تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
متعدد امراض جن کا تعلق آنتوں میں رسائو سے جوڑا جاتا ہے

متعدد امراض جن کا تعلق آنتوں میں رسائو سے جوڑا جاتا ہے

جانوروں اور انسانوں پر کی گئی تحقیق کے مطابق جس کے نتائج ’’کلینیکل گیسٹرو انٹیرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی‘‘ اور ’’گٹ‘‘ جیسے طبی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں، ’’آنتوں میں رسائو کے مرض‘‘ یا ’’آنتوں میں اضافی نفوذ‘‘ کا تعلق درج ذیل امراض سے جوڑا جاچکاہے: ٭ لوگیہرگز ڈیزیز (ALS) ٭ الزائمر ڈیزیز ٭ فکر، پریشانی اور افسردگی ٭اے ڈی ایچ ڈی ٭آئوٹزم ٭کینڈیڈا اور پھپھوند کی افزائش ٭سیلیاک ڈیزیز اور نان سیلیاک گلوٹین حساسیت ٭کرونک فیٹیگ سنڈروم ٭کرونز ڈیزیز ٭فائبرو مائلجیا ٭گیس، اپھارہ اور پیٹ میں درد ٭ہاشیموتو ڈیزیز ٭اری ٹیبل بوویل سنڈروم ٭لوپس ٭میٹابولک سنڈروم ٭آدھے سر کا درد ٭ملٹی پل اسکلیروسیس ٭امراض جگر بشمول نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز ٭پارکسنز ڈیزیز ٭پولی سسٹیک اوویرین سنڈروم (PCOS) ٭ریسٹ لیس لیگ سنڈروم ٭ریوماٹوئڈ آرتھرائٹس ٭جلد کی سوزش (ایگزیما، سوریاسیس، روزاسیا، ڈرماٹائٹس اور کیل مہاسے) ٭ٹائپ ون ذیابیطس ٭ٹائپ ٹو ذیابیطس ٭السریٹیو کولائٹس ٭مختلف الرجیز اور غذائوں سے حساسیت۔ اُوپر جن امراض کی فہرست دی گئی ہے وہ جامع نہیں ہے۔ ’’آنتوں میں رسائو کی بیماری‘‘ پر اب بہت زیادہ اور بہت تیزی سے تحقیق کی جا رہی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ آئندہ دس برسوں میں اس فہرست میں اور کن کن بیماریوں کا اضافہ ہو جائے گا۔ ’’لیکی گٹ سنڈروم‘‘ اور دیگر امراض کے درمیان تعلق اتنا طاقتور اور شواہد اتنے ماننے پر مجبور کرنے والے ہیں کہ ہم اب مزید اس گومگو کی حالت میں نہیں رہ سکتے کہ یہ ایک خیالی یا فرضی معاملہ ہے جس کا نام ہی بہت عجیب ہے۔ اب یہ بات سمجھ میں آ جانی چاہئے کہ امریکا میں صحت کے جو انتہائی گمبھیر مسائل دیکھے جا رہے ہیں، ان کی تہہ میں یہی ’’آنتوں میں رسائو کا مرض‘‘ کارفرما ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اب کیوں سامنے آیا ہے؟ ہماری دُنیا میں ایسا کیا ہو رہا ہے کہ یہ پوشیدہ وبا اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی؟ اگرچہ کوئی ایک عامل بھی ہماری بڑی آنتوں کیلئے مسائل پیدا کر سکتا ہے لیکن اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بہت سارے عوامل یکبارگی آنتوں میں خلفشار برپا کر رہے ہیں جن میں سے چند حسب ذیل ہیں: غذائی اشیاء کی فراہمی میں کرپشن: اشیائے خورد و نوش میں ضرورت سے کہیں زیادہ شکر کی بھرمار، ناقص اناج اور غذائیت بخش اجزاء سے محروم پروسیسڈ تیار کھانے آنتوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ قابل تشویش چیز گلوٹین (Gluten) ہے جس کے بارے میں کافی سارے شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ آنتوں میں رسائو کی بیماری کو اس کی وجہ سے تحریک مل رہی ہے۔ اناجوں میں شامل یہ پروٹین جب کھایا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں جسم سوزش کا ردعمل ظاہر کرتا ہے اور وہ ایک پروٹین Zonulin خارج کرتا ہے جو آنتوں کی اندرونی جڑی ہوئی دیواروں کی اُوپری Epithelial تہہ کو کھول دیتا ہے۔ جب تک یہ پروٹین دوران خون کے ساتھ گردش کرتا رہتا ہے، آنتوں کی اندرونی دیواروں کے یہ شگاف کھلے رہتے ہیں اور ان سے گزر کر جراثیم اور زہریلے مادے دوران خون میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ ماحول میں زہریلے مادّوں کا بڑھنا: ہم میں سے ہر ایک، ایک سال کے عرصے کے دوران 80 ہزار سے زیادہ غیر ٹیسٹ شدہ کیمیکلز اور زہریلے مادّوں کے ساتھ رابطے میں آ سکتا ہے۔ ہمارا ملک (امریکا) دُنیا کی آبادی کا 2 فیصد سے بھی کم آبادی رکھتا ہے لیکن پوری دُنیا میں جتنی کرم کش ادویات (Pesticides) استعمال ہوتی ہیں ان کا 24 فیصد امریکا استعمال کرتا ہے۔ ان کرم کش ادویات کا بے محابا استعمال اور اس کے ساتھ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ غذائیں، تیار غذائوں کو دیر تک قابل استعمال رکھنے کیلئے اس میں ملائے جانے والے کیمیائی مادّے، گھروں میں صفائی کیلئے استعمال ہونے والے کیمیکلز اور آرائش حسن و جمال کی مصنوعات میں ملائے جانے والے کیمیائی مادّے، یہ ساری چیزیں مل کر ہمارے جسم پر بہت زیادہ ستم ڈھا رہی ہیں اور ان کی وجہ سے ہماری آنتوں کی صحت خراب تر ہو رہی ہے۔ جدید زندگی کا بڑھتا دبائو: آنتوں کی صحت پر جذباتی دبائو کا بہت اثر ہوتا ہے۔ ریسرچ سے معلوم ہو چکا ہے کہ ذہنی تنائو سے بھرپور زندگی کی وجہ سے آنتوں میں صحت کیلئے مفید جرثوموں کی تعداد گھٹ جاتی ہے اور وہاں پھپھوند (Yeast) کی افزائش زیادہ ہونے لگتی ہے۔ طویل عرصہ تک جاری اسٹریس سے جسم کا مدافعتی نظام بھی کمزور ہو جاتا ہے جس سے ہمارا جسم خارجی حملہ آوروں مثلاً جراثیم اور وائرسز کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتا اور جسم اگر پہلے سے سوزش میں مبتلا ہو تو اس کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ یوں آنتوں میں رسائو کی راہ ہموار ہو جاتی ہے (اس پوشیدہ وباء کے عام ہونے کے کچھ اور اسباب بھی ہیں جن پر اِن شاء اللہ آئندہ شمارے میں روشنی ڈالی جائے گی)۔