تازہ شمارہ
Title Image
فہمیدہ مرزا کا ایوان میں بدلہ بدلہ رویہ

فہمیدہ مرزا کا ایوان میں بدلہ بدلہ رویہ

ڈاکٹر، زرعی ماہر اور ایک کامیاب بزنس ویمن اور سیاستدان فہمیدہ مرزا یوں تو سندھ کے ایک ممتاز سیاسی خانوادے ’’قاضی خاندان‘‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو سے اس خاندان اور بالخصوص فہمیدہ مرزا کا تعلق انتہائی قریبی تھا، جس طرح ان کے شوہر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا ماضی میں آصف علی زرداری سے تھا لیکن یہ قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ فہمیدہ مرزا کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ وہ 1997ءسے 2018ءتک مسلسل پانچ مرتبہ اپنے آبائی حلقے بدین کی نشست سے کامیاب ہو کر قومی اسمبلی میں آتی رہی ہیں اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر نہیں بلکہ عام نشست پر الیکشن جیت کر۔ ایک حوالے سے ان کا نام ہمیشہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست کی تاریخ میں درج رہے گا اور وہ قومی اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر ہونے کا ہے۔ 19مارچ 2008ء کو اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے انہیں اس منصب پر نامزد کیا تھا اور وہ ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد کے ووٹوں سے اسپیکر منتخب ہوئی تھیں۔ قومی اسمبلی کے ایوان میں وہ اس تمام عرصے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کی وکیل رہیں لیکن اس مرتبہ ایوان میں ان کا کردار اور رویہ کچھ بدلا ہوا ہے۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں وفاقی وزیر ہیں اور انہیں اپنے ماضی کے نظریاتی ساتھیوں جن میں پیپلزپارٹی سندھ کے رہنما بھی شامل ہیں، کی ایوان میں مخالفت کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ ان کے شوہر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور آصف علی زرداری کے درمیان پکی دوستی کے بعد اب بدترین مخالفت ہے لیکن اس کے باوجود فہمیدہ مرزا ایوان میں اپوزیشن بینچوں پر پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کے ساتھ ہی بیٹھتی تھیں، یہ الگ بات کہ ان کے سیاسی اور نظریاتی ساتھیوں نے بھی سیاسی طور پر انہیں قبول نہیں کیا تھا اور نہ تو انہیں ایوان میں ہونے والی کارروائی میں ساتھ لے کر چلا جاتا تھا اور نہ ہی کسی مشاورت میں شریک کیا جاتا تھا، اس طرزِعمل کو ایوان میں نمایاں طور پر محسوس کیا جاتا تھا۔ بہرحال گزشتہ اجلاس میں فریال تالپور کے شوہر اور آصف علی زرداری کے بہنوئی میر منور علی تالپور نے ایوان میں فہمیدہ مرزا کے بارے میں ریمارکس دیئے تو ڈاکٹر فہمیدہ مرزا بھڑک اٹھیں، صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا، وضعداری کا بندھن بھی ٹوٹ گیا اور انہوں نے نہ صرف منور تالپور بلکہ فریال تالپور اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنمائوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ان کے خوب لتے لئے۔ وہ فہمیدہ مرزا جو ماضی میں اسپیکر کی حیثیت سے ایوان میں ڈیکورم قائم رکھنے کی ذمہ دار ہوا کرتی تھیں اور ارکان کی براہ راست گفتگو اور ذاتی ریمارکس دینے کو غیرپارلیمانی طرزعمل قرار دیتی تھیں، انہوں نے پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کو متنبہ کیا کہ اگر ان کی کردار کشی کی کوشش کی گئی، ان پر جھوٹے الزامات عائد کئے گئے تو پھر یہاں وہ لوگ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ وہ حقائق پر مبنی شواہد کے ساتھ اس ایوان میں انہیں بے نقاب کریں گی، ان کا کچا چٹھا کھولیں گی اور بتائیں گی کہ انہوں نے کس طرح بینکوں کو لوٹا۔ فہمیدہ مرزا انتہائی جذباتی انداز اور بلند آواز میں اپنے ماضی کے ساتھیوں کو للکار رہی تھیں اور ایوان میں اُن کے اس جارحانہ انداز کو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے اسپیکر اسد قیصر کی مسلسل درخواست کو بھی نظرانداز کردیا اور فریال تالپور پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں عملی طور پر وزیراعلیٰ بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ کچھ عرصے میں سندھ حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کئے جانے والے اقدامات کا تذکرہ بھی کیا۔