تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
بلوچستان ایک بار پھر مالی بحران کا شکار

بلوچستان ایک بار پھر مالی بحران کا شکار

رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ایک بار پھر مالی بحران کا شکار ہوگیا ہے اور خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اگر وفاق نے صوبے کی مالی مدد نہیں کی تو آئندہ مالی سال میں صوبائی حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوں گے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال خان عالیانی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صوبے کی مالی پوزیشن بہتر نہ ہوئی تو مسائل مزید گمبھیر ہو جائیں گے۔ وسیع و عریض صوبے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام صرف60 ؍ارب روپے ہے، جس میں صوبے کے اپنے ذرائع اور وسائل سے آمدنی محض 15؍ارب روپے ہے جسے 2سال کے اندر 50؍ارب روپے تک لے جانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سابق حکومت کے پیدا کردہ بد انتظامی کے مسائل اب پہاڑ بن چکے ہیں، جس کی وجہ سے صوبے کی مالی پوزیشن کمزور اور ادارے تنزلی کا شکار ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اعتراف کیا کہ بلوچستان کو جن مسائل کا سامنا ہے اُس کی بڑی وجہ بیڈ گورننس رہی ہے۔ اب گورننس کے بہترانفراسٹرکچر کو یقینی بنانا ہوگا، اس معاملے کو ہم چیلنج کے طور پر لے رہے ہیں اور اس میں کامیابی حاصل کرلیں گے۔  بلوچستان کا صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پسماندگی کی تصویر بنا ہوا ہے، کچھ شعبوں میں بہتری آئی ہے لیکن مجموعی طور پر بڑے بڑے شعبے اور گورننس کے مسائل بد ستور تشویش کا باعث ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ صوبے کے مالی وسائل اور غیر ترقیاتی اخراجات کا بڑھتا ہوا غیر معمولی بوجھ ہے، ان میں تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ بہت زیادہ تشویشناک ہے۔2025 ء تک پنشن کا بل جو اس وقت 25؍ارب کے لگ بھگ ہے بڑھ کر 200؍ارب تک پہنچ جائے گا، اس مسئلے سے کس طرح نمٹنا ہے۔ اس کے لئے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ این ایف سی ایوارڈ کے بعد اب وفاقی حکومت بھی صوبوں کو اضافی وسائل دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ جبکہ فاٹا کو کھربوں روپے دینے کیلئے صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جبکہ پہلے ہی بلوچستان کے اپنے ذرائع آمدن نہ ہونے کے برابر ہیں، یعنی صرف15؍ارب روپے ہیں جسے موجودہ حکومت دو سال کے اندر50؍ارب روپے تک لے جانا چاہتی ہے، لیکن یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے حکومت اور بیورو کریسی کو سنجیدگی اور مؤثر ہوم ورک کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ بقول وزیر اعلیٰ کے 2025 ء میں یعنی محض 5سال بعد بلوچستان کا بجٹ اور پنشن بل سب کچھ ملا کر 550؍ارب روپے ہو جائے گا، جبکہ وفاق سے تمام مدات میں کل ملا کر 250؍ارب کے لگ بھگ رقم ملے گی اور اُس وقت تک مالی پوزیشن بہتر نہ ہوئی تو غیر معمولی چیلنجز اور بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 5سال کا عرصہ بہت کم ہوتا ہے اور اس قلیل عرصے میں اتنے بڑے پیمانے پر وسائل پیدا کرنے اور صوبے کے محصولات میں اضافہ کرنا عملاً ممکن نظر نہیں آتا ہے ۔سابق سیکریٹری خزانہ اور اقتصادی امور کے ماہر محفوظ علی خان کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل کے ذخائر کو مالی قوت کے طور پر استعمال کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ سی پیک کے بارے میں بلوچستان میں ایک مکمل سیکریٹریٹ ہونا چاہیے، جسے صوبائی حکومت راہداری سے متعلق منصوبوں کی نگرانی اور معلومات کے لیے استعمال کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان بے شمار قدرتی وسائل کا مالک ہے لیکن صوبائی حکومت نے اس پر کام نہیں کیا۔ حکومت کو ایسے حالات پیدا کرنے چاہئیں تاکہ نجی شعبہ سرمایہ کاری کے لیے آگے آئے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو صوبے میں ہی روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو صوبے کی سابق حکومتوں کے ادوار میں ہونے والی بدعنوانیوں کی تحقیقات بھی کرنی چاہئیں اور بد عنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اور بلا تفریق کارروائی کرتے ہوئے قومی دولت برآمد کر دی جائے تو صوبے کی مالی مشکلات میں کافی کمی آ سکتی ہے۔ لیکن نیب صوبے میں وہ کردار ادا نہیں کر رہا جو وفاق میں نظر آ رہا ہے۔ ماضی میں ایک اعلیٰ افسر کی رہائش گاہ سے 90کروڑ روپے برآمد ہوئے تھے اور اس محکمے کے صوبائی مشیر اور سیکرٹری، دونوں کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن آدھی سے بھی کم رقم لے کر دونوں کو چھوڑ دیا گیا۔ اس طرح کے فیصلوں سے بدعنوانی میں ملوث لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ جہاں تک گورننس کے معاملات کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبے کو بہتر انداز میں چلانے اور سرکاری مشینری کے صحیح استعمال کی مخلصانہ کوششیں کبھی کی ہی نہیں گئی ہیں اور نیم دلانہ کوششوں کے نتائج ایسے نکلتے ہیں جیسے اس وقت نظر آرہے ہیں۔ صوبے کے موجودہ انتظامی سربراہ جام کمال خان عالیانی اگر گورننس کے مسائل حل کرنے میں کامیاب اور صوبے کو شفاف اور بہتر طرز حکمرانی دینے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ تنخواہوں اور پنشن کا بوجھ کسی طرح بھی کم نہیں ہوسکتا، یہ حکومت کی ایک آئینی ذمہ داری ہے جسے ہر صورت پورا کرنا ہوگا۔ سرکاری محکموں میں ملازمین کی تعداد میں اضافہ کرنااس لئے بھی ضروری ہے کہ بلوچستان میں نجی شعبہ نہ ہونے کے برابر ہے اور لوگوں کو روز گار کے مواقع فراہم کرنا حکومتی ذمہ داری بنتی ہے اور اگر حکومت روز گار نہ دے تو بحرانی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے دوران اور اس کی تکمیل کے بعد نجی شعبہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ صوبہ کے تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کو روز گار فراہم کر سکے لیکن فوری طور پر ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔جام کمال خان کی حکومت کو گورننس سمیت مختلف شعبوں میں سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور وہ ان سے نمٹنے کیلئے پر عزم بھی نظر آتی ہے۔ اگر حکومت ان چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی تو آنے والے برسوں میں صوبے میں اچھی طرز حکمرانی دیکھنے کو ملے گی اور یہ ترقی و خوشحالی کے مقاصد اور اہداف حاصل کرنے میں بھی بڑی حد تک کامیاب ہو جائے گی۔