تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
گواہی قسط 02

گواہی قسط 02

’’اچھا! ہیڈ کلرک صاحب کی لڑکی معصوم ہے، ہمیں پتا نہیں تھا۔‘‘ سجاد نے کہا۔ سب نے قہقہہ لگایا۔ وہ سب علاقے کے آوارہ اور جرائم میں ملوث لڑکے تھے۔ جانے کتنی لڑکیوں کو بے وقوف بنا کر تباہ کرچکے تھے۔ ’’سجاد! ذرا ہوش میں! زنیرہ کے خلاف کوئی بکواس برداشت نہیں کرسکتا۔‘‘ معین کالیا نے اسے گھورا تو دوستوں نے گفتگو کا موضوع بدل دیا۔ وہ رات کے منصوبے پر بات کرنے لگے۔ آج کل ان کا گروپ گھروں میں ڈاکے ڈالنے میں مصروف تھا۔ ٭…٭…٭ زنیرہ بخار ہونے کے سبب ایک ہفتے سے کالج نہیں جارہی تھی۔ ایک ہفتے بعد جب وہ کالج گئی تو واپسی پر معین کالج کے باہر موجود تھا۔ عروہ کی موجودگی کی وجہ سے زنیرہ بے فکری سے قدم اٹھاتی اسٹاپ کی طرف بڑھنے لگی۔ ’’آپ اتنے دنوں سے کہاں غائب تھیں۔ کالج کیوں نہیں آئی تھیں؟‘‘ معین نے ان کے برابر چلتے ہوئے پوچھا۔ زنیرہ کو توقع نہیں تھی کہ وہ بے تکلفی سے اس سے مخاطب ہوگا۔ وہ خاموش رہی مگر عروہ تیز لہجے میں بولی۔ ’’تمہیں اس کی اتنی فکر کیوں ہورہی ہے۔ تم کون ہوتے ہو اس سے پوچھنے والے؟‘‘ ’’او۔ چھپکلی! تم خاموش رہو۔ میں تم سے بات نہیں کررہا۔ تمہاری کزن سے پوچھ رہا ہوں۔‘‘ ’’میری کزن تم سے بات نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ عروہ نے سخت لہجے میں کہا۔ ’’تم ہمارے بیچ میں مت بولو۔ میں زنیرہ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ معین نے ڈھیٹ بن کر پوچھا۔ ’’براہ مہربانی آپ میرا پیچھا چھوڑ دیں۔‘‘ زنیرہ بولی تو معین نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور پاس کھڑی ٹیکسی کی طرف دھکیلنے لگا۔ عروہ کی چیخ و پکار کرنے پر راہ گیر اکٹھا ہونے لگے۔ معین نے زنیرہ کو چھوڑ کر اکیلے جانے میں عافیت جانی۔ زنیرہ، معین کی اس حرکت کی وجہ سے سخت خوف زدہ ہوگئی تھی۔ عروہ کے ساتھ جب وہ گھر میں داخل ہوئی تو اس کی اڑی اڑی رنگت دیکھ کر کلثوم بانو پریشان ہوگئیں۔ ’’کیا ہوا؟ اس کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ انہوں نے گھبرا کر پوچھا۔ عروہ نے جواب میں سارا واقعہ سنا ڈالا۔  ’’امی! میں نے آپ کو بتایا تو تھا، معین کالیا میرے پیچھے پڑا ہے۔ آپ نے ابو کو بتایا تھا؟‘‘ ’’نہیں! مگر اب یہ بات چھپانے والی نہیں۔ میں تمہارے ابو کے آتے ہی ان سے بات کرتی ہوں۔ جائو جاکر کپڑے تبدیل کرلو۔‘‘ کلثوم بانو نے تسلی دی۔ ٭…٭…٭ اکرم علی نے کھانا کھانے کے بعد لائونج میں رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے ٹی وی آن کیا تو کلثوم بانو نے ان کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا۔ ’’میں سخت پریشان ہوں۔‘‘ اکرم علی نے کلثوم بانو کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’کیا بات ہے؟‘‘ کلثوم بانو نے دن میں زنیرہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے آگاہ کردیا۔ ’’معین اتنے دنوں سے زنیرہ کو تنگ کررہا تھا اور تم نے یہ بات مجھے نہیں بتائی۔ خیر میں اس کا ایسا بندوبست کروں گا کہ وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔‘‘ اکرم علی بولے۔ صبح آفس جاتے ہوئے اکرم علی پہلے پولیس اسٹیشن گئے۔ انہوں نے تھانے میں رپورٹ لکھوائی۔ انہیں پوری امید تھی کہ پولیس ان کی شکایت پر معین کے خلاف کارروائی کرے گی۔ ٭…٭…٭ معین کالیا اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھا سگریٹ پینے میں مصروف تھا تب ہی اچھو اپنے دوستوں کے ساتھ اس پر ٹوٹ پڑا۔ جلد ہی اچھو نے معین پر قابو پا لیا۔ وہ معین سے مخاطب ہوکر بولا۔ ’’چل بے، سیدھی طرح دو لاکھ واپس کر جو تو نے وحید سے چھینے ہیں۔‘‘ ’’واپس کرنے ہوتے تو چھینتا کیوں؟ تجھے وحید سے بڑی ہمدردی ہورہی ہے تو اپنے پاس سے اسے پیسے دے دے۔‘‘ معین نے بے خوف لہجے میں کہا۔ ’’دیکھ کالیے! مجھے مجبور نہ کر کہ میں تیرا حلیہ بگاڑ دوں۔ فوراً پیسے واپس کردے، ہمارا جھگڑا ختم ہوجائے گا۔ وحید میرا سالا ہے، تجھے اسے نہیں لوٹنا چاہیے تھا۔‘‘ معین موقع شناس تھا۔ اس وقت وہ ہتھیار کے بغیر تھا۔ اس نے اچھو سے الجھنے کے بجائے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پچاس ہزار کی رقم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ پیسے رکھ لے، باقی کل دے دوں گا۔‘‘ اچھو نے فوراً روپے معین کے ہاتھ سے جھپٹ لیے اور ایک ہاتھ سے اس کی گردن کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔ ’’کل اگر تو نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو اچھا نہیں ہوگا۔‘‘ اچھو یہ کہتے ہوئے اپنے ساتھیوں سمیت واپس چلا گیا۔ معین اس کی بات سن کر خاموش رہا لیکن اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ پہلی فرصت میں اچھو کو سبق سکھائے گا۔ اسی رات معین، اچھو پر ٹوٹ پڑا۔ گلی میں شور و غل ہوا تو محلے کے دوسرے افراد بھی اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ انہوں نے جو منظر دیکھا وہ بڑا دردناک تھا۔ اچھو خون میں لت پت سڑک پر تڑپ رہا تھا اور اس کا باپ اشرف جس کا بایاں بازو زخمی تھا، معین پر قابو پاتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پستول چھین چکا تھا۔ معین کے دونوں ساتھی موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جائے وقوع سے بھاگ چکے تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھوڑی دیر بعد پولیس پہنچ گئی۔ ٭…٭…٭ تین دن سے زنیرہ کالج نہیں جارہی تھی۔ صبح کا وقت تھا۔ وہ ابو کے لیے ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ رکھ رہی تھی۔ ’’کیوں بیٹا! آج کالج نہیں جانا۔‘‘اکرم علی نے پوچھا۔ ’’نہیں ابو!‘‘ زنیرہ جواب دیتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی کلثوم بانو، شوہر سے مخاطب ہوتے ہوئے بولیں۔ ’’آپ بھی عجیب ہیں، زنیرہ کو کالج جانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ وہ غنڈہ پولیس میں آپ کی رپورٹ کرنے کے باوجود دندناتا پھر رہا ہے۔ بیٹی کی عزت تعلیم سے بڑھ کر ہے۔ میں تو کہہ رہی ہوں کہ بھائی سے بات کرکے زنیرہ کو رخصت کردیں۔‘‘ ’’مجھے پتا ہے تم پریشان ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کررہی ہو۔ تمہاری پریشانی دور ہوچکی ہے۔ معین کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی ہے۔‘‘ ’’پولیس نے آپ کی رپورٹ پر اس کے خلاف کارروائی کر ڈالی؟‘‘ کلثوم بانو حیرت سے بولیں۔ ’’میری رپورٹ پر کارروائی نہیں ہوئی۔ اشرف کے بیٹے اچھو سے معین اور اس کے ساتھیوں کا رات جھگڑا ہوا تھا۔ معین نے اچھو کو فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا ہے۔ وہ بیچارہ آئی سی یو میں پڑا ہے۔ اس پر قاتلانہ حملے کے الزام میں پولیس معین اور اس کے دوستوں کو پکڑ کر لے گئی ہے۔ معین کو اب پتا چلے گا اس کا پالا کس سے پڑا ہے۔ اشرف پیسے والا آدمی ہے۔ معین اور اس کے دوستوں کی جان آسانی سے چھوٹنے والی نہیں۔‘‘ ’’خدایا تیرا شکر! میری دعائیں رائیگاں نہیں گئیں۔‘‘ کلثوم بانو نے شوہر کی بات سن کر اثبات میں سر ہلا دیا۔ معین کی گرفتاری کا سن کر ان کا ذہن پُرسکون ہوگیا تھا۔ اگلے روز سے زنیرہ نے کالج جانا شروع کردیا۔ فرسٹ ایئر کے امتحان سے فارغ ہوکر انٹر کی کلاسیں شروع ہوئیں تو زنیرہ نے گھر والوں کو محلے کے لوگوں کی زبانی معین اور اس کے ساتھیوں کو پانچ سال قید بامشقت سنائے جانے کی خبر ملی۔ اس خبر کو سنتے ہی زنیرہ اور کلثوم بانو نے شکرانے کے نفل ادا کیے۔ انٹر کرنے کے بعد زنیرہ نے کالج کو خیرباد کہہ کر یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ یونیورسٹی جوائن کرنے کے بعد زنیرہ پہلے کی نسبت خاصی پُر اعتماد ہوگئی تھی۔ عروہ انٹر میں فیل ہونے کے سبب گھر بیٹھ گئی تھی۔ زنیرہ تنہا یونیورسٹی آنے جانے لگی تھی۔ یونیورسٹی میں اس کی کئی نئی لڑکیوں سے دوستی ہوگئی تھی جن میں سے ایک سجل بھی تھی۔ زنیرہ کی سجل سے دوستی یونیورسٹی تک محدود نہ رہی، بہت جلد ان دونوں کا گھروں میں آنا جانا شروع ہوگیا۔ ’’ہفتے کو میری برتھ ڈے ہے۔ تمہیں میرے گھر آنا ہوگا۔ کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔‘‘ سجل نے اطلاع دیتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں واپسی کے لیے یونیورسٹی سے باہر نکل رہی تھیں۔ ’’اوکے! میں امی سے پوچھ کر بتائوں گی۔‘‘ زنیرہ بولی۔  گھر جاتے ہی زنیرہ نے کلثوم بانو سے سجل کی برتھ ڈے میں جانے کی اجازت طلب کی تو وہ عجیب نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگیں۔ ’’سجل چھوٹی بچی تو نہیں ہے جو اسے اپنی برتھ ڈے منانے کا اتنا شوق ہورہا ہے۔ فضول کے شوق پالے ہوئے ہیں اس نے! مجھے تو وہ لڑکی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔‘‘ ’’جانتی ہوں آپ کی ناپسندیدگی کی وجہ اس کا ماڈرن ہونا ہے۔ وہ آزاد خیال جو ٹھہری۔ آپ سمجھتی ہیں کہ میں اس کے ساتھ رہ کر اس جیسی نہ بن جائوں۔‘‘ ’’ہاں! یہ تو تم نے ٹھیک کہا۔ خیر تم چلی جانا۔‘‘ ’’سچ امی۔‘‘ کلثوم بانو کی طرف سے اجازت ملتے ہی زنیرہ ان کے گلے لگ گئی۔ سالگرہ کے دن زنیرہ پوری تیاری کے ساتھ سجل کے گھر پہنچ گئی۔ سجل کی تمام کزنز اور فرینڈز اس کی برتھ ڈے میں شریک تھیں۔ سجل نے ان سے زنیرہ کا تعارف کرایا۔ اس کی دوستوں اور کزنز نے زنیرہ کی خوبصورتی کی تعریف کی اور اس کی ڈریسنگ کو سراہا۔ وہ خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھی۔ ٭…٭…٭ ’’میرے کزن کو تم پسند آگئی ہو تو اس سے دوستی کرنے میں آخر برائی کیا ہے؟‘‘ سجل نے زنیرہ کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ’’میرا تعلق جس گھرانے سے ہے، وہاں اس طرح کی دوستیوں کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔‘‘ زنیرہ نے فوراً کہا۔ ’’یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ آخر یونیورسٹی میں بھی تم لڑکوں سے بات کرتی ہو۔ پھر میرے کزن فیروز سے بات کرنے میں کیا برائی ہے۔ انتہائی سلجھا ہوا لڑکا ہے۔ میری برتھ ڈے کی مووی میں تمہیں اس نے کیا دیکھا، میرے پیچھے پڑ گیا کہ اپنی سہیلی سے بات کرا دو۔ تم میری خاطر اس سے بات کرلو۔‘‘ سجل بضد تھی۔ ’’ایک تو تم ہر بات کی ضد پکڑ لیتی ہو۔ یہ بتائو تم نے میرا موبائل نمبر اپنے کزن کو تو نہیں دیا۔‘‘ زنیرہ کے اس سوال پر سجل کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ ’’ابھی تو نہیں دیا۔ تم کہو تو دے دوں۔ وہ مجھے بہت دعائیں دے گا۔ میری خاطر اس سے ایک دفعہ بات کرلو، تمہیں اس کی نیچر کا اندازہ ہوجائے گا۔‘‘ سجل پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھی۔ زنیرہ مجبور ہوکر بولی۔ ’’لائو مجھے اپنے کزن کا نمبر دو، میں اس سے خود بات کروں گی۔‘‘ ’’رئیلی۔‘‘ سجل کو اس کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس نے فوراً ہی اپنے کزن فیروز کا موبائل نمبر زنیرہ کو دے دیا۔ ٭…٭…٭ ’’زنیرہ! یہ تم کس کو میسجز کرنے میں لگی ہوئی ہو۔ میں تمہارے گھر ملنے آئی ہوں اور تم ہو کہ موبائل پر مصروف ہو۔‘‘ عروہ نے چڑ کر کہا۔ اسی وقت زنیرہ کے موبائل پر ایک میسج آگیا۔ جسے پڑھ کر وہ مسکرانے لگی۔ ’’لگتا ہے میسج کرنے والا مجھ سے زیادہ اہم ہے۔‘‘ عروہ نے طنز کیا۔ ‘‘تم پوچھو گی نہیں کہ وہ کون ہے جس کے میسجز میں پڑھنے میں مصروف ہوں۔‘‘ ’’ہاں!کیوں نہیں۔ اگر تم بتانا چاہو۔‘‘ زنیرہ نے عروہ کو فیروز کے بارے میں مختصراً بتا دیا کہ اس کی فیروز سے دوستی سجل کے ذریعے ہوئی۔ اس کی بات سن کر عروہ بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھتی رہی۔ پھر بولی۔ ’’زنیرہ! تم پاگل ہوگئی ہو جو سجل کے کزن سے دوستی کر بیٹھی ہو۔‘‘ ’’توبہ ہے۔ تم بھی عجیب ہو۔ اس میں پاگل ہونے کی کیا بات ہے جو تم یوں ری ایکٹ کررہی ہو۔‘‘ ’’تم فیروز کو کتنا جانتی ہو۔ ہوسکتا ہے وہ تم سمیت کئی لڑکیوں کو بے وقوف بنا رہا ہو۔ تم اپنے گھر کے ماحول کو جانتی ہو۔ تمہارے والدین کو پتا لگ گیا تو تمہاری خیر نہیں۔ انگیج ہو تم۔‘‘ ’’یاد دلانے کا شکریہ! مجھے اپنا منگیتر ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ میرا اور شاہ میر کا جوڑ نہیں بنتا۔ گھر والوں نے میری کم عمری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ منگنی کردی تھی۔ تایا کی بڑی خواہش تھی کہ میں ان کے اکلوتے بیٹے کی بہو بنوں۔ خود تو اوپر پہنچ گئے، میرے نام کے ساتھ شاہ میر کا دم چھلا لگا گئے۔ مجھے اسے دیکھ کر سخت کوفت ہوتی ہے۔‘‘ ’’زنیرہ! تم میری کزن ہونے کے ساتھ ایک اچھی دوست بھی ہو۔ پلیز یہ فیروز کے ساتھ دوستی ختم کردو۔ اس سے تمہیں رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملنے کا۔ خالہ اور خالو کو پتا چل گیا تو انہیں کتنا دکھ پہنچے گا، تم انہیں کیا جواب دو گی؟‘‘ ’’میں جھوٹ بولنے کے بجائے اعتراف کرلوں گی کیونکہ فیروز مجھ سے سچی محبت کرتا ہے۔ وہ اوروں کی طرح میرے ساتھ وقت گزاری نہیں کررہا۔ وہ مجھ سے شادی کا خواہشمند ہے۔ منگنی کا کیا ہے، منگنی تو توڑی بھی جاسکتی ہے۔‘‘ زنیرہ فیصلہ کن لہجے میں بولی۔ ’’مجھے لگ رہا ہے تم سمجھنے سمجھانے کی حدود سے باہر نکل چکی ہو۔ یہ بتائو فیروز سے تمہاری بات چیت صرف فون تک محدود ہے یا تمہاری اس سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں؟‘‘ عروہ نے پوچھا۔ زنیرہ بتانے لگی کہ وہ فیروز سے کئی بار مل چکی ہے۔ فیروز کی والدہ اور بہنیں جلد ہی رشتہ لے کر آنے والی ہیں۔  ٭…٭…٭ کلثوم بانو نے گیٹ کھولا تو سامنے اجنبی خواتین کھڑی تھیں۔ ان کی آمد کا سبب جانتے ہوئے کلثوم بانو انہیں ڈرائنگ روم میں لے آئیں۔ ’’میری بیٹی کا رشتہ تو طے ہے۔ آپ نے خواہ مخواہ زحمت کی۔‘‘ کلثوم بانو اطمینان بھرے لہجے میں بولیں۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ آپ کی بیٹی نے آپ کو اپنے اور فیروز کے تعلق کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ آپ کی بیٹی اور میرے بیٹے فیروز کے درمیان بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔ دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ کی بیٹی زنیرہ نے ہماری آمد کے بارے میں نہیں بتایا۔‘‘ ’’نہیں۔ اس نے مجھ سے کوئی ذکر نہیں کیا۔‘‘ کلثوم بانو، فیروز کی والدہ رابعہ بیگم کی بات سنتے ہی صاف گوئی سے بولیں۔  ’’حیرت ہے آپ کی بیٹی اب تک آپ سے یہ بات چھپائے ہوئے ہے۔ اس کی میرے بھائی سے دوستی کو دو سال ہونے والے ہیں۔ اس نے خود فیروز کو بتایا تھا کہ اسے اپنا منگیتر ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ بہتر ہوگا کہ آپ میرے بھائی کے رشتے کو قبول کرتے ہوئے زنیرہ کی منگنی ختم کردیں۔ آپ کی بیٹی اور میرا بھائی دونوں ہی اکلوتے ہیں۔ ہمیں ان کی خواہش کو پورا کردینا چاہیے۔‘‘ فیروز کی بڑی بہن صبوحی نے اطمینان بھرے لہجے میں بات مکمل کی۔ کلثوم بانو نے فوراً کہا۔ ’’میں اپنی بیٹی کی منگنی کیوں ختم کردوں۔ میری بیٹی کا رشتہ سالوں پہلے اس کے تایازاد سے طے ہوچکا ہے۔ وہ آپ کے بھائی کی کیوں حوصلہ افزائی کرے گی کہ وہ اپنا رشتہ بھجوائے۔‘‘ ’’امی۔‘‘ کمرے کے دروازے سے زنیرہ کی آواز سنائی دی۔  کلثوم بانو معذرت کرتے ہوئے اٹھ گئیں۔ ’’یہ میں کیا سن رہی ہوں۔‘‘ وہ کمرے میں جاتے ہی زنیرہ سے دبی آواز میں مخاطب ہوئیں۔ ’’امی! جو آپ سن رہی ہیں وہ سچ ہے۔ میں فیروز سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے وہ پسند ہے۔‘‘ ’’بکواس بند کرو۔ پہلے میں ان خواتین کو چلتا کردوں پھر تم سے بات کرتی ہوں۔‘‘ وہ طیش بھرے لہجے میں بولیں۔ ’’آپ ایسا کچھ نہیں کریں گی۔ پلیز امی! آپ انکار نہیں کریں۔ آپ کہہ دیں کہ سوچ کر جواب دیں گی۔ ابو کو…‘‘ کلثوم بانو نے اس کی بات کاٹ دی۔ ’’خاموش رہو۔ تمہاری شرم تو مرچکی ہے۔ کس ڈھٹائی سے اپنی شادی کی بات کررہی ہو۔ یہ سب سجل کا کیا دھرا لگ رہا ہے۔ پہلے میں سجل کی چچی کو رخصت کردوں، تمہاری میں بعد میں خبر لیتی ہوں۔‘‘ ’’امی سنیں تو…‘‘ کلثوم بانو مزید کچھ کہے بغیر کمرے سے چلی گئیں۔ ان کے اور فیروز کی والدہ کے درمیان کیا گفتگو ہوئی، زنیرہ کو اس کی خبر نہ ہوسکی۔ ان کے جانے کے بعد کلثوم بانو نے چپ سادھ لی۔ زنیرہ ان کے کمرے میں پہنچی تو وہ اطمینان سے دوپٹے پر بیل ٹانکنے میں مصروف تھیں۔ ’’امی! آپ نے آنٹی کو انکار کیوں کیا۔ میں نے آپ کو منع بھی کیا تھا کہ آپ ان سے کچھ وقت لے کر سوچ لیں۔ میں ابو کو راضی کرلوں گی مگر آپ نے میری ایک نہیں سنی۔‘‘ ’’تمہیں خبر مل گئی۔ چلو اچھا ہوا۔ مجھے جو کرنا تھا، میں نے کردیا۔ بہتر ہوگا کہ تم یہ حقیقت تسلیم کرلو کہ شاہ میر تمہارا ہونے والا شوہر ہے۔ تمہارے ابو آتے ہی ہوں گے۔ آنے والے اتوار کو زاہدہ بھابی کو بلا کر تمہاری شادی کی تاریخ طے کرلیتے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے انہوں نے زنیرہ کے ہاتھ میں لیا ہوا موبائل جھپٹ لیا۔ ’’اب تم فیروز سے کوئی بات نہیں کرو گی۔ تمہارا یونیورسٹی جانا بھی بند، بہت پڑھ لیا تم نے۔‘‘ ’’امی! میرا موبائل واپس کریں۔ ایم اے فائنل کرنے کے بعد ہی میں شادی کروں گی۔ آپ کون ہوتی ہیں مجھے یونیورسٹی جانے سے روکنے والی!‘‘ کلثوم بانو بیٹی کے بدلتے ہوئے تیور دیکھ کر حیران تھیں۔ چند سالوں میں زنیرہ میں اس قدر تیزی آگئی تھی کہ وہ ان کے سامنے کھڑی زبان چلا رہی تھی۔ ’’زنیرہ! لگتا ہے کہ تم تمیز کے دائرے سے نکل چکی ہو۔ مجھ سے چھپ کر تم فیروز سے عشق کا چکر چلاتی رہیں اور بجائے شرمندہ ہونے کے میرے اقدام کو غلط کہہ رہی ہو۔ میں فیروز سے تمہاری شادی ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ ’’اور میں فیروز سے شادی کرکے رہوں گی۔‘‘ زنیرہ دوٹوک لہجے میں بولی۔ کلثوم بانو نے فوراً ایک تھپڑ اس کے گال پر جڑ دیا۔ ’’کلثوم! یہ تم کیا کررہی ہو؟‘‘ کلثوم بانو، زنیرہ کے گال پر دوسرا تھپڑ مارنے والی تھیں کہ اکرم علی کمرے میں آگئے۔ ’’آپ کو نہیں پتا زنیرہ کی حرکتوں کا! اس نے ہمارے اعتماد کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔‘‘ وہ روہانسے لہجے میں بولیں۔ ’’زنیرہ! تم اپنے کمرے میں جائو۔‘‘ اکرم علی نے کہا۔ زنیرہ باپ سے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اسے ان سے بات کرنے کے لیے یہ موقع مناسب نہیں لگ رہا تھا۔ وہ کچھ کہے بنا فوراً چلی گئی۔ اس کے کمرے سے نکلتے ہی کلثوم بانو نے ساری روداد سنا ڈالی۔ ’’یقین نہیں آرہا کہ زنیرہ ایسی احمقانہ حرکت کرسکتی ہے۔ تم خود سوچو کہ اگر زنیرہ نے اس لڑکے کی باتوں میں آکر کوئی غلط قدم اٹھا لیا تو کیا ہوگا؟ ہم دونوں خاندان والوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ہماری بچی تو بہت سیدھی تھی۔ جانے اسے کس نے یہ سبق پڑھایا ہے۔ آج کے بعد سے زنیرہ کا یونیورسٹی جانا بند اور لائو یہ موبائل مجھے دو۔‘‘ اکرم علی نے کلثوم بانو سے موبائل لے کر فوراً اس کی سم توڑ ڈالی۔ ٭…٭…٭ ’’ابو! مجھے آپ سے ضروری بات کرنا تھی۔‘‘ زنیرہ کی آواز سن کر اکرم علی نے نظر اٹھا کر اسے بغور دیکھا اور اپنے ہاتھوں میں پکڑا ہوا اخبار ایک طرف رکھتے ہوئے بولے۔ ’’جانتا ہوں کہ تمہیں مجھ سے کیا بات کرنی ہے۔‘‘ ’’ابو! میں شاہ میر سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ زنیرہ نے نظریں جھکا کر کہا۔ اکرم علی بیٹی کی ذہنی کیفیت کو سمجھ چکے تھے۔ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے زنیرہ کو سمجھانے لگے۔ ’’زنیرہ! تمہارا رشتہ شاہ میر سے سالوں پہلے طے پا گیا تھا۔ یہ اچانک تمہیں کیا ہوگیا۔ شاہ میر ایک اچھا لڑکا ہے۔ تم کسی انجان لڑکے کے پیچھے اس سے شادی سے انکار کررہی ہو۔ تمہارے نزدیک میری زبان کی کوئی اہمیت نہیں۔ میں بھابی سے انکار کرکے خاندان بھر میں رسوائی سمیٹنا نہیں چاہتا۔ اگر تمہیں میری عزت کا ذرا بھی خیال ہے تو خاموشی سے شاہ میر سے شادی کرلو۔ آج رات میں نے بھابی کو بلایا ہے، تمہاری شادی کی تاریخ طے کرنے کے لیے۔‘‘ ’’ابو! میں شاہ میر سے شادی نہیں کروں گی۔ مجھے اپنی پسند سے شادی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ آپ نے میری منگنی چودہ سال کی عمر میں کردی تھی۔ اس وقت مجھے شعور نہیں تھا۔ شاہ میر سے میری انڈر اسٹینڈنگ بالکل نہیں ہے۔ مجھے نہیں کرنی اس سے شادی۔‘‘ زنیرہ نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ ’’ٹھیک ہے تم یہ شادی مت کرو۔ میرا مرا ہوا منہ دیکھنے کے لیے تیار ہوجائو۔ مجھ میں لوگوں کی الٹی سیدھی باتیں سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔ تم نے اگر فیروز سے شادی کرنے کے لیے کوئی غلط قدم اٹھایا تو میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلوں گا۔‘‘ اکرم علی جذباتی لہجے میں بولے۔ زنیرہ جو سرکشی پر آمادہ تھی، ان کی بات سن کر کوئی جذباتی قدم اٹھانے سے باز رہی۔ اس دن کے بعد اس نے فیروز کے معاملے میں چپ سادھ لی۔ شادی کی تقریبات کا آغاز ہوا۔ سجل، زنیرہ کے مایوں کی تقریب میں شرکت کے لیے آئی۔ موقع ملتے ہی سجل نے زنیرہ کو بتایا کہ فیروز نے اس کی طرف سے مایوس ہونے کے بعد خودکشی کی کوشش کی تھی۔ بروقت طبی امداد کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔ ’’زنیرہ! تم نے فیروز کے ساتھ بے وفائی کی ہے۔ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘ سجل تمام تفصیل سنانے کے بعد جذباتی لہجے میں بولی۔ ’’سجل! تم فیروز کو سمجھانا وہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہ کرے۔ میں ابو کی وجہ سے مجبوراً شاہ میر سے شادی کررہی ہوں۔ ابو نے کہا تھا کہ وہ خودکشی کرلیں گے۔ مجھے اگر ابو کی فکر نہیں ہوتی تو میں فیروز کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی۔ سجل! تم کیا سمجھ رہی ہو میں اس شادی سے خوش ہوں۔‘‘ زنیرہ کے لہجے میں اداسی در آئی۔ ’’یہ سب انکل کی جذباتی بلیک میلنگ ہے کہ تم فیروز سے شادی کرنے سے باز رہو۔ اب بھی وقت ہے، تم اگر چاہو تو تمہاری شادی فیروز سے ہوسکتی ہے۔‘‘ ’’سجل! اس وقت میں کوئی جذباتی فیصلہ کرکے اپنے والدین کو رسوا نہیں کرنا چاہتی۔ میں نے ابو کی خواہش پوری کرنے کے لیے اپنی خواہش کی قربانی دے دی ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس موضوع پر اب مزید کوئی بات نہ کی جائے۔‘‘ زنیرہ نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے کہا۔ ’’بزدل! ترس آتا ہے مجھے تم جیسی لڑکیوں پر جو اپنے حق کے لیے کچھ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتیں۔‘‘ زیرلب بڑبڑاتے ہوئے سجل نے اپنا ہاتھ ملانے کے لیے اس کی طرف بڑھایا۔ ’’چلتی ہوں۔‘‘ سجل اس سے ہاتھ ملاتے ہی فوراً کمرے سے نکل گئی۔ شاہ میر کے ساتھ چند دنوں بعد زنیرہ کی نئی زندگی کی شروعات ہوئی مگر یہ زندگی مسرتوں سے عاری تھی۔ ہفتے کا دن تھا۔ زنیرہ معمول کے مطابق دوپہر کو سونے کے بعد اٹھی تو شام ہورہی تھی۔ زنیرہ نے کچن میں جاکر اپنے لیے چائے بنائی۔ چائے پی کر وہ کمرے میں بکھری چیزوں کو ترتیب سے رکھنے لگی۔ زنیرہ کو شاہ میر کی یہ عادت سخت بری لگتی تھی کہ وہ اپنی کوئی چیز جگہ پر رکھنے کا عادی نہیں تھا۔ مجبوراً زنیرہ کو یہ کام کرنا پڑتا تھا۔ زنیرہ بظاہر کام میں مصروف تھی مگر ذہن فیروز میں کھویا ہوا تھا۔ شاہ میر سے شادی ہونے کے بعد زنیرہ کا کوئی دن ایسا نہیں گزرا تھا جب اسے فیروز کی یاد نہ آئی ہو۔ ڈور بیل کی آواز سن کر زنیرہ، فیروز کے تصور سے فوراً باہر نکل آئی۔ دروازہ کھولتے ہی اسے شاہ میر کا سپاٹ چہرہ نظر آیا۔ زنیرہ کے سلام کا جواب دیتے ہوئے شاہ میر فلیٹ کے داخلی دروازے سے لائونج کی جانب بڑھ گیا۔ زنیرہ کی شاہ میر سے شادی کو صرف تین ماہ ہوئے تھے۔ زنیرہ دروازہ لاک کرکے شاہ میر کے پاس پہنچی تو وہ ٹی وی آن کرکے صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔ ’’آپ کے لیے چائے لائوں؟‘‘ زنیرہ نے پوچھا۔ ’’نہیں! ایک گلاس پانی لے آئو۔‘‘ زنیرہ فوراً کچن کی جانب بڑھ گئی۔ پانی پینے کے بعد شاہ میر، زنیرہ سے مخاطب ہوا۔ ’’آج میں آفس کے کام سے بینک گیا تھا، وہاں میری اتفاقیہ فیروز سے ملاقات ہوگئی۔ وہ دیکھتے ہی مجھ سے لپٹ گیا۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میری شادی ہوگئی ہے تو وہ کِھل اٹھا۔ میں نے آج رات کھانے کی دعوت دی ہے نو بجے تک کھانا تیار کرلینا۔‘‘ ’’یہ فیروز وہی ہے نا آپ کے بچپن کا دوست! جس کے متعلق آپ نے مجھے بتایا تھا کہ پچھلے پانچ سالوں سے آپ کا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ آپ نے پوچھا نہیں کہ وہ اتنے عرصے سے کہاں غائب تھا۔‘‘ ’’بقول اس کے اسے پتا نہیں تھا کہ میں سکھر سے یہاں شفٹ ہوچکا ہوں ورنہ وہ ضرور مجھ سے ملاقات کرتا۔ تم جاکر کھانے کی تیاری کرو۔‘‘ شاہ میر نے یہ کہتے ہوئے اپنی نظریں ٹی وی اسکرین پر جما دیں۔ زنیرہ اپنی اندررونی کیفیت کو چھپاتے ہوئے کچن میں جاکر کھانا پکانے میں مصروف ہوگئی۔ اس کا دل اندر سے لرز رہا تھا۔ کہیں یہ وہ فیروز تو نہیں جس کے نام سے اس کے دل کی دنیا آباد تھی۔ جس کے بغیر جینے کا تصور محال تھا۔ اس خیال کے آتے ہی زنیرہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ اگلے لمحے ذہن نے اس خیال کو جھٹک دیا۔ ایک نام کے کئی لوگ ہوتے ہیں، ضروری نہیں یہ وہی فیروز ہو جسے میں جانتی ہوں اور اب اسے ماضی کا گم گشتہ خزانہ سمجھ کر بھول جانا چاہتی ہوں۔ پیاز کاٹتے ہوئے زنیرہ کو شاہ میر پر غصہ آرہا تھا جس نے اسے بتائے بغیر دوست کو دعوت دے ڈالی تھی۔ اضطرابی کیفیت میں زنیرہ نے دو گھنٹے میں کھانا تیار کرلیا۔ پھر غسل کرکے نیا لباس پہنا اور ہلکا سا میک اَپ کرکے