تازہ شمارہ
Title Image
آسٹریلوی سفیر بھی پاکستانی ٹرک آرٹ کی دلداہ نکلیں

آسٹریلوی سفیر بھی پاکستانی ٹرک آرٹ کی دلداہ نکلیں

پاکستان کا ٹرک آرٹ جو گاؤں دیہات کے ناخواندہ رنگساز ہنرمندوں کے ذہنوں کی تخلیق ہے، ملک بھر کے شہروں میں منتقل ہونے کے بعد اب دیہی ناخواندہ رنگسازوں سے شہروں کے تخلیقی ہنرمندوں کے پاس آگیا ہے یا پھر اس کی مقبولیت کے باعث انہوں نے اس فن پر جدیدیت کے ساتھ طبع آزمائی کی ہے اور اس فن میں نت نئے تجربات کیے جارہے ہیں۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ بیرون ملک بھی یہ فن پاکستان کے ثقافتی اظہار اور شناخت کے طور پر پہچانا جارہا ہے۔ اسلام آباد کے نئے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر سامان کے حصول کے لیے ’’کنویئربیلٹ‘‘ کے لیے مختص تمام حصے کو ٹرک آرٹ سے مزین کیا گیا ہے تاکہ بیرونی ممالک سے آنے والے ملکی وغیرملکی مسافر حصول سامان کے انتظار میں اس فن سے بھی متعارف ہوں اور استفادہ بھی کرسکیں۔ وفاقی دارالحکومت میں بالخصوص غیرملکی شخصیات کی ٹرک آرٹ سے دلچسپی دیدنی ہے اور اکثر غیرملکی سفارتخانوں میں اس کا اظہار دیکھنے کو ملتا ہے، جس کا اندازہ گزشتہ دنوں آسٹریلین ہائی کمیشن میں آسٹریلیا کے قومی دن کے حوالے سے ہونے والی ایک تقریب میں ہوا۔ آسٹریلین ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن جو خود بھی ٹرک آرٹ کی دلدادہ ہیں، اُن کی خواہش پر تقریب کی تزئین و آرائش کے بڑے حصے کو ٹرک آرٹ سے مزین کیا گیا تھا اور دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ وہ خود غیرملکی مہمانوں کو اس فن سے متعارف کرا رہی تھیں اور اس کی خوبصورتی بیان کررہی تھیں۔ تقریب میں موجود غیرملکی مہمانوں کی بڑی تعداد نے اس آرٹ میں گہری دلچسپی لی۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی وزیر مملکت زرتاج گل تھیں، جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، جبکہ ٹرک آرٹ کے رنگساز ہنرمندوں کی بڑی تعداد کا تعلق اُن کے علاقے سے بھی ہے۔ وہ بھی اپنے ملک اور علاقے کے ہنرمندوں کے فن کی اس مقبولیت اور پذیرائی سے خوش نظر آرہی تھیں اور فخریہ انداز میں اس کا ذکر کررہی تھیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن نے کہا کہ ہماری دولت مشترکہ کی وراثت، ہماری حکومتوں کا وفاقی نظام، ہمارے پانی کے وسائل اور خشک زمینیں، ہمارا متحرک ثقافتی تنوع اور قدیم تہذیب ایک جیسی ہے۔ ہم زراعت میں پاکستان کی مدد کررہے ہیں جہاں ملازمت اور ترقی کی سب سے زیادہ صلاحیت ہے۔ ہم خواتین اور بچیوں کی صلاحیتوں اور معاشرے میں ان کے کردار کو مساوی طور پر اجاگر کرنے میں بھی پاکستان کی مدد کر رہے ہیں۔ ہمارے دوطرفہ رسمی تعلقات پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک قائم ہیں لیکن ہمارے تاریخی تعلقات سن1800ء سے قبل کے ہیں، جب بلوچستان سے اونٹ آسٹریلیا لائے گئے تھے۔ آج پاکستان سے تعلق رکھنے والے60,000 سے زائد افراد آسٹریلیا میں رہتے ہیں اور ہزاروں پاکستانی وہاں پڑھنے کے لیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ہمارے دوستانہ تعلقات اور بڑھتے ہوئے تعاون کی مضبوط بنیادیں ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات تاریخی ہیں اور ہم بہت سے چیلنجوں پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا اور پاکستان میں بہت سی چیزیں ملتی جلتی ہیں۔