تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
غذائیں دوائوں سے بہتر۔ کیسے؟

غذائیں دوائوں سے بہتر۔ کیسے؟

2010ء میں جب ٹام شیکووچ نے اپنے پائوں کی انگلیوں کو پہلے پہل بے حس محسوس کرنا شروع کیا تھا تو اس نے اسے عارضی درد سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ اس وقت اس کے پاس صحت کا بیمہ نہیں تھا، اس لئے وہ ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں گیا لیکن پھر انگلیوں میں انفیکشن ہوگیا اور اسے دو دن بستر سے لگا رہنا پڑا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اسے فلو ہو گیا ہے۔ آخرکار جب اسے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا تو اس نے شیکووچ کو فوری طور پر ایمرجنسی روم میں بھیج دیا۔ کئی دنوں کے بعد سرجنز نے اس کے پائوں کی انگلیاں کاٹ کر الگ کر دیں اور اسے صحت کی بحالی تک ایک ماہ اسپتال میں گزارنا پڑا۔ شیکووچ کو ٹائپ ٹو ذیابیطس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنے پائوں کی انگلیوں سے محروم ہونا پڑا تھا، گو کہ وہ اپنی بیماری کو کنٹرول میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔ اس کا وزن بڑھا ہوا تھا اور وہ ذیابیطس کی دوائیں بھی لے رہا تھا لیکن اس کی خوراک فاسٹ فوڈ اور منجمد پروسیسڈ کھانوں پر مشتمل تھی جو آسانی سے دستیاب اور تیار کی جاسکتی ہیں اور ان ہی غذائی عادات نے اس کے مرض کو جان لیوا سطح تک پہنچا دیا تھا۔ مزید چند برسوں تک شیکووچ کی ذیابیطس کے علاج کی کوششیں جاری رہیں لیکن مرض پر جب پوری طرح قابو نہ پایا جاسکا تو اس کے ڈاکٹروں نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ ایک نیا غذائی پروگرام آزمائے جو اس جیسے مریضوں کی مدد کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ یہ غذائی پروگرام2017ء میں گیسنگر ہیلتھ سسٹم (Geisinger Health System) نے اپنے کمیونٹی اسپتالوں میں سے ایک میں شروع کیا تھا جہاں ’’فریش فوڈ فارمیسی‘‘ صحت بخش غذائیں فراہم کرتی ہے جو زیادہ تر پھلوں، سبزیوں، روکھے گوشت اور کم نمک والی خوراک پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یہ غذائیں نارتھمبر لینڈ کائونٹی، پنسلوانیا کے مریضوں کو فراہم کی جاتی ہیں اور انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ کس طرح ان غذائوں کو اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کرسکتے ہیں۔ ہر ہفتے شیکووچ، جو وفاقی خط غربت سے نیچے کی زندگی گزارتا ہے اور اسے ریاست کی جانب سے غذائی امداد کی ضرورت ہوتی ہے، فارمیسی کے فوڈ بینک سے اشیائے خورونوش مفت حاصل کرنے کے ساتھ انہیں تیار کرنے کی ترکیب بھی حاصل کرتا ہے۔ یہاں اسے ان غذائی ماہرین اور ہیلتھ کیئر کے منتظمین سے غذائوں سے متعلق سوالوں کے جوابات بھی مل جاتے ہیں اور خون میں شکر کی جانچ بھی ہو جاتی ہے جنہیں فارمیسی میں یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس پروگرام میں شامل ہونے کے ڈیڑھ سال بعد شیکووچ کا وزن 60پونڈ کم ہوگیا اور اس کاAIC لیول بھی 10.9سے 6.9پر آ گیا جو خون میں شکر کی پیمائش کا ایک پیمانہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب بھی ذیابیطس کا مریض ہے لیکن خطرناک حد سے باہر نکل چکا ہے۔ اس نے بتایا کہ ’’جب سے میں نے اپنا علاج شروع کیا ہے، اس کے بعد سے یہ بہت اہم، بہت ہی اہم تبدیلی آئی ہے۔ یہ پروگرام میرے لئے زندگی بدل دینے والا بلکہ زندگی بچانے والا پروگرام ثابت ہوا ہے۔‘‘ گیسنگر کا پروگرام ایسی کئی انقلابی کوششوں میں سے ایک ہے جس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی بھی مریض کے علاج معالجے میں اس کی غذا کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور اس کے ماہرین غذا کو بھی دوا کا درجہ دیتے ہیں جس میں مریض کو صحت یاب کرنے کی وہی صلاحیتیں ہوتی ہیں جو کسی دوا میں ہوسکتی ہیں۔ ایسے کئی طبی جائزے سامنے آچکے ہیں جن میں دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کی صحت کا انحصار صرف اس امر پر نہیں ہوتا ہے کہ وہ کیا دوائیں استعمال کر رہے ہیں اور اس کے کون کون سے ٹیسٹ لئے جا چکے ہیں بلکہ ان کی صحت پر ان امور کا بھی اثر ہوتا ہے کہ لوگ کتنی نیند لے رہے ہیں، کتنی ورزش کر رہے ہیں، کتنا ذہنی تناؤ برداشت کر رہے ہیں اور ہاں آخری اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ ہر کھانے میں کیا چیز کھا رہے ہیں؟ غذائوں پر اب ڈاکٹروں، اسپتالوں، بیمہ کاروں، یہاں تک کہ آجروں کی بھی خاص توجہ مرکوز ہے کیونکہ وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس، امراض قلب، ہائی بلڈ پریشر (ہائپر ٹینشن) حتیٰ کہ کینسر کے علاج میں بھی صرف دوائوں سے فائدے کی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔ انہیں اس قسم کی ریسرچ سے بھی تقویت مل رہی ہے جن میں یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ جب اچھی خوراک کھاتے ہیں تو وہ زیادہ صحت مند رہتے ہیں اور دیرینہ امراض پر زیادہ بہتر طریقے سے قابو پانے کے قابل ہوتے ہیں اور غالباً ان سے محفوظ بھی رہ سکتے ہیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ صحت بخش خوراک کھانا، گولی نگلنے کی طرح کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں صحت بخش کھانے سرے سے دستیاب ہی نہیں ہوتے، اور اگر کسی کو دستیاب ہو بھی جائیں تو وہ انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لئے اب (امریکا کے) زیادہ تر اسپتال اور ڈاکٹرز ان رکاوٹوں کو توڑنے کے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ ان کے مریضوں کی صحت بہتر ہو سکے۔ شہروں میں جہاں تازہ پھل اور سبزیاں بڑی مشکل سے پہنچ پاتی ہیں، وہاں کے اسپتالوں نے مقامی پنساریوں سے یہ معاہدہ کیا ہے کہ وہ ان مریضوں کو رعایتی قیمتوں پر پھل اور سبزیاں فراہم کریں گے جو اپنے ڈاکٹروں کی جانب سے تحریری ’’پرسکرپشن‘‘ یا نسخے انہیں پیش کریں گے۔ کلیولینڈ کلینک کاشت کاروں کی منڈیوں کی سرپرستی کرتا ہے جہاں مقامی کاشت کار وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ غذائی امدادی وائوچرز قبول کرتے ہیں۔ سان فرانسسکو کے ’’کیس پرماننٹ‘‘ کے کچھ ڈاکٹرز اپنے مریضوں کو دوائوں کے نسخوں کی جگہ یا اس کے ساتھ کھانے پکانے کی ترکیبیں بھی فراہم کرتے ہیں اور انہیں کوکنگ کلاسز میں بھی شریک کیا جاتا ہے۔ آپ اگر کسی بھی ڈاکٹر سے یہ پوچھیں کہ امریکیوں کو ہلاکت سے دوچار کرنے والے عوامل سے کیسے بچایا جاسکتا ہے یا ان کی ہلاکت خیزی کس طرح کم کی جاسکتی ہے تو ممکنہ طور پر آپ کو یہی سننے کو ملے گا کہ صحت بخش خوراک کے استعمال سے یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن وجدانی طور پر یہ جاننا کہ غذائیں صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں، ایک الگ چیز ہے اور سائنس اور اعتماد کے ساتھ اسے ثابت کرنا ایک بالکل مختلف امر ہے۔ اب نسبتاً کچھ عرصہ قبل ہی ڈاکٹروں نے اس خلیج کو کم کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے کہ امراض قلب اور کینسر، جن کو جڑ پکڑنے میں ایک عرصہ درکار ہوتا ہے، ان کے بارے میں یہ طے کیا جائے کہ مخصوص غذائیں کھانے سے ان سے حفاظت ہوسکتی ہے۔ مزید براں غذائیں، دوائیں جیسی نہیں ہوتیں جنہیں سخت قسم کے جائزوں میں آزمایا جائے۔ مثلاً جو لوگ روزانہ ایک پیالہ بلیو بیریز کھاتے ہیں، ان کا موازنہ ایسے لوگوں سے کیا جائے جو یہ بیریاں نہیں کھاتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ بلیو بیریز سے کینسر سے تحفظ ممکن ہے یا نہیں؟ علاوہ ازیں غذائیں، دوائوں کی طرح منفرد انداز میں جسم پر اثرانداز نہیں ہوتیں۔ ان میں بے شمار فائدہ مند اور ممکنہ طور پر کم فائدہ مند اجزاء ہوسکتے ہیں جو جسم کے مختلف نظاموں پر الگ الگ طریقے سے اثر ڈال سکتے ہیں۔ (جاری ہے)