے پائلٹ کی یونیفارم میں حسن صدیقی بھی شامل تھے۔ پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے خصوصی طور پر بنائے جانے والے اس خوبصورت نغمے میں ایک جانباز پائلٹ کو دکھایا گیا تھا جو اپنی سرزمین کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے دشمن ملک کے طیارے پر اپنے ساتھیوں سمیت حملہ کرتے ہیں اور گرا کر تباہ کر دیتے ہیں۔ یہ کردار اس نغمے میں حسن صدیقی نے ہی ادا کیا تھا اور اب 27 فروری 2019ء کو اس فرضی کردار میں حقیقت کا رنگ بھر کر پاک فضائیہ اور قوم کو سرخرو کر دیا۔ قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنی تقریر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بجا طور پر کہا تھا کہ حسن صدیقی کے کارنامے کو دیکھ کر 1965ء کے ہیرو ایم ایم عالم کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔ پاک فضائیہ کے بہادر سپوت اور قومی ہیرو اسکوارڈن لیڈر حسن صدیقی کا تعلق کراچی سے ہے، وہ نارتھ کراچی میں عثمان پبلک اسکول کے طالب علم رہ چکے ہیں۔ جہاں سے 1999ءمیں انہوں نے میٹرک کیا تھا۔ اُنہیں بچپن سے ہی پائلٹ بننے کا شوق تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں بھی پاک فضائیہ کے اسکوارڈن لیڈر حسن صدیقی کے تذکرے ہورہے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں اُن کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے مضمون نگار نے لکھا ہے کہ نوجوان پاکستانی پائلٹ نے صرف 90 سیکنڈ میں ہندوستان کا مگ طیارہ مار گرایا تھا۔