تازہ شمارہ
Title Image
سبز آنکھوں والی پاکستان کی خالہ

سبز آنکھوں والی پاکستان کی خالہ

مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور معصوم کشمیریوں کی آہ وبکا میں خواتین کی سب سے توانا اور مؤثر آواز شاید آج بھی محبوبہ مفتی ہیں، بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے اہم ایوانوں میں اُنہیں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ 60سالہ محبوبہ مفتی کی ساری زندگی اپنے مقصد سے عبارت ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اُن کی ازدواجی زندگی بری طرح ناکام ہوئی، اُن کی دو بیٹیاں التجا اقبال اور ارتقا اقبال ہیں۔ بڑی بیٹی ڈپلومیٹ ہیں اور ایک سفارتخانے میں ذمہ داریاں انجام دیتی ہیں اور چھوٹی بیٹی ارتقا بھارتی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ محبوبہ مفتی 2016ءسے 2018ءتک جموں وکشمیر کی وزیراعلیٰ بھی رہیں۔ ایک کشمیری مسلمان سیاستدان کی حیثیت سے اُن کی شناخت عالمی سطح پر ہے، بھارت میں اُنہیں کچھ خاص پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اُنہیں پاکستان کا وکیل بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی سیاسی جماعت جموں وکشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ بھی ہیں۔ اُنہیں پاکستان کا وکیل کہنا شاید اس لیے بھی درست ہے کہ وہ متنازع اُمور پر پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔  حال ہی میں جب ’’پلوامہ ڈراما‘‘ ہوا تو ایک انڈین ٹی وی کے مقبول پروگرام ’’آپ کی عدالت‘‘ میں اُنہیں بطورِ خاص مدعو کیا گیا اور اُن پر ’’پلوامہ ڈرامے‘‘ کے تناظر میں پاکستان کے حوالے سے جرح کی گئی۔ ہرچند کہ شرکاء کی بڑی تعداد جو ظاہر ہے کہ میزبان کے حق میں تھی اور نقاد اور میزبان کے ہر سوال پر تالیاں بجا کر داد دی جارہی تھی لیکن اس کے باوجود محبوبہ مفتی نے پروگرام کے میزبان کی جانب سے سخت اور چبھتے ہوئے طنز پر مبنی سوالوں کے جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ مودی جی کی جانب سے پاکستان کو سفارتی طور پر دنیا سے الگ تھلگ کرنے کا دعویٰ درست نہیں ہے۔ روس، امریکا، چین، سعودی عرب آج بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امریکا کو طالبان سے مذاکرات کے لئے پاکستان کی ضرورت ہے۔ چین نے ’’سی پیک‘‘ جیسا بڑا منصوبہ شروع کیا ہے۔ روس ہمارا دوست تھا لیکن اب اُس کی توجہ پاکستان پر ہے۔ سعودی عرب نے 20 بلین ڈالر کی امداد کے علاوہ بھی اسلام آباد میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے تعلق اور وابستگی کا بار بار مظاہرہ کیا۔ میزبان نے محبوبہ مفتی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان تو سعودی ولی عہد کے ڈرائیور بنے ہوئے تھے جس پر حاضرین نے پُرجوش انداز میں تالیاں بجا کر اپنی مہمان کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی لیکن محبوبہ مفتی نے اس موقع پر کہا کہ ’’جب سعودی ولی عہد بھارت کو امداد دینے کے معاہدے پر دستخط کررہے تھے تو پردھان منتری مودی جی اُن کے سامنے ہاتھ باندھے مؤدب کھڑے تھے۔‘‘ جس پر میزبان نے کہا کہ پاکستان کے لیے آپ کی ایسی حمایت اور جملوں کی وجہ سے ہی آپ کو ’’پاکستان کی خالہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان ریمارکس پر جہاں شرکاء نے زبردست انداز میں تالیاں بجائیں، وہاں خود محبوبہ مفتی بھی قہقہہ لگائے بغیر نہ رہ سکیں۔