تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
کرکٹ کرکٹ

کرکٹ کرکٹ

یونس خان، انڈر19 کرکٹرز کی کمان سنبھالیں گے؟ بابر اعظم کا ویرات کوہلی سے موازنہ ، درست یا غلط؟ کرس گیل، 500 چھکے لگانے والے پہلے کرکٹر بن گئے

پاکستان کرکٹ بورڈ، راہول ڈریوڈ کے ماڈل کو فالو کرتے ہوئے پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی کمانڈ سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ بیٹسمین یونس خان کو سونپنے پر غور کر رہا ہے۔ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس خان کو انڈر 19 ٹیم کا ہیڈ کوچ اور سابق ٹیسٹ اسپنر ندیم خان کو منیجر بنانے کی تجویز ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کہہ چکے ہیں کہ پی سی بی راہول ڈریوڈ ماڈل پر عملدرآمد کرے گا۔ جونیئر کھلاڑیوں کے لیے بڑے سابق کھلاڑیوں کو کوچ بنانے کے علاوہ کرکٹرز کو کمپیوٹر، تعلیم اور اخلاقیات کے بارے میں بھی بتایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس خان کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کی بات چیت ہوئی ہے۔ یونس خان اپنی شرائط پر جونیئر ٹیم کے لیے کام کرنے کے لئے رضامند ہیں۔ 2018ء میں پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ہیڈ کوچ منصور رانا اس وقت پاکستانی ٹیم کے اسسٹنٹ منیجر ہیں تاہم پی سی بی یونس خان کو جونیئر ٹیم کا نگراں بنا کر چاہتا ہے کہ گراس روٹ سے کھلاڑیوں کے ٹیلنٹ کو پالش کیا جائے۔ ماضی میں جونیئر سطح پر پاکستانی ٹیموں کی کوچنگ میں بندر بانٹ ہوتی تھی لیکن اب پاکستان کرکٹ بورڈ نے جونیئر ٹیم کو فوکس کرنے کا تہیہ کیا ہے تاکہ جونیئر لیول سے بنیاد کو مضبوط بنایا جائے۔ پی سی بی انتظامیہ نے پاکستان کی جونیئر ٹیموں کے کئی دوروں کا بھی انتظام کیا ہے۔ یونس خان شہریار خان کے دور میں کرکٹ کمیٹی میں رہ چکے ہیں۔ 2017ء میں پاکستان سپر لیگ کے دوران انہوں نے ایوارڈ کی تقریب میں شرکت نہیں کی تھی اور پی سی بی سے چیک لینے بھی انکار کر دیا تھا۔ 41سالہ یونس خان مئی2017ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد ریٹائر ہو گئے تھے۔ اس وقت وہ کراچی میں رہتے ہیں۔ یو بی ایل سے مستعفی ہونے کے بعد وہ پشاور زلمی کے بیٹنگ کوچ ہیں۔ یونس خان پاکستان کی جانب سے 118 ٹیسٹ میں ریکارڈ 10099 رنز بنا چکے ہیں جس میں 34سنچریاں شامل ہیں۔ وہ 265 ون ڈے انٹرنیشنل اور 25 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ یونس خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے 2009ء کا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا۔ ندیم خان سابق ٹیسٹ کپتان معین خان کے بڑے بھائی ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی پاکستان انڈر 19 ٹیم کے منیجر رہ چکے ہیں۔ احسان مانی کہہ چکے ہیں کہ کوئی بڑا کھلاڑی بڑا کوچ نہیں بن سکا ہے۔ یونس خان اپنے سخت گیر مؤقف اور مزاج کی وجہ سے کرکٹ کے حلقوں میں شہرت رکھتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ پی سی بی کی ڈیل کو حتمی شکل دے دی گئی تو وہ پہلے بڑے کھلاڑی ہوں گے جو پاکستان کی جونیئر ٹیم کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ عام طور پر بڑے کھلاڑی پاکستان کی سینئر ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہیں اور جونیئر ٹیم کی طرف بڑے کھلاڑیوں کا رجحان کم کم ہوتا ہے۔ پاکستانی بیٹسمین بابر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ ورات کوہلی جیسا بننا چاہتے ہیں لیکن اس وقت ان کا کوہلی سے موازنہ 'خوشامد کے سوا کچھ نہیں۔24 سالہ بابر اعظم نے اپنے انٹرنیشنل کیرئیر میں بہت کم وقت میں کئی کامیابیاں سمیٹ لی ہیں اور اس وقت آئی سی سی کی ٹی 20 رینکنگ میں پہلے نمبر پر موجود ہیں۔بابر اعظم کی ایک روزہ میچوں اور ٹی 20 میں اوسط 50 سے زائد ہے جب کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی اوسط 35.28 ہے۔ وارت کوہلی نے بھی ٹیسٹ کرکٹ کافی سست آغاز کیا لیکن اس وقت وہ آئی سی سی کی ٹیسٹ اور ون ڈے رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کرکٹ کے حلقوں بابر اعظم کا موازنہ وارت کوہلی سے شروع کیا جاتا ہے۔آئی سی سی کی ویب سائٹ کے مطابق بابر اعظم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 'کوہلی سے موازنہ میری خوشامد کے مترادف ہے۔۔۔کوہلی کا کھیلنے کا طریقہ کار بہت ہی اچھا ہے اور ان کی کارکردگی میں تسلسل ہے۔ وہ جب بھی بیٹنگ کے لیے آتا ہے تو 100 فیصد دیتا ہے۔بابر کے مطابق یہ ابھی ان کے کیرئیر کا آغاز ہے لیکن ان کا مقصد کوہلی جیسا بننا ہے۔2018 کے آغاز سے اب تک بابر اعظم پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 50.66کی اوسط سے 760 رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ مطمئن نہیں ہیں۔بابر کا کہنا ہے کہ 'میں مسلسل اپنی غلطیوں سے سیکھ رہا ہوں اور میں اپنے سینئرز اظہر علی اور اسد شفیق سے مشورے لیتا ہوں کیونکہ میں ٹیسٹ کرکٹ بہتر سے بہتر ہونا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی کی مہارت ، تحمل اور فٹنس کا نام ہے اور تمام طرز کی کرکٹ میں بہترین بننا ہی میرا مقصد ہے۔پاکستان کے کوچ مکی آرتھر بابر اعظم سے کافی متاثر ہیں اور ہمیشہ ان کی حمایت کرتے ہیں لیکن بابر اعظم کی حالیہ بہترین کارکردگی کے باوجود مکی آرتھر کا ماننا ہے کہ دنیا کو ابھی بابر کی بہترین صلاحیتیں دیکھنا باقی ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ بلے باز کرس گیل انٹرنیشنل کرکٹ میں 500 چھکے لگانے والے دنیا کے پہلے بیٹسمین بن گئے۔ پاکستان کے بوم بوم آفریدی 476 چھکے لگا کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان چوتھے ون ڈے انٹرنیشنل میں چھکوں کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا۔ انگلش ٹیم نے 24 چھکے لگا کر ایک اننگز میں زیادہ چھکوں کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ میچ میں مجموعی طور پر 46 چھکے لگے۔ ویسٹ انڈین بیٹسمین کرس گیل نے میچ میں 14 چھکے لگا کر ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا۔ وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ 506 چھکے لگانے والے بیٹسمین بن گئے۔ شاہد آفریدی 476 چھکوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ گیل ٹی 20 کرکٹ میں 103 چھکے لگا کر سر فہرست ہیں۔ ٹیسٹ میچز میں انہوں نے 98 اور ون ڈے انٹرنیشنل میں 305 چھکے لگائے ہیں۔ پاکستان کے بوم بوم شاہد آفریدی ون ڈے انٹرنیشنل میں 351 چھکوں کے ساتھ سر فہرست ہیں۔ انہوں نے ٹی 20 انٹرنیشنل میں 73 جبکہ ٹیسٹ میچز میں 52چھکے لگا رکھے ہیں۔ٹیسٹ میچز میں برینڈن میک کولم 107 اور ایڈم گلکرسٹ 100 چھکے لگا چکے ہیں جبکہ کرس گیل 98 چھکوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ ٹی20 انٹرنیشنل میں کرس گیل 103، مارٹن گپٹل 103 اور روہت شرما 102 چھکے لگا کر ٹاپ پوزیشنز پر ہیں جبکہ شاہد آفریدی بھی 73 چھکے لگا چکے ہیں۔ ماضی کے عظیم کھلاڑی اور کپتان سر ویوین رچرڈز نے ویسٹ انڈیز کو دو ورلڈ کپ جتوائے اور ان کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے ایک ورلڈ کپ فائنل کھیلا۔ اپنے دور میں بڑے بڑے بولروں کے چھکے چھڑانے والے ویوین رچرڈز سادہ طبیعت کے مالک ہیں۔ ان سے بات چیت کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ان میں انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ویون رچرڈ کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد کی کپتانی میں پاکستان آئی سی سی چیمپیٔنز ٹرافی جیت سکتا ہے تو اس سال پاکستان ورلڈ کپ بھی جیت سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں 4 سال سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔ سرفراز احمد بلاشبہ ذہین اور ورلڈ کلاس کپتان ہیں۔ یہی کسی اچھے اور زیرک کپتان کی نشانی ہے کہ وہ غلطیوں سے سیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرفراز کے پاس کئی ورلڈ کلاس ون ڈے کھلاڑی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ عمران خان کے بعد سرفراز احمد ورلڈ کپ جیتنے کے خواب کو سچ کر دیں۔ سابق ویسٹ انڈین کپتان نے کہا کہ عمران خان اور وسیم اکرم اپنے الگ زون کے کھلاڑی ہیں، ان کا سرفراز احمد سے موازنہ کرنا درست نہیں ہے۔ عمران خان اور وسیم اکرم کے ساتھ میں نے بہت کرکٹ کھیلی، ان کے پاس مختلف کوالٹی کے کھلاڑی تھے جبکہ سرفراز احمد کے پاس کئی میچ ونرز ہیں اور ان کی موجودہ ٹیم میں ورلڈ کپ جیتنے کی بھرپور صلاحیت ہے۔ سرفراز احمد کی قائدانہ صلاحیتوں کے بارے میں سر ویوین رچرڈز نے کہا کہ گراؤنڈ میں وہ کئی بار غصے میں دکھائی دیتا ہے اور کئی بار وہ چیخ و پکار کرتا ہے لیکن یہی اس کا قدرتی انداز ہے۔ ویون رچرڈ نے کہا کہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں جس طرح اس نے گری ہوئی ٹیم کو اٹھایا اور بھارت سے گروپ میچ ہارنے کے بعد اسے فائنل میں شکست دی، یہی ایک اچھے اور قابل کپتان کی نشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کلائیو لائیڈ کے ساتھ بہت کرکٹ کھیلی ہے۔ بڑا کپتان وہی ہے جسے کا ساتھی ڈریسنگ روم میں احترام کریں۔ سرفراز احمد ہر وقت ساتھی کھلاڑیوں سے مشورے کرتے رہتے ہیں، مجھے ان کی کپتانی میں کوئی شک نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی بار بڑے بڑے کھلاڑی غلطی کر جاتے ہیں لیکن کپتان کی نیت نیک ہونی چاہیے۔ ویوین رچرڈز نے کہا کہ عمران خان میرے دوست ہیں۔ انہوں نے جس طرح ورلڈ کپ جیتا وہ کوئی سوچ نہیں سکتا تھا، جب 1987 ء میں پاکستان فیورٹ تھا تو پاکستان ہوم گراؤنڈ پر سیمی فائنل ہار گیا لیکن جب کسی کو یقین نہیں تھا تو پاکستان ورلڈ کپ جیت گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کا کسی اور سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ بڑا لیڈر تھا اور امید ہے کہ اس کی لیڈر شپ میں پاکستان مزید ترقی کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے ہر بار پاکستانیوں نے محبت دی اور اس بار بھی میں پی ایس ایل کے لئے پاکستان جا رہا ہوں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے مجھے جس طرح محبت دی ہے میں اسے بھول نہیں سکتا ہوں۔ سر ویون رچرڈ نے کہا کہ ندیم عمر اور ان کے اہل خانہ، منیجر اعظم خان، معین خان سب میری فیملی کی طرح ہیں، یہاں مجھے گھر جیسا ماحول دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ڈگ آؤٹ میں ان کے ہمیشہ پُرجوش رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جو کھلاڑی میچ نہیں کھیل رہے ہیں ان کے لیے خوشی کا ماحول پیدا کیا جائے تاکہ جب میدان میں وکٹ گرے یا چھکا لگے تو نہ کھیلنے والے کھلاڑی بھی پُرجوش ہو کر میدان میں موجود ساتھی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے کہا انہیں خوشی ہے کہ وہ ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان بہترین فاسٹ بولرز کے لیے شہرت رکھتا ہے اور ان بولرز کی پی ایس ایل میں موجودگی اس ایونٹ کی اہمیت مزید بڑھا دیتی ہے۔ سری لنکن کرکٹ میں کرپشن کی تحقیقات کے دوران آئی سی سی نے عدم تعاون پر سابق سری لنکن کپتان سنتھ جے سوریا پر دو سال کی پابندی عائد کردی۔ آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ سے عدم تعاون سابق کپتان سنتھ جے سوریا کو مہنگا پڑگیا۔ آئی سی سی نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر دو سال کی پابندی عائد کردی۔ وہ کرکٹ سے متعلق کسی بھی سرگرمی کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔ آئی سی سی سری لنکن کرکٹ میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کر رہی ہے۔  14فروری کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف نہ صرف سیاسی محاذ کھولا گیا بلکہ تجارت اور اداکاروں پر پابندیوں کے علاوہ کھیل کے میدان میں بھی پاکستان کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے حکام کی جانب سے نہ صرف آئی سی سی سے ورلڈ کپ میں پاکستان سے میچز نہ کھیلنے سمیت پاکستان کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے کی باتیں بھی سامنے آئیں لیکن بھارت کو پاکستان کے حوالے سے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ خود بھارت میں بھی بڑے پیمانے پر مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سابق بھارتی کپتان ساروو گنگولی بھی اب میدان میں آگئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارت چاہے بھی تو پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ سے باہر نہیں کر سکتا۔ گنگولی نے کہا کہ آئی سی سی بھارت کے دباؤ میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گا، ایک فیصد بھی امکان نہیں کہ آئی سی سی بھارت کی بات مان لے۔ اگرچہ ان سطور کی اشاعت تک معاملات زیادہ واضح ہوچکے ہوں گے لیکن تادم تحریر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پاکستان میچز معمول کے مطابق کھیلے جائیں گے، ان کے شیڈول میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پیش نظر یہ افواہیں سامنے آئی تھیں کہ پاکستان میں پی ایس ایل میچز کے شیڈول میں تبدیلی کا امکان ہے۔ دبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے تمام افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’سب کچھ بہتر ہے، تمام میچز شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے۔‘ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان جاکر پی ایس ایل میچز کھیلنے سے انکار کر رہے ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ تمام بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان جا کر کھیلنے کے لیے تیار ہیں جبکہ اس حوالے سے فرنچائز مالکان نے بھی تصدیق کردی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تمام صورت حال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ضرورت پڑنے پر حکومت سے بات بھی کریں گے۔ احسان مانی نے پڑوسی ملک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت بھی کرکٹ میچز کی میزبانی کر رہا ہے اور وہاں تمام میچز شیڈول کے مطابق جاری ہیں اور اسی طرح ہمارے میچز بھی جاری رہیں گے۔