تازہ شمارہ
Title Image
وزیر ریلوے کے کارنامے

وزیر ریلوے کے کارنامے

شیخ رشید جو اپنی ذات میں ’’سیاسی انجمن‘‘ ہیں۔ جب اُنہیں وزیر ریلوے بنایا گیا تو سب نے سُکھ کا سانس لیا کہ شیخ صاحب کارنر ہوگئے لیکن انہوں نے ریلوے کی وزارت کو ایک بار پھر اپنے ’’اقدامات اور اعلانات‘‘ سے پرکشش وزارت بنادیا ۔ ریلوے کی وزارت کو بوجھ اور وزیر کو ’’مشقتی وزیر‘‘ سمجھا جاتا تھا لیکن شیخ صاحب اس وزارت کو بھی انجوائے کررہے ہیں۔ 2007ء میں جب وہ ریلوے کے وزیر تھے تو انہوں نے ریلوے کیرج فیکٹری میں خصوصی طور پر ایک بوگی تیار کرائی تھی، جسے خطیر اخراجات سے پرتعیش شکل دی گئی تھی، اسے ’’میرج بوگی‘‘ کا نام دیا گیا تھا، جس کا مقصد نوبیاہتا جوڑوں کو مطلوبہ ضروریات کے تحت سفر کرنے کا ماحول فراہم کرنا تھا۔ اسی مناسبت سے اس بوگی میں ڈبل بیڈ، باتھ روم اور آسائش کے تمام تقاضوں کی تکمیل کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق شیخ صاحب گو کہ خود تو شادی شدہ نہیں ہیں لیکن کبھی کبھار خود بھی اس میں سفر کرلیا کرتے تھے۔ پیشگی بکنگ اور پیکیج کے تحت اس بوگی کا کرایہ بھی خاصا تھا لیکن جیسے ہی اُن کی وزارت ختم ہوئی، ریلوے کے حکام نے اس منصوبے کو ریلوے پر بوجھ قرار دے کر یہ بوگی ہی ختم کردی تھی۔ اس مرتبہ جب وہ وزیرریلوے بنے ہیں تو جب بھی وہ ٹرین میں سفر کرتے ہیں تو ان کے لئے جو سیلون لگائی جاتی ہے، وہ اس میں اپنے سفر کو پکنک کے ماحول میں بدل لیتے ہیں، ان کی سیلون میں کانفرنس روم کے علاوہ بھی ایک کمرہ ہے، جس میں بیڈ بھی ہے، اس کے علاوہ افسروں کے لئے ایک کانفرنس میٹنگ روم ہے جس میں کرسیاں لگی ہوئی ہیں اور اس کی بیک پر شیشہ لگا ہوا ہے جس سے وہ باہر کا نظارہ بھی سفر کے دوران کرتے ہیں۔ یہ سیلون انسپکشن کار بھی کہلاتی ہے۔  شیخ رشید احمد جب ریل میں سفر کرتے ہیں تو اس وقت تمام ریلوے اسٹیشنز پر عملہ الرٹ نظر آتا ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے راولپنڈی سے ملتان تک کا سفر تھل ایکسپریس میں کیا، جس کا افتتاح وزیراعظم پاکستان عمران خان نے وزیراعظم ہائوس میں کیا اور ٹرین راولپنڈی اسٹیشن پر پھولوں سے سجی کھڑی ہوئی تھی۔ ریلوے میں اُن کے حامی تو اُن کے اقدامات سے نہ صرف مطمئن بلکہ بہت زیادہ خوش ہیں جبکہ اُن کے مخالفین ہر موقع پر تنقید سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ اُنہی کا کہنا ہے کہ تین ماہ پہلے جس ٹرین کا افتتاح شیخ رشید احمد نے وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں کرایا اور اس کی تختی وزیراعظم ہائوس میں لے کر گئے اور ٹرین کا افتتاح کرایا، وہ راولپنڈی سے میانوالی کے درمیان چلائی گئی میانوالی ایکسپریس تھی جس کا چرچا میڈیا میں بھی بہت ہوا کہ یہ وزیراعظم کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کے لئے چلائی گئی ہے اور اس سہولت سے راولپنڈی اور میانوالی کے لوگ فائدہ اٹھائیں گے لیکن تین ماہ بعد ہی میانوالی ایکسپریس جس کا نمبر 175 اور 176 تھا، بند کر دی گئی اور اسی کو ایک نئی ٹرین کا نیا نام تھل ایکسپریس دے کر اس کا وزیراعظم سے افتتاح کرایا گیا۔ یہ راولپنڈی سے ملتان کے لئے چلائی گئی ہے، اس کا افتتاح بھی وزیراعظم نے وزیراعظم ہائوس میں کیا۔ شیخ صاحب کے مخالفین کہتے ہیں کہ وزیر ریلوے نے ایک ٹرین کا افتتاح کرایا، جو تین ماہ بعد بند کر دی اور تین ماہ بعد دوسرے نام سے اسی ٹرین کا افتتاح کرا دیا۔