تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
اسٹوڈیو رائونڈ اپ

اسٹوڈیو رائونڈ اپ

اِک سیمینار میں، حب الوطنی کی باتیں پاکستانی تھیٹر بھی بولی وڈ سے پاک ہونے لگے فلم ’’جنون عشق‘‘ کا ٹریلر اور ”چک 302 “ کی تیاریاں

بھارتی جارحیت کا جواب جہاں پاک فوج نے 27؍ فروری کو ان کے دو جنگی طیارے مار گرا کر دیا، وہیں پر بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش پر پابندی بھی عائد کردی گئی۔ یہی نہیں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے پنجاب کے تھیٹروں پر بھارتی گانوں پر پرفارم کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا بھی اعلان کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے زیر نگرانی اس پابندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش پر اب پابندی ہے۔ تھیٹر میں بھارتی گانوں پر رقص نہیں ہوگا۔ نوٹیفیکیشن جاری ہوتے ہی پنجاب کے تھیٹروں نے اس پر عملدرآمد شروع کردیا۔ سینماؤں میں بھارتی فلموں کی نمائش ختم کردی گئی۔ پاکستانی فنکاروں نے بھی پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔ سینئر اداکار سہیل احمد، سید نور، صائمہ نور، پرویز کلیم، مسعود اختر، دیبا بیگم، زیبا محمد علی، شیبا بٹ، محمد نورالحسن، معمر رانا، چوہدری اعجاز کامران، انوررفیع، ساحرعلی بگا، میگھا، مدیحہ شاہ، ثناء، فخرامام، نور بخاری، ریچل خان، ماہ نور اور دیگر فنکاروں نے بھارتی جارحیت پر کہا کہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔ پوری قوم پاک آرمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔  لاہور پریس کلب کے زیر اہتمام بھارت میں پاکستانی فن و ثقافت اور کھیل پر پابندی کے بعد افواجِ پاکستان اور وطن عزیز سے اظہاریکجتی کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات جن میں اداکارہ ریما خان، ریشم، میرا، وارث بیگ، شاہدہ منی، راشد محمود، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، خواجہ نصیر، رانا عظیم اور نعیم حنیف سمیت دیگر نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان تھے۔ پاکستانی آرٹسٹوں نے پاکستان سے اپنی محبت کا والہانہ ثبوت دیا۔ اداکارہ میرا نے کہا کہ پاکستان کے لئے جان دے بھی سکتی ہوں اور جان لے بھی سکتی ہوں، جو بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا اس کی جان لے لیں گے، جب بھی پاکستان کا نام آتا ہے ،جذباتی ہو جاتی ہوں۔ اداکارہ میرا نے اعلان کیا کہ آج کے بعد کسی بھی بھارتی فلم میں کام نہیں کروں گی۔ میرے لئے سب سے پہلے پاکستان اور اس کی عزت ہے، جو لوگ بھارت میں پاکستان اور اپنی عزت نہیں کروا سکتے، ان کو وہاں جا کر کام کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایسے فنکاروں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔ پاکستان میوزک انڈسٹری کے صف اوّل کے گلوکار وارث بیگ نے کہا کہ عدنان سمیع نے پاکستان چھوڑا تو آج نہ ان کا یہاں اور نہ ہی بھارت میں کوئی نام لیتا ہے۔ مودی چائے بیچنے والا ہی رہے گا۔ مودی کو مشورہ ہے کہ اپنے چکر میں لوگوں کو نہ مروائے۔ سینئر اداکار راشد محمود نے کہا کہ ہمارے آباؤاجداد نے بڑی قربانیوں کے بعد یہ ملک حاصل کیا ہے۔ پاکستان نے مجھے شناخت دی، ہمارے فنکاروں کی دنیا میں پہچان اس ملک کی وجہ سے ہے۔ میری خوشیاں اور دکھ میری زمین سے منسلک ہیں۔ 26 سال پہلے مجھے اور خیام سرحدی کو جوہی چاولہ کے ساتھ پراجیکٹ کی آفر ہوئی تھی لیکن ہم نے انکار کر دیا تھا۔ اداکارہ ریما خان نے کہا کہ ہم ملک سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، جو جتنا بھی کیا جائے وہ کم ہے۔ بھارت کے کہے جملے ان کی پوری قوم کے لئے باعث ندامت ہیں۔ عمران خان کی بہترین تقریر پوری دنیا کے سامنے ہے۔ وزیراعظم عمران خان امن کی بات کرتے ہیں جبکہ ہمسایہ ملک ہمیشہ جنگ کی بات کرتا ہے۔ بھارت کے پاس نفرت اور جنگ ہے جس کا ثبوت کشمیر کی وادیوں میں نظر آتا ہے۔ بھارتی فلموں میں کام کرنا یا نہ کرنا بہت سطحی سی باتیں ہیں۔ سب کو اکٹھے ہوکر کشمیریوں کے لئے آواز اٹھانی ہے۔ عزت دار سے اگر اس کی عزت چھین لی جائے تو اس سے بڑی سزا کوئی نہیں ہوتی۔ ہمارے ملک کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔  گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ مجھے بھارتی ڈائریکٹر راج کمار ہیرانی نے اپنی فلم میں کام کی آفر کی تھی لیکن میں نے یہ آفر ٹھکرا دی اور کہا کہ میں ’’میڈ اِن پاکستان ہوں“۔ میں نے 200پاکستانی فلموں میں کام کیا ہے۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں، پاکستان کا سفیر بن کر جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو پیسے کے لالچ میں بھول جاتے ہیں، ان کے ساتھ وہاں کیا ہوتا ہے، میں نے ان کا حال دیکھا ہے۔ وہ فنکار ہم میں سے نہیں ہیں۔ ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں۔ ہم سرحدوں پر جان دینے والوں کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ اداکارہ ریشم نے کہا کہ پاکستانی فنکاروں پر نہ صرف پابندی لگائی جاتی ہے بلکہ ان کی تذلیل بھی کی جاتی ہے۔ مجھے اپنے سب فنکاروں سے بہت پیار ہے۔ کوئی بھی فنکار پاکستان کے لئے شرمندگی کا باعث نہ بنے۔ ریشم نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاک فوج کا کردار مثالی ہے۔ ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکہ ترنم نور جہاں نے جو ملک کے لئے کیا، وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ ہم کہتے ہیں ملک کی خاطر جان دے سکتے ہیں لیکن بھارت کے خلاف بات نہیں کرسکتے، جب بھی حالات خراب ہوتے ہیں تو یہ لوگ لاپتہ ہوجاتے ہیں۔ جن کو آج مدعو کیا گیا لیکن وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس سیمینار میں تشریف نہیں لائے۔ وہ بھارت کے خلاف بات نہیں کرسکتے، ان کا پیسہ کھاسکتے ہیں۔ افسوس ہے ایسے پاکستانی فنکاروں پر جو آج یہاں نہیں آئے۔ وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے اپنے خطاب میں ان تمام فنکاروں کو سیلوٹ پیش کیا جو سیمینار میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند قوم ہے، ہم امن کے خواہاں ہیں۔ فلم کے اندر ڈائیلاگ بولنا بہت آسان ہوتا ہے۔ بھارتی فلموں میں پاکستان مخالف ڈائیلاگز ہوتے ہیں۔ یہاں بیٹھا کوئی بھی شخص جنگ نہیں چاہتا۔ وزیراعظم عمران خان سے لے کر ریما خان، شاہدہ منی، وارث بیگ، راشد محمود، میرا، ریشم، ہر کوئی جنگ کے حق میں نہیں لیکن اگر جنگ ہم پر مسلط کی گئی تو ایسا جواب دیں گے کہ انڈیا کو سمجھ آجائے گی۔ بھارت کی پوری سوسائٹی ذہنی اپ سیٹ ہے۔ وزیر اطلاعات و ثقافت نے پاکستانی فنکاروں کو مشورہ دیا کہ اپنے ملک کے اندر گانے گاؤ اور فلموں میں کام کرو۔ شبانہ اعظمی اور جاوید اختر آئے تو گلدستہ لے کر گیا تھا تاکہ مثبت امیج اجاگر کیا جائے- جاوید اختر کو کہا ہم عزت دیتے ہیں، ادیبوں کے منہ پر سیاہی نہیں پھینکتے۔ پاکستان میں جو امن ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔ آج دشمن پر جو خوف ہے اس کے پیچھے پاک فوج ہے۔ ہم اپنی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سیمینار کے دوران بتایا گیا کہ چند پاکستانی گلوکاروں نے بھارت کے خلاف بات کرنے اور اس سیمینار میں شرکت سے معذرت کی ہے۔ بولی وڈ میں سب سے زیادہ کام کرنے والے فنکاروں میں راحت فتح علی خان، غلام علی، شفقت امانت علی خان، علی ظفر اور عاطف اسلم نے سیمینار میں جہاں شرکت کی دعوت قبول نہیں کی، وہیں بھارت کے خلاف کچھ کہنے سے بھی گریز کیا جس پر شرکاء کی جانب سے ان پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔  فلم پروڈیوسر خرم ریاض نے ایک ملاقات میں بتایا کہ دو فلموں کا اسکرپٹ اور میوزک مکمل کرلیا ہے۔ فلم میکنگ کے ساتھ ٹی وی پروڈکشن کو بھی جاری رکھا جائے گا۔ اسی لئے سال رواں میں چار فلموں کے ساتھ ڈرامہ سیریلز اور سٹ کام بنائے جائیں گے جن میں سے دو ویب سیریز کی ریکارڈنگ ماہ رواں میں شروع ہوجائے گی جن میں سے ایک کے رائٹر اور ڈائریکٹر ایم جاوید یوسف اور دوسری کے ابرار لودھی ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ان ویب سیریز کے ذریعے نئے ٹیلنٹ کو صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں کیونکہ فلم اور ٹی وی کے لئے نئے چہروں کے ساتھ باصلاحیت نوجوان رائٹر اور ڈائریکٹرز کی بھی اشد ضرورت ہے۔ فلم پروڈیوسر اعظم ملک پنجابی فلم ”چک 302 “ بنائیں گے۔ فلم کا اسکرپٹ مکمل کرلیا گیا ہے اور میوزک اسی ماہ شروع ہوجائےگا۔ اعظم ملک نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک ایکشن، رومانٹک اور میوزیکل فلم ہے جس کے ڈائریکٹر ایم جاوید یوسف اور رائٹر غلام عباس ہیں۔ فلم کی شوٹنگ ملتان میں ہوگی، جس کے لئے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ”یار ہمایوں گجر دا“ نامی فلم کے ساتھ میرا نام جوڑ رہے ہیں جس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ اعظم ملک نے کہا کہ ”چک 302“ سال رواں کی بہترین فلموں میں سے ایک ہوگی کیونکہ اسکرپٹ، میوزک، پروڈکشن کے لحاظ سے معیاری فلم ہوگی کیونکہ باکس آفس پر پنجابی فلم دیکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے مگر بدقسمتی سے ایک عرصہ سے معیاری پنجابی فلمیں نہیں بن رہیں۔ اسی لئے ذات برادری، غنڈہ گردی سے ہٹ کر موضوع پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کو پردہ اسکرین پر لوگ پسند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نامور اسٹارز کے علاوہ چند ایک نئے چہرے بھی فلم کا حصہ ہوں گے۔  ڈائریکٹر نسیم حیدر اور پروڈیوسر اصغر علی کی اردو فلم ”جنون عشق“ کا ٹریلر ریلیز کر دیا گیا۔ فلم کی نمائش اپریل میں کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ فلم کے رائٹر واجد زبیری اور موسیقار ایم ارشد ہیں۔ کاسٹ میں عدنان خان، ماہی خان، شاہد، ماہ نور، آفرین پری، لکی ڈیئر، اچھی خان، راشد محمود اور عامر قریشی شامل ہیں۔ ڈائریکٹر نسیم حیدر نے بتایا کہ فلم کی پوسٹ پروڈکشن تھائی لینڈ سے کرائی گئی ہے۔ فلم کی تشہیری مہم کا آغاز جلد کردیا جائے گا۔ موسیقار ایم ارشد نے کہا کہ اچھا میوزک فلم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس کی ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ بہت سی فلمیں ایسی ہیں جو گیتوں کی وجہ سے سپر ہٹ ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری آنے والی فلم ’’جنون عشق‘‘ کے گیت ماضی کی یاد تازہ کر دیں گے۔ راحت فتح علی خان، سائرہ نسیم اور حمیرا چنا سے گیت گوائے ہیں۔  شوبز کی ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ ماہرہ خان اور میرا کے درمیان طویل عرصے سے جمی برف پگھلنے لگی ہے۔ ماہرہ خان نے ٹوئٹر پر ڈائریکٹر عاصم رضا کی فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا۔ میں نے ’’پرے ہٹ لو‘‘ کا گانا دیکھا ہے۔ گانے میں تمام لوگوں نے اچھی پرفارمنس دی ہے لیکن ’’میرا جی‘‘ کی پرفارمنس اتنی زبردست ہے کہ آپ کی نظریں ان سے ہٹتی ہی نہیں۔ میرا نے اسکرین پر کسی کو نظر ہی نہیں آنے دیا۔ ماہرہ کی اس تعریف کے جواب میں اداکارہ میرا نے ماہرہ سے اپنی طویل دشمنی کا خاتمہ کرتے ہوئے کھلے دل سے ان کی تعریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا ماہرہ تم نے جو عزت اور محبت مجھے دی ہے، میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ اس کے ساتھ ہی میرا نے ماہرہ کی تعریفوں کے پُل باندھتے ہوئے کہا، ماہرہ جس مقام پر تم آج ہو ہمیں تم پر فخر ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اداکارہ میرا، ماہرہ خان کو کئی بار تنقید کا نشانہ بناچکی ہیں، یہاں تک کہ ماضی میں میرا نے ماہرہ کے خلاف طنز کے تیر برساتے ہوئے کہا تھا کہ ماہرہ خان شوبز سے وابستہ اداکاراؤں کے چولہے بند کرنے کا مشن لے کر اس شعبے میں آئی ہے۔ یاد رہے کہ فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ میں اداکار شہریار منور اور مایا علی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے جبکہ اداکارہ میرا بھی فلم میں ایک گانے میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرہ خان اور فواد خان بھی فلم میں مختصر کرداروں میں نظر آئیں گے۔ بین الاقوامی گلوکار شیر میاں داد اور ان کی اہلیہ پر اپنی ملازمہ پر تشدد کا الزام سامنے آیا۔ اس کے خلاف پولیس نے مقدمہ بھی درج کرلیا۔ شیر میاں داد نے اس الزام کے اگلے ہی روز عدالت سے اپنی ضمانت کراوئی اور لاہور پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کر ڈالی۔ شیر میاں داد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سبزہ زار لاہور میں ایک بچی پر تشدد کے واقعہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ سبزہ زار میں واقع مکان میری اہلیہ کا ہے جس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔ تھانہ سبزہ زار میں ایف آئی آر درج کی گئی جو میرا موقف سنے بغیر کاٹی گئی ہے، مخالفین نے میری اہلیہ کے گھر کی ملازمہ کو بلا کر اسے میرے خلاف اکسایا اور ایک سازش کے تحت میرے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ شیر میاں داد نے کہا کہ اس کیس سے میرا بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کوئی تعلق نہیں۔ اپنے مخالفین کو بے نقاب کروں گا اور ان کے نام بھی بتاؤں گا۔ یہ میرے خلاف ایک سازش کی گئی ہے۔ میرے ساتھ 12خاندانوں کا روزگار جڑا ہوا ہے۔ میں ایسے کسی بھی واقعے میں ملوث نہیں جس میں کسی بچی پر تشدد کیا گیا ہے۔ اس بچی کا میڈیکل کرایا جائے، اصل حقیقت سامنے آجائے گی۔ اس کیس کو اعلیٰ سطح پر لے کر جاؤں گا۔ شیر میاں داد نے کہا کہ فرزانہ کوثر نامی خاتون نے یہ سب کیا ہے، وہ اس سے پہلے بھی اپنے شوہر کے قتل کے مقدمے میں سزا کاٹ چکی ہے، اس کا ریکارڈ تو یہ ہے۔ شیر میاں داد نے کہا کہ کسی کے گھر پر نہ قبضہ کیا اور نہ ہی کسی پر تشدد کیا۔ کچھ لوگ میری شہرت سے خائف ہیں۔ انہوں نے جھوٹا پرچہ درج کروایا۔ وہ دن ان کی زندگی کا آخری دن ہوگا جب کسی حوا کی بیٹی پر ہاتھ اٹھاؤں۔ شیر میاں داد نے اپنے پرستاروں سے اپیل کی کہ وہ کسی دشمن کے پیچھے لگ کر میرے پیار کو اپنے دل سے نہ نکالیں۔ میری وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے اپیل ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیں تاکہ کوئی بھی آئندہ کسی آرٹسٹ کے خلاف جھوٹا پرچہ درج نہ کروا سکے۔ اسی روز لاہور آرٹس کونسل الحمراء کے زیراہتمام صوفی رنگ میوزک نائٹ کا انعقاد ہوا، جس میں قوال شیر میاں داد نے فرحانہ مقصود کے ہمراہ پرفارم کیا۔ پروگرام میں ایم فیاض صوفی ڈانس گروپ نے صوفی رقص بھی پیش کیا۔ مہمان خصوصی وزیر ثقافت فیاض الحسن چوہان تھے جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء اطہر علی خان، خالد غیاث، ثمن رائے، ذوالفقار زلفی، انس اسلم سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔