تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
سرینا ولیمز کاٹون خبر بن گیا

سرینا ولیمز کاٹون خبر بن گیا

امریکی ٹینس سپر اسٹار سرینا ولیمز ہمیشہ ہی اپنے بہترین کھیل، اشتہارات اور خواتین سمیت سیاہ فام افراد کے حقوق کے لیے بات کرنے کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔ سرینا ولیمز 23 بار گرینڈ سیلم جیت چکی ہیں جب کہ انہوں نے 6 مرتبہ یو ایس اوپن کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا ہے۔ گزشتہ برس ہونے والے یو ایس اوپن کے فائنل میں 37 سالہ سیرینا ولیمز کو جاپان کی نوجوان ٹینس اسٹار 21 سالہ ناؤمی اوساکا نے شکست دی تھی۔ اس میچ کے دوران سرینا ولیمز کو خراب کارکردگی دکھانے کی وجہ سے غصے میں بھی دیکھا گیا تھا اور انہوں نے متعدد بار میچ کے امپائر کو بھی جھاڑ پلادی تھی۔ امپائر کے ساتھ بدتمیزی سے بات کرنے کی وجہ سے سیرینا ولیمز کو کم سے کم تین بار میچ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی وارننگ بھی دی گئی تھی اور بالآخر انہیں اس میچ میں شکست بھی کھانی پڑی تھی۔ میچ ہارنے کے بعد سرینا ولیمز نے غصے سے اپنے ریکٹ کو زمین پر پٹخ کر توڑ دیا تھا اور میڈیا نے ان کے غصے کو براہ راست دکھایا تھا۔ سرینا ولیمز کے اسی غصے پر جہاں عالمی میڈیا میں ان کے ریکٹ توڑنے کی تصاویر شائع ہوئیں، وہیں آسٹریلیا کے معروف اخبار ’دی ہیرالڈ سن‘ نے ان کا ایک کارٹون بھی شائع کیا۔ اخبار میں شائع کیا گیا کارٹون سرینا ولیمز کے اسی غصے سے متاثر ہوکر بنایا گیا تھا۔ کارٹون میں سرینا ولیمز کو ٹینس ریکٹ توڑتے ہوئے اور انتہائی زور سے چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس کارٹوں میں سرینا ولیمز کو جہاں انتہائی وزن دار دکھایا گیا تھا، وہیں انہیں غصے سے چلاتے ہوئے ریکٹ کے اوپر چھلانگ لگاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ کارٹون میں سرینا ولیمز کے ہونٹ، ناک اور چہرے کو بے ڈھنگے انداز میں دکھایا گیا تھا جب کہ ان کے بالوں کو پونی ٹیل میں بند ہونے کے باوجود کسی گلدستے کی طرح ہوا میں اڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ دی ہیرالڈ سن میں شائع اسی کارٹون پر انتہائی سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔ عام افراد سمیت خود سرینا ولیمز نے بھی اس کارٹون کو اپنے خلاف نسلی تعصب اور خاتون کی جنسی ساخت کو خراب انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا تھا۔ کارٹون کو اخبار میں شائع کرنے کے بعد کئی افراد نے آسٹریلیا کے اخبارات پر نظر رکھنے والے ادارے کو شکایات کی تھیں اور اخبار کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لوگوں نے نہ صرف اخبار بلکہ کارٹون بنانے والے کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اب اخبارات پر نظر رکھنے والی آسٹریلین نیوز پیپرز تنظیم نے اس کارٹون پر لوگوں کی شکایت کو غیر اہم قرار دیا ہے۔